شمالی وزیرستان آپریشن ، نقصانات

بدھ مارچ

Sami Allah Dawar

سمیع اللہ داوڑ

وزیرستان میں فوجی آپریشن نہ کر نے کی اگر چہ تسلیاں دی جارہی ہیں لیکن حالات و واقعات کچھ ایسے پیدا ہو تے جارہے ہیں جو سیدھا آپریشن کی طرف جارہے ہیں ۔ اس آپریشن کے نتیجہ میں اُدھر وزیرستان اور پھر سارے پاکستان میں خون خرابہ کی لہر سے یقیناََ ہر پاکستانی میں تشویش کی لہر دوڑ جانا یقینی ہے۔میں اپنے قارئین اور اربابِ اختیار کی آگاہی کیلئے اس آپریشن کے نقصانات کے بارے میں عرض کر نا چاہتا ہو کہ جد و جہد آزادی کے دوران بھی ان لوگوں کی سرگرمیوں کو خاموش کرنے کیلئے انگریزوں نے کئی سالوں تک آپریشن کیا لیکن بے سود۔

Major R. Garattجو 1999-20میں شمالی وزیرستان میں پولیٹیکل ایجنٹ رہے وہ لکھتے ہیں کہ"Neither wise words nor . rupees will keep the Wazir on our side but a show of force will"۔
Major R.Garatکے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وزیرستانی نہ انگریزوں کی عیارانہ چالوں میں آتے ہیں اور نہ لالچ میں ، صرف ایک ہی راستہ ہے جو طاقت کے استعمال کا ہے۔

(جاری ہے)

اب طاقت کو کس حد تک استعمال کرنا چاہیے تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل ہو جائے اس کے بارے میں بر صغیر کے مشہور وائسرائے لارڈ کرزن لکھتے ہیں کہ ”وزیرستان کے مسئلہ کا ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ وزیرستان کے ایک سرے سے لیکر دوسرے سرے تک اس پر سٹیم رولر چلایا جائے تب یہ مسئلہ حل ہو گا لیکن میں وہ آدمی نہیں ہوں گا جو ایسا کرے“۔

کرزن کا مطلب یہ تھا کہ طاقت سے وزیرستان کو تب کنٹرول کیا جاسکتا ہے جب پورے وزیرستان ہی کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے تاکہ نہ رہے با نس نہ بجے گی بانسری ، لیکن ایسا کرنا ممکن نہیں۔ جنرل سرکینتھ و گرم 1936میں حکومت ہند کے چیف آف آرمی سٹاف تھے وزیرستانیوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ”جب اعلانِ جہاد ہو جائے تو یہ اپنا ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں“۔

وزیرستان پر نظر رکھنے والے اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ طالبانائزیشن کے سلسلے میں شمالی وزیرستان پر یہ پہلا آپریشن نہیں جو ہو نے جا رہا ہے بلکہ اگر ہم چھوٹے بڑے آپریشن کو ملا کر دیکھیں تو اس کی تعداد 60،70سے بڑ ھ جاتی ہے۔ وزیرستان میں شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جس میں ڈروں حملوں ، ہوائی جہازوں یا توپخانوں کی وجہ سے کسی گھر میں ماتم نہ ہو رہا ہو۔

توپوں اور ہوائی جہازوں کی اس گن گرج میں وزیرستان میں جو نئی نسل پر ورش پارہی ہے ان کی آنکھوں میں ابھی سے شعلے نظر آرہے ہیں۔وزیرستان میں اس متعدد آپریشن کے کامیابی کے اگرچہ اعلانات کئے جاتے ہیں اور وقتی طور پر حالات ٹھیک بھی ہو جاتے ہیں لیکن پھر وہی حالات پیدا ہو جاتے ہیں جو آپریشن سے پہلے ہو تے ہے جس کیلئے پھر آپریشن کرنا پڑ تا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں کئی آپریشن ہوئے جس میں کئی گاؤں مسمار ہو ئے اور دونوں اطراف سے کافی جانی اور مالی نقصان اُٹھانا پڑا لیکن پھر حالات اُسی نہج پر پہنچ جاتے ہے۔اسی طرح آپریشن راہ نجات میں بھی بے تحاشہ نقصان ہوا اور اللہ تعالیٰ کرے کہ حالات صحیح ہو جائے لیکن یہ ایک خیال ہے جو محال ہے۔ شمالی وزیرستان میں بھی اس 70,60آپریشن کے باوجود طالبان ختم نہ ہو سکے بلکہ اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

وزیرستان میں جب بھی آپریشن سے کام لیا گیا ہے تو اس کا اثر اُلٹا ہوا ہے۔ 2004میں ایک ناقص حکمت عملی کے تحت جنوبی وزیرستان میں آپریشن شروع کیا گیا اور بعد میں ایک معاہدہ کے باوجود نیک محمد کو مزائل سے شہید کردیا گیا جس کے رد عمل میں فوج پر حملے شروع ہو گئے جس کے نتیجہ میں بیت اللہ محسود نہایت طاقتور پوزیشن میں اُبھرا جس نے 2007میں پاکستان میں طالبان کو یکجا کر کے تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد ڈالی ۔

میں سمجھتا ہو کہ یہی آپریشن وہ غلطی تھی جس کی سزا ہم ابھی تک بھگت رہے ہیں حلانکہ نیک محمد کچھ اتنا مضبوط آدمی نہیں تھا جس سے نپٹنا مشکل ہو اُس کے پاس گنتی کے چند آدمی تھے لیکن امریکی دباؤ کی وجہ سے اُس کے خلاف آپریشن اور بعد میں اُس پر مزائل حملے نے اس گنتی کے چند طالبان کو لا محدود کردیا۔
ایک مختاط اندازے کے مطابق صرف شمالی وزیرستان میں طالبان سے منسلک مقامی لوگوں کی تعداد 25ہزار سے زیادہ ہے۔

اگر حمایتی اور ہم خیال لوگوں کو بھی ملایا جائے تو تعداد اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ حکیم اللہ محسود گروپ(محسود حلقہ) کی افرادی قوت بھی تقریباََ15ہزار سے زیادہ ہے ۔اگر تحریک طالبان کے دیگر علاقوں کے افراد بھی شمار کرلئے جائیں تو تعداد بہت بڑ ھ جاتی ہے۔ اسی طرح ملا نذیر کے پاس بھی تقریباََ15ہزار جنگجو ہیں۔ طالبان کے ان کمانڈروں کے درمیان اگرچہ اختلافات ہیں لیکن یہ اختلافات انتظامی نوعیت کے ہیں باقی Causeپر سب کا اتفاق ہے۔

اب شمالی وزیرستان آپریشن شروع کرنے سے پہلے مندرجہ ذیل حقیقتوں پر بھی ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچھنا چائیے؛
(1) : اگر اس آپریشن کا مطلب یہ ہو کہ طالبان کو ختم کردیا جائے گا تویہ ناممکن ہے چاہے اس ملک کی ساری زمین اُن کے خون سے رنگین ہو جائے لیکن اس کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔دوسری یہ کہ طالبان کی لڑائی براہ راست پاکستان سے نہیں بلکہ یہ امریکہ کی وار ان ٹیرر میں پاکستان کی مرکزی کردار کی وجہ سے ہے۔

تیسری یہ کہ یہ حالات تب تک رہیں گے جب تک امریکہ افغانستان میں رہے گا یا پاکستان کا وار ان ٹیرر میں یہی پوزیشن رہے گا۔ چھوتی یہ کہ شمالی وزیرستان کے طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر اور جنوبی وزیرستان کے طالبان کمانڈر ملا نذیر کے درمیان قربتیں بہت ہے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک بھی ہیں اور یہ دونوں کمانڈر حکومت پاکستان کے ساتھ معاہدوں میں بندھے ہوئے ہیں اور اپنے معاہدوں پر کاربند بھی ہیں۔

راہ نجات آپریشن کے دور ان جو بنیادی طور پر حکیم اللہ محسود کے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف تھا ان دو کمانڈروں نے حکومت پاکستان کے لئے کوئی نیا محاذ نہیں کھولا اور نہ ہی کوئی اور مسئلہ پیدا کیا ہے۔ اب بھی شمالی وزیرستان کے طالبان کمانڈروں کا کہنا ہے کہ ہم حتئی المقدور کوشش کرینگے کہ حکومت پاکستان سے ہماری لڑائی نہ ہوجائے کیونکہ یہ دونوں کی مفاد میں نہیں ۔

اس کے باوجود بھی اگر حکومت پاکستان نے شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کردیا تو چونکہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف تو جنوبی وزیرستان اور اورکزئی میں تو پہلے ہی سے آپریشن شروع ہے تواس کے ساتھ ساتھ شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر اور ممکنہ حد تک ملا نذیر بھی حکومت کے خلاف ہو جائینگے ۔چونکہ دُشمن کے دُشمن دوست ہو تے ہیں اور اگر Causeبھی مشترکہ ہو اور طالبان کے ماسٹر مائنڈ اور پالیسی میکر بھی اپنا کردار ادا کرے تو یہ بکھرے ہوئے کمانڈر یکجا بھی ہوسکتے ہیں۔


(2): شمالی وزیرستان کی چونکہ افغانستان کے ساتھ ایک طویل سرحد اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی سرحدات بنوں، ٹل ، کرم ایجنسی اور جنوبی وزیرستان سے بھی ملی ہوئی ہیں اس لئے طالبان آپریشن سے بچنے کیلئے یا اس جنگ کو وسعت دینے کیلئے ان علاقوں میں بھی داخل ہوکرکاروائیاں کرسکتے ہیں۔
(3): ہندوستان جو اسی تاک میں بیٹھا ہوا ہے کہ کب اور کس طرح پاکستان کو مسائل میں اُلجھا یا جائے تو یہ آپریشن افغانستان کے صوبہ خوست ، قندہار اور جلال آباد میں واقع انڈین قونصلیٹ کو اچھا موقع فراہم کر دے گا۔


(4): اس آپریشن کی وجہ سے افغان حکومت طالبان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے اُنہیں مددکا پیشکش کر سکتا ہے جس کے اشارے مل رہے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو یہ ہمارے لئے نہایت ہی خطر ناک بات ہوگی۔
میڈ یا میں یہ خبر آئی تھی کہ مذاکراتی کمیٹیوں کی تشکیل سے چند دن پہلے شمالی وزیرستان میں تمام عسکریت پسندگروپوں کا ایک اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر حکومت پاکستان ہم پر آپریشن کرے تو کیوں نہ ہم حامد کرزئی سے مدد کی آپیل کریں ۔

سارے گروپوں کی اتفاق سے ایک وفد تشکیل دیا گیا جو افغانستان کیا اور حامد کرزئی سے ملاقات کی ۔ حامد کرزئی نے اُنہیں مدد کی یقین دہانی کرائی۔ چونکہ افغانستان میں پہلے سے کافی طالبان رہائش پذیر ہے اگر اور بھی اپریشن کی وجہ سے افغانستان چلے گئے تویہی افغان حکومت اُنہیں سپورٹ دے گا اور ہمیں ہماری طرح جواب دے گا کہ جس علاقے میں طالبان ہیں ادھر افغان حکومت کا رٹ نہیں۔

یہ مسئلہ ہمارے لئے ایک ناسور بن جائے گا۔لیکن ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہم نے ھمیشہ Medicationکی بجائے Operationپر اکتفا کیا ہے۔ 1971میں بنگال میں ایسے پالیسی کو اپنا یا گیاتھا ۔طاقت کا بے پنا ہ استعمال کیا گیا ، توپوں کے منہ سے آگ کے گولے بر سائے گئے ،اپنوں پر فوج کشی کی گئی ،قتل و غارت ہوگئی لیکن توپوں نے امن کی بجائے بد امنی پھیلا دی یہاں تک کہ انہی لوگوں نے پاکستان کو دوٹکڑے کردیا جنہوں نے پاکستان کے حصول کیلئے بے پناہ قربانیاں دی تھیں۔

اور انہی لوگوں کی وجہ سے پاکستان کی 93000فوجی ہندوستان کے قیدی بنے ورنہ ہندوستان کی کہاکا مجال کہ پاکستان کے فوجیوں کو اتنے کثیر تعدا د میں جنگی قیدی بنائیں۔ اس لئے حکومت کو چائیے کہ ان حالات اور حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے شمالی وزیرستان کے محاذ کو نہ کھولے کیونکہ بہت سارے محاذوں پر لڑنا حکومت لئے مشکلات ہی پیدا کرے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Shumali Waziristan Operation Column By Sami Allah Dawar, the column was published on 12 March 2014. Sami Allah Dawar has written 47 columns on Urdu Point. Read all columns written by Sami Allah Dawar on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.