غریبوں کیلئے کم مالیت کے گھروں کی تعمیر پر ترجیحی بنیادوں پر کام جاری ہے،شوکت یوسفزئی

بدھ 27 اکتوبر 2021 00:03

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 اکتوبر2021ء) خیبر پختونخوا کے وزیر محنت و ثقافت و انسانی حقوق شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق غریبوں کیلئے کم مالیت کے گھروں کی تعمیر پر ترجیحی بنیادوں پر کام جاری ہے اور بہت جلد غریب عوام اس سکیم سے استفادہ حاصل کر سکیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبر پختونخوا میں سستے گھروں کی تعمیر کے حوالے سے اعلیٰ سطح اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر وزیر صوبائی وزیر خزانہ و صحت تیمور سلیم جھگڑا،وزیر ہاوسنگ ڈاکٹر امجدعلی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔محکمہ ہاوسنگ اور نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم اتھارٹی کے حکام نے اجلاس کو بریفنگ دی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں چھوٹے گھروں کی تعمیر سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا۔

اجلاس میں چھوٹے گھروں کیلئے اہل درخواست گزاروں اور اضلاع میں اراضی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سرکاری اراضی پر ساڑھے تین مرلے کے گھر تعمیر کئے جائینگے، جبکہ 10 ہزار فی مرلہ کے حساب سے جگہ دی جائیگی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایک گھر پر 18 لاکھ روپے کا خرچ آئیگا۔صوبائی وزیر نے اجلاس کو بتایا کہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کی سطح پر بھی ایک سروے کیا جائے اور یہ سروے محکمہ ہائوسنگ کے ساتھ ملکر مکمل کرکے اگلے اجلاس میں رپورٹ پیش کی جائے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں کافی بنجر زمین پڑی ہیں جس کو کار آمد بنا کر غریب عوام کو گھروں کی شکل میں ایک ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اس سکیم سے ہر غریب کو گھر کی سہولت میسر ہو جائیگی جو ہمارے لئے خوشی کا باعث ہو گی اور وزیر اعظم عمران کے وژن پر عمل در آمد بھی ہو جائیگا۔ اجلاس اگلے ہفتے منگل کے روز دوبارہ بلایا جائیگا۔

اس موقع پر وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ نجی شعبہ کو بھی اس منصوبے میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے اور بہت جلد گھروں کی تعمیر پر کام شروع کرد یا جائے گا۔صوبائی وزیر ہاوسنگ ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ محکمانہ کاروائی کو ٹائم فریم کے اندر مکمل کیا جائیگا اور ایک سال کے اندر گھروںکی تعمیر مکمل کرکے گھر درخواست گزاروں کے حوالے بھی کر دئیے جا ئینگے۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments