ترقیاتی منصوبوں کا رخ ادھر بھی ہونا چاہیے

پیر مارچ

Fayyaz Mehmood Khan

فیاض محمود خان

رحیم یارخان جوتین صوبوں کے سنگم پر واقع ہے اور تجارتی و زرعی لحاظ سے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔اس خوبصورت شہر میں آنے والے پردیسی جب یہاں پر ایک یا دوروز کے قیام میں شہر کی سڑکوں،بازاروں اور تجارتی مراکز کا دورہ کرکے کچھ نہ کچھ سوغات لیکر واپس جاتے ہیں تو انکی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کم از کم ایک بار پھر اس شہر میں آئیں اور ایک ہفتے تک رکیں تاکہ اس کی خوبصورتی اور یہاں کے ملنسار،محبت کرنے اور مہمان نواز لوگوں کی قربت زیادہ سے زیادہ حاصل کرسکیں۔


 لوگ یہاں کی صفائی ستھرائی اور کشادہ سڑکوں کے کنارے گرین بیلٹس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے جو تصویر کا صرف ایک ہی رخ ہے کہ شہر کا مشرقی حصہ خوبصورت،کارپیٹڈ کشادہ سڑکیں اور سٹریٹ لائٹس سے آراستہ ہے۔سڑکوں کے دونوں اطراف باقاعدہ فٹ پاتھ اور گرین بیلٹس ہیں، روزانہ 2 وقت عملہ صفائی سڑکوں اور فٹ پاتھ کی صفائی کے لیے تعینات ہیں گرین بیلٹس کو روزانہ پانی لگایاجاتاہے۔

(جاری ہے)

سڑکیں تالاب نہیں بنتیں، روزانہ پانی کا چھڑکاؤ اورتین مرتبہ صفائی وطیرہ بن چکاہے۔ اب اگر تصویر کے دوسرے رخ کا جائزہ لیاجائے تو شہر ی حصہ کے سائیڈ ایریازاور خصوصاً فیکٹری ایریا کو وزٹ کیاجائے جہاں پر انتظامیہ اور سیاسی نمائندگان لوگوں کو انکے بنیادی حقوق دینے میں یکسر ناکام ہوچکے ہیں۔ مرکزی شہر تمام ترسہولیات سے آراستہ جبکہ دوسری طرف ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، گندے پانی کے تالاب اور گردوغبار اسکی پہچان بن چکے ہیں اور لوگ سانس اور پیٹ کی مختلف بیماریوں میں مبتلاہورہے ہیں۔

 
شہر کے مغربی اور اہم ترین حصہ کی جانب تمام کاٹن فیکٹریز، سبزی وفروٹ منڈی، پاورلومز، آئل ملز،بس اسٹینڈ، مشروبات فیکٹریز، ایوان صنعت و تجارت،سوپ فیکٹریاں، گرڈ اسٹیشن اور بڑی بڑی گنجان آبادیاں موجود ہیں جو مقامی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن اور سیاسی چپقلش کے باعث محرومیوں سے دوچار ہے جہاں پر ترقیاتی کام ابتدائی مراحل میں ہی چھوڑ دیے جاتے ہیں۔

 سڑکیں ٹوٹنے کے بعد نوحہ کناں ہیں سیوریج کا نظام درہم برہم ہونے سے گلیاں تالاب اور سڑکیں کیچڑ سے لت پت رہتی ہیں۔گردوغبار، کچرے کے جابہ جا ڈھیر،بے ترتیب گلیاں اور دکانیں،تجاوزات کی بھرمار،بڑے بڑے گڑھے،پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، سٹریٹ لائٹ سے عاری سڑکیں، گلیاں اور محلے شہرکی محرومیوں اور انتظامیہ کے امتیازی سلوک کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

غرضیکہ شہر کا مغربی حصہ تمام تر بنیادی سہولتوں سے عاری ایک ترقی پذیر گاؤں کی مکمل تصویر دکھائی دیتاہے۔جہاں پر عرصہ37 سالوں سے ترقیاتی کاموں کی رفتار کچھوے کی چال سے بھی کہیں کم ہے۔ ایک مرتبہ سڑک کھودنے کے بعد اسے دوبارہ مرمت تک کرنا گوارہ نہیں کیاجاتا۔سڑکوں کی صفائی دیوانے کا خواب محسوس ہوتی ہے۔
مغربی حصہ میں کاروباری سینٹرز نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ رہائشی آبادیوں میں کاٹن فیکٹریز کی بھر مار نے مغربی حصہ کی آبادی کو زہریلے مادے، گیسز اور دھوئیں و گردوغبار کے سوا کچھ نہیں دیا جس سے مقامی آبادی مختلف مہلک امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔

جن کے علاج کے لیے ماہر ڈاکٹرز کی بجائے اتائیوں کی بھرمار ہے۔سڑک کنارے فٹ پاتھ کا تصور تک نہیں۔ گنجان آباد علاقوں کی صفائی مہینوں نہیں ہوتی جس کے باعث گلی کوچوں میں گندگی کے ڈھیر اور سیوریج کے ناقص نظام سے گلیاں تالاب کی شکل اختیار کرلیتی ہیں جہاں پر مچھروں کی بہتات اور تعفن سے لوگوں کا جینا دوبھر ہوچکاہے مگر کارپوریشن کی جانب سے ان علاقوں کی بہتری کے لیے کبھی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کے باعث لوگ دوردراز سے صاف پانی بھرنے پر مجبور ہیں۔ علاقے کے مکینوں کی تفریح کے لیے آج تک کوئی منصوبہ نہ بنایاگیاہے۔بچوں کی ذہنی و جسمانی تربیت کے لیے بھی کوئی گراؤنڈز یا پارک نام کی کوئی چیز ان آبادیوں کو فراہم نہیں کی گئی۔
چند سال قبل میگاسیوریج پراجیکٹ کی غرض سے کھودی گئی سڑکوں کو پنکچر لگاکر مرمت کیاگیا ہے۔

لغاری روڈ کو مرکزی بائی پاس روڈ سے منسلک کرنے کے لیے تھلی روڈ جسے تقریباً 15سال قبل مرمت کیاگیاتھا اس بری طرح گھائل ہوچکی ہے کہ اس پر سفر کرنیو الے افراد سمیت گاڑیاں بھی کئی کئی روز تک اصلی حالت میں نہیں آسکتیں اور ان رہائشی علاقوں کے لوگوں نے 15سالوں میں کوئی 15ہزار سے زائد احتجاجی مظاہرے کیے ہونگے، انتظامیہ کو جگانے کی بھرپور کوششیں کیں مگر ترقیاتی کاموں کا ریلا اس جانب رخ کرنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

 
یہی حال حسین آباد روڈ اور اسلامیہ کالونی روڈ سمیت چڑیاگھرکے قریب سے گزرکر صادق آباد جانے والی سڑک35 سالوں سے آج بھی کچاصادق آباد روڈ کہلاتاہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ یہاں کے مکین احتجاج کرنے سے بھی عاجز آچکے ہیں اور احتجاج کو بھینس کے آگے بین بجانا کی مثال دینے لگے ہیں۔ لوگوں کا کہناہے کہ ضلعی انتظامیہ اور سیاستدانوں نے صدیوں پرانی مثال کہ ”بچہ روئے گاتو ماں دودھ دے گی“ کو بھی غلط قراردے دیاہے۔

یہاں کے لوگ تو روروکر اپنی آنکھوں کا نور تک ضائع کرچکے ہیں مگر انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوئی اور ترقیاتی کاموں کا دھارا صرف ایک خاص حد تک ہی محدود کردیاگیاہے جہاں پر ایک ہی سڑک کو باربار بناکر اس قدر اونچا کردیاگیاہے کہ قریبی رہائشی علاقے نشیبی علاقے کہلانے لگے ہیں۔
لہذا انتظامیہ اور سیاسی قائدین کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ وہ رحیم یارخان کے اس اہم حصہ کو بھی سنجیدگی سے دیکھیں اور ان گنجان آبادیوں، علاقوں کو وہ تمام بنیادی سہولیات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کریں جو انکا حق ہے اور جن کی خاطر لوگ آواز بلند کرکرکے تھک ہارگئے ہیں۔ وہ تمام سہولیات مہیا کی جائیں تاکہ عوامی محرومیوں کا ازالہ کیاجاسکے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Taraqiati Mansoobon Ka Rukh Idhar Bhi Hona Chahiye Column By Fayyaz Mehmood Khan, the column was published on 02 March 2020. Fayyaz Mehmood Khan has written 5 columns on Urdu Point. Read all columns written by Fayyaz Mehmood Khan on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.