عابد علی

وہ اپنی ذات میں اداکاری کا سکول تھے

پیر ستمبر

Abid Ali
وقار اشرف
عابد علی کا شمار فلم،ٹی وی ،ریڈیو اور تھیٹر کے ان فنکاروں میں ہوتا تھا جن کا فن اپنے ہونے کی نہ صرف گواہی دیتا تھا بلکہ ناظرین سے اپنی خوبصورتی کا خراج بھی وصول کرتا تھا۔انہیں شوبز کی دُنیا کا اثاثہ اور قابل فخر ورثہ قرار دیا جا سکتا ہے اس لئے پاکستانی ڈرامہ کی تاریخ مرتب کرنے والوں کے لئے عابد علی کا ذکر نہ کرنا ممکن ہی نہیں۔

ان کی اداکاری اس قدر فطری ہوتی تھی کہ دیکھنے والے کو گمان بھی نہ ہوتا کہ ان کے سامنے ”اداکاری“کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔مکالموں کی ادائیگی ،آواز کے اتار چڑھاؤ اور چہرے کے تاثرات سے وہ اپنا ہر ”مکمل“کر دیتے تھے۔وہ جب سکرین پر آتے تو سارا ڈرامہ ہی اس کے اردگرد گھومتا دکھائی دیتا۔انہیں نئے فنکاروں کے لئے درسگاہ کا درجہ حاصل تھا۔

(جاری ہے)

ان کے انتقال سے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری ایک حقیقی فنکار سے محروم ہو گئی ہے۔


67سالہ لیجنڈ اداکار جگر کے کینسر میں مبتلا اور کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔29مارچ1952ء کو کوئٹہ میں پیدا ہونے والے عابد علی کو کہانی کہنے کا بچپن سے ہی شوق تھا اور یہی شوق انہیں ریڈیو پاکستان کوئٹہ لے گیا لیکن وہ صرف صداکار بننے کے لیے نہیں آئے تھے اس لئے 1970ء کی دہائی میں وہ لاہور آگئے اور 1973ء میں پی ٹی وی لاہور مرکزی ڈرامہ سیریل”جھوک سیال“سے ایکٹنگ کیریئرکا آغازکردیا،اس ڈرامہ نے انہیں نہ صرف شناخت دی بلکہ ڈرامہ کی تاریخ میں کئی نئے رُجحان بھی متعارف کروائے،اس کے بعد پھر عابد علی نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ٹی وی پر تقریباً 46سالہ کیریئرکے دوران اَن گنت ڈراموں میں کئی یادگار کردار نبھائے جو ان کی پہچان بھی بنے۔

لیکن امجد اسلام امجد کا لکھا ہوا ڈرامہ”وارث“ان کی شناخت بن گیا جس کی ہدایات نصرت ٹھا کرنے دی تھیں اور اس میں انہوں نے دلاور خان کے کردار کو اپنی جاندار اداکاری سے امر کر دیا،یہ ڈرامہ آج بھی پی ٹی وی کے کلاسک ڈراموں میں شمار ہوتا ہے ۔
ان کے مقبول ڈراموں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں سمندر (1983)،آن (1984)،ہزاروں راستے(1986)،سورج کے ساتھ ساتھ(1987)،پیاس(1987)،خواہش(1990)،
دوریاں (1991)،مہندی(2003)،مورت(2004)، بنٹی آئی لو یو(2013)،رُخصتی (2014)،دیاردل(2015)،کچھ نہ کہو(2016)،ناگن(2017)،پنجرہ(2017)،دلدل (2017)،تجدیدوفا(2018)،آنگن(2018)،سیرت (2018)پیاس،دشت ،رُخصتی ،خان صاحب،کچھ نہ کہو،جلتے گلاب ،دلدل ،آنگن،دل نادان،گستاخ عشق،دل آراء اور دل کیا کرے نمایاں ہیں ۔

آج کل بھی ان کے تین ڈرامے”میرا رب وارث“،”رمز عشق“اور ”دل کیا کرے“نجی چینل سے آن ائیر ہیں۔
1990ء میں جب پاکستان میں پہلے نجی ٹی وی چینل”این ٹی ایم“کی نشریات شروع ہوئیں تو بطور ڈائریکٹر اور پروڈیوسر پہلی نجی پر وڈکشن”دوریاں“بھی عابد علی کی تھی ،یہ ڈرامہ 1991ء میں آن ایئر ہوا تھا،اس کے بعد بھی انہوں نے کئی مزید کا میاب ڈرامے پروڈیوس کیے جن میں دشت(1993)، دوسرا آسمان(1993)،اور ہوا پہ رقص(2002)قابل ذکر ہیں۔

ان ڈراموں میں انہوں نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جو پی ٹی وی پر نہیں چل سکتے تھے۔”دوسرا آسمان “بیرون ملک شوٹ ہونے والا پہلا پاکستانی ڈرامہ تھا۔2000ء میں ملک میں نجی چینلز کی آمد کے بعد انہوں نے”گولڈ برج میڈیا“کے نام سے اپنی ایک پروڈکشن کمپنی بھی قائم کی جس کے تحت کئی کمرشل سوپ اوپر ابنائے جن میں”ماسی اور ملکہ“(2009)نے بہت شہرت حاصل کی تھی۔


انہوں نے اپنے پروڈیوس کیے اور بیشتر ڈراموں میں خود بھی اداکاری کی۔مستنصر حسین تارڑ کے لکھے ہوئے ڈرامے ہزاروں راستے“میں بھی انہوں نے اداکاری کی تھی جسے راشد ڈار نے پروڈیوس کیا تھا،اس کے بعد مستنصر حسین تارڑ کے ہی لکھے ہوئے ڈرامے”سورج کے ساتھ ساتھ “میں بھی کمال کی اداکاری کی تھی۔اس کے علاوہ انہوں نے حسن نثار کی لکھی ہوئی ایک ڈرامہ سیریل میں بھی اداکاری کی تھی جس کے دیگر فنکاروں میں فردوس جمال، غیور اختر،اسد ملک،رشید ناز،زیبا بختیار،ضیا خان،عذر ا آفتاب،دیبابیگم اور صبیحہ خانم شامل تھیں ۔

شامل خان اور ایمان علی کا وہ پہلا سیریل تھا جسے ڈائریکٹ بھی عابد علی نے کیا تھا۔
ٹی وی کے ساتھ ساتھ عابد علی نے 200کے لگ بھگ فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے اور زیادہ تر کریکٹر ایکٹر کے طور پر کام کرنے کوترجیح دی۔1970ء کی دہائی میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے فلموں کے لیے بنائے گئے ادارے“نیفڈیک“کی جانب سے بنائی گئی واحد فلم ”خاک اور خون“میں بھی انہوں نے اداکاری کی تھی۔

ان کی دیگر اہم فلموں میں گمنام(1983)،روٹی (1988)،انسانیت کے دشمن(1990)، کالے چور(1991)،وطن کے رکھوالے(1991)، کوبرا (1991)،فتح(1992)،جنگل کا قانون(1995)موسیٰ خان (2001)خون ،آواز ،نگینہ ،کالے چور ،کو برا،شیر پنجاب دا اور ہیر مان جا شامل ہیں۔”ہیر مان جا“عید الاضحی پر ریلیز ہوئی اور ابھی تک کئی سینماؤں میں چل رہی ہے ،اس فلم کے ذریعے ان کی تقریباً پندرہ سال بعد سلور سکرین پر واپسی ہوئی تھی۔

اپنے فنی سفر کے دوران انہوں نے تھیٹر پر بھی کام کیا تھا بالخصوص لاہور میں الحمراء کے پرانے ہال میں انہوں نے کئی ڈرامے کئے تھے جن میں ان کی حقیقت سے قریب تراداکاری کو سب نے سراہا تھا۔انہوں نے ہر طرح کے کردار کئے،19سال کی عمر میں پی ٹی وی پر65 سال کے بوڑھے کا کردار بھی نہایت خوبصورتی سے کیا تھا جسے بے حد پسند کیا گیا تھا۔
ریڈیو،ٹیلی ویژن اور فلم کے شعبے میں گرانقدر خدمات کے اعتراف میں 1985ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں صدارتی ایوارڈبرائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا تھا۔

اس کے علاوہ سات مرتبہ پی ٹی وی ایوارڈ کے لئے نامزد اور دوبار پی ٹی وی ایوارڈ ان کے نام ہوا۔عابد علی نے اپنے ڈرامے”جھوک سیال “کی ہیروئن اداکارہ اور گلوکارہ حمیرا چوہدری سے پہلی شادی کی جن سے ان کی تین بیٹیاں مریم علی،ایمان علی اور رحمہ علی ہیں۔ایمان علی نے ماڈلنگ کے ساتھ ساتھ کئی فلموں میں بھی کام کیا ہے جبکہ مریم علی ایک تھیٹر آرٹسٹ اور رحمہ علی اداکاری اور گلوکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

2000ء کی دہائی کے وسط میں انہوں نے اداکارہ رابعہ نورین سے دوسری شادی کی جو عابد علی کے ساتھ رابعہ کی بھی دوسری شادی تھی،اس کے بعد سے عابد علی مستقل طور پر کراچی ہی میں سکونت اختیار کیے ہوئے تھے جبکہ حمیرا اپنی بیٹیوں کے ساتھ لاہور میں مقیم ہیں۔
عابد علی کی وفات پر جہاں ان کے اہل خانہ رنجیدہ ہیں تو وہیں فنکاروں نے بھی گہرے رنج کا اظہار کیا ہے ۔

اداکارہ عائشہ عمر کے مطابق عابد علی کی شوبز انڈسٹری کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ہمایوں سعید کا کہنا ہے کہ عابد علی نہ صرف لیجنڈری اداکار بلکہ بہترین انسان بھی تھے،ہم انہیں کبھی نہیں بھولیں گے۔اداکارہ صباقمر کے مطابق میں ان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کبھی نہیں بھلا پاؤں گی۔اداکار شان نے کہا کہ عابد علی ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے اپنے فن سے ہمارے دل ودماغ میں مستقل جگہ بنالی۔

ہمارا آخری سلام آپ کے لیے، خدا آپ کو جنت الفردوس میں جگہ دے ۔محمد قوی خان،عرفان کھوسٹ ،فردوس جمال،انور مقصود،سہیل اصغر ،بشریٰ انصاری ،امجد اسلام امجد،شائستہ جبیں ،نعمان اعجاز ،عتیقہ اوڈھو،ثانیہ سعید ،منور سعید ،کنول نعمان،سیمی راحیل ،سہیل احمد ،دانش تیمور ،میکال ذوالفقار ،عدنان صدیقی،ماریہ واسطی ،ریشم ،بابر علی ،ریماخان ،سید نور ،سعود،شاہد ،ندیم بیگ،سنگیتا،بہار بیگم ،ماوراحسین ،مایا علی ،حریم فاروق ،عثمان خالد بٹ،ارمینا خان،مہوش حیات ،امین اقبال ،زارا شیخ ،عمائمہ ملک ،فہد مصطفی اور دیگر نے بھی عابد علی کی وفات کو انڈسٹری کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک بڑے فنکار اور بہترین انسان تھے۔
عابد علی کی تدفین کے معاملے پر ان کی دونوں فیملیز میں شدید اختلافات سامنے آئے۔رحمہ علی نے انسٹا گرام پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں انہوں نے اپنی سوتیلی والدہ پرالزام عائد کیا کہ وہ بغیر بتائے ہسپتال سے والد کی میت لے گئیں۔بعد ازاں کچھ دیر بعد رحمہ علی نے اپنے اکاؤنٹ سے یہ ویڈیو حذف کردی جس کی وضاحت انہوں نے انسٹا گرام اسٹوری پر دی کہ انہوں نے عارضی طور پر اس پوسٹ کو چھپایا ہے کیونکہ کچھ لوگ اس پر بیہودہ باتیں کررہے تھے انہیں شرم آنی چاہیے۔

عابد علی نے نماز جنازہ ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی عاشق مسجد میں ادا کی گئی،نماز جنازہ میں نامور اداکار قوی خان،عجیب گل ،عمیر لغاری ،دانش نواز،تنویر جمال ،فیصل قریشی ،شہزاد رضا،عمران رضا،اسلم شیخ سمیت سماجی و شوبز شخصیات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔بعد ازاں عابد علی کا جسد خاکی آہوں اور سسکیوں کے ساتھ بحریہ ٹاؤن کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔عابد علی کی بیٹیوں ایمان علی اور رحمہ علی نے اپنے والد کا آخری دیدار بھی نماز جنازہ کے بعد مسجد عاشق میں ہی کیا ۔

Your Thoughts and Comments