رابطہ پلوں کی خستہ حالی حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان

جمعہ مئی

 Nasir Alam

ناصرعالم

سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سمیت ضلع کے طو ل و عرض میں اس وقت بیشتر ایسے رابطہ پل موجود ہیں جو کئی علاقوں کے مابین رابطوں کا واحد ذریعہ ہیں مگر عرصہ درازسے یہ پل حکومتی عدم توجہی کا شکار ہیں جس کے سبب یہ پل انتہائی بدحالی اور خستہ حالی کا شکار ہوچکے ہیں، ان پلوں میں زیادہ تر محلوں کے اندر برساتی نالوں ا ورخوڑوں کے اوپر بچھائے گئے ہیں جوبیک وقت کئی محلوں اورعلاقوں کو آپس میں ملاتے ہیں اور انہی پلوں کے ذریعے لوگ بڑی آسانی کے ساتھ ایک محلے یا علاقے سے دوسرے علاقے تک جاتے ہیں ۔

۔
اس کے علاوہ ان پلوں پر سے گاڑیاں بھی گزرتی ہیں،یہ پل محلوں کے مابین رابطوں کا آسان اور واحد ذریعہ ہے جوعرصہ دراز سے حکومتی ذمہ داروں کی نظروں سے اوجھل ہیں جن میں مینگورہ شہر کاایک تاریخی پل بھی شامل ہے جو بیک وقت تین گنجان آباد علاقوں بنگلہ دیش،لنڈیکس اور گل کدہ کو ملاتا ہے جس پر سے دن رات لوگوں اورچھوٹی گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے،یہ پل کامران پل کے نام سے مشہو ر ہے، مینگورہ شہر کے وسط میں واقع تین محلوں کو ملانے والا یہ قدیم رابطہ پل بدحالی کا شکا رہوگیاہے جس کے باعث حفاظتی ریلنگ سے محروم اس پل سے پیدل چلنے والے افراد اور گاڑیوں کے گرنے کا خدشہ پیداہوگیاہے۔

(جاری ہے)

۔
مینگورہ شہر کے محلہ لنڈیکس میں واقع اورحکومتی اہلکاروں کی نظروں سے اوجھل کامران پل ایک عرصہ سے بدحالی کا شکار ہے،یہ پل تین محلوں بنگلہ دیش،لنڈیکس اور گل کدہ کو ملاتا ہے جس سے عوام کو آمدورفت میں کافی سہولت میسر ہے اس کے علاوہ اس پل پر گاڑیاں بھی گزرتی ہیں اس پل کو اس لئے تاریخی حیثیت حاصل ہے کہ یہ سابق قائم مقام وزیر اعظم چیف جسٹس (ر)ناصر الملک خان اورسابق تحصیل ناظم رفیع الملک خان کے والد مرحوم معروف سماجی شخصیت کامران خان کے نام سے منسوب ہے تاہم عرصہ دراز سے تاریخی اہمیت کا حامل یہ پل ذمہ دارو ں کی عدم توجہی کے سبب بدحالی کا شکار ہے،پل کے دونوں اطراف ریلنگ(جنگلہ) سے محروم ہیں جس سے پیدل چلنے والوں سمیت گاڑیوں کے گرنے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔

۔
مقامی لوگوں کا کہناہے کہ علاقے کے ایم پی اے نے اپنے محلے کے اندر اپنے گھر کے آس پاس کئی مضبوط رابطہ پل قائم کئے ہیں مگر اپنے محلے سے کچھ ہی فاصلہ پر موجود کامران پل کو یکسر نظر اندازکردیا ہے جو ایک قابل افسوس امر ہے،اس کے علاوہ علاقہ اجرنگ اورپانڑ دنگرام کو ملانے والے پل کی صورتحال بھی ابتر ہے،مینگورہ شہر اور آس پاس کے دیگر علاقوں میں موجود زیادہ تر پل حفاظتی ریلنگ یعنی جنگلوں سے محروم ہیں جس کے سبب ان پلوں پرسے گزرنے والے لوگوں اور گاڑیوں کے گرنے کے خدشات بڑ ھ رہے ہیں۔

۔
عوام کہتے ہیں کہ حکومتی ذمہ داروں نے تاحال ان پلوں کی طرف توجہ دینے کی زحمت تک گوارہ نہیں کی ہے،سوات کے کئی علاقوں میں ایسے پل بھی ہیں جن کی اونچائی کم ہونے کی وجہ سے ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے ساتھ زیر آب آجاتے ہیں اوربعض اوقات یہ پل سیلابی ریلوں کی نذر بھی ہوجاتے ہیں،اس کے علاوہ یہاں پر اب بھی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں پر رابطہ پل موجود ہی نہیں جس کے سبب عوام بڑے لمبے چکر کاٹ کر ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک جانے پر مجبور ہیں جس سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہورہاہے اور وہ بروقت ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک نہیں پہنچ پاتے لہٰذہ رابطہ پلوں سے محروم محلوں اور علاقوں میں نئے پل تعمیر کرنے کی اشدضرورت ہے،اس کے علاوہ مینگورہ شہر کے کئی محلوں کی گلیاں آج بھی اس قدربدحال ہیں جن پر اس جدید دور میں بھی آثار قدیمہ کا گمان گزرتاہے،ان گلی کوچوں کی تعمیر ومرمت پر کسی قسم کی توجہ نہیں دی جارہی ہے جس کے باعث ان گلیوں کی بدحالی میں مزید اضافہ ہورہاہے جو عوامی مشکلات کا سبب بن رہی ہیں،بارش کے وقت یہ گلیاں زیرآب آجاتی ہیں جبکہ خشک موسم میں یہاں سے دھول اور گردوغبار اڑتاہے جس میں سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے اور یہ گردوغبار اورآلودگی کئی قسم کے امراض کا سبب بھی بن رہے ہیں،ایک مسئلہ محلوں کے اندر غیر ضروری سپیڈ بیکروں کا ہے جو پیدل چلنے والوں کیلئے مشکلات کا سبب بن رہاہے اور خصوصاََ رات کے وقت معمرافراد کا ان سپیڈبریکروں کی وجہ سے چلنا پھرنامحال ہوجاتا ہے جبکہ ساتھ ساتھ سٹریٹ لائٹس کی عدم موجود گی معمر افراد کے اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنارہاہے۔

۔
مینگورہ شہر میں ایسے محلے بھی ہیں جو اس جدید دور میں سٹریٹ لائٹس جیسی سہولت سے محروم ہیں یہ محلے شام کے بعد اندھیروں میں ڈوبے نظر آتے ہیں مگر مقام افسوس ہے کہ کسی بھی حکومت نے یہ مسئلہ حل کرنے کیلئے بھی کو ئی اقدام نہیں کیا،پانی کی زنگ آلود پائپ لائنیں،بدحال گلی کوچے،خستہ حال رابطہ پل،صاف پانی کی قلت،زندگی کی بنیادی سہولیات کا بحران اور دیگر مسائل نے مل کر اہل علاقہ کو مشکلات سے دوچار کررکھاہے مگر اس کے باوجود بھی حکومت کو ان کے حال پرترس نہیں آتا اور نہ ہی حکمرانوں کو عوامی پریشانی کا احساس ہے تاہم مقامی لوگوں نے حکومت سے تمام تر مسائل کے حل،بنیادی سہولیات کی فراہمی، محلوں کو ملانے والے پلوں کی بدحالی دور کرنے سمیت نئے پلوں کی تعمیر،گلی کوچوں کی مرمت اور خصوصاََ کامران پل کی جدید طرزپر ازسرنوتعمیر ومرمت کامطالبہ کیا ہے۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

سوات کے مزید کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Rabita Pullon Ki Khasta Haali Hukumat Karkardagi Par Sawalia Nishan Column By Nasir Alam, the column was published on 29 May 2020. Nasir Alam has written 45 columns on Urdu Point. Read all columns written by Nasir Alam on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.