کرسٹن سٹیورٹ خوبصورتی کا استعارہ

شہرت نے دماغ خراب نہیں کیا

ہفتہ ستمبر

kristen stewart - Khobsorti Ka Isteara
وقاراشرف
شوبز کی رنگا رنگ دُنیا میں ایسے فنکاروں کی کمی نہیں جو عمر بھر کام کرنے کے باوجود کم وبیش گمنام ہی رہتے ہیں۔لیکن کچھ ایسے خوش قسمت بھی ہوتے ہیں کہ پردہ سکرین سے سیدھے شہرت کے ساتویں آسمان تک جا پہنچتے ہیں اور ان کی تابندگی عرصہ دراز تک فلم بینوں کی آنکھوں کو خیرہ کرتی رہتی ہے۔ہالی وڈ میں ایسی فنکاراؤں کی ایک طویل فہرست ہے ۔

کرسٹن سٹیورٹ کا شمار بھی ایسی ہی فنکاراؤں میں ہوتا ہے جن پر”ٹویلائٹ سا گا“کے بعد قسمت اور شہرت کی دیوی ایسی مہربان ہوئی کہ اس سر وقامت اور خوبرواداکارہ نے پھر پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔چائلڈ سٹار سے لے کر”ٹویلائٹ“سیریز کی ہیروئن تک ہمیشہ چیلنجنگ کردار ہی کئے ہیں۔
امریکی ریاست کیلی فورنیا میں 9اپریل1990ء کو پیدا ہونے والی کرسٹن جیمز سٹیورٹ کو پیدائشی اداکارہ بھی قرار دیا جائے تو بے جانہ ہو گا کیونکہ ان کے والدین بھی ہالی وڈ سے وابستہ تھے۔

(جاری ہے)

والد جان سٹیورٹ سٹیج مینجراور ٹی وی پروڈیوسر تھے جبکہ والدہ سکرپٹ سپروائزر اور فلم ڈائریکٹر تھیں،اس طرح انہیں شوبز کا ماحول بچپن سے ہی ملا لیکن والد ین کی طرح وہ بھی کیمرے کے پیچھے رہ کر ہی بطور کہانی نویس یا ڈائریکٹر کام کرنا چاہتی تھیں اور اداکارہ بننے کے بارے میں نہیں سوچا تھا،قسمت نے 8سال کی عمر میں انہیں اداکاراؤں کی صف میں لاکھڑا کیا۔


ڈزنی چینل کی ایک فلم میں پہلی بار اداکاری کا موقع ملا جس میں اگر چہ ان کا کردار زیادہ اہم نہیں تھا پھر ”دی تھرٹین ایئر“میں کام کیا لیکن پہلی قابل ذکر فلم ”کیچ ڈیٹ کڈ“2004ء میں ریلیز ہوئی ،اس وقت سٹیورٹ کی عمر14سال تھی ،اس کے بعد بھی کئی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔لیکن”ٹویلائٹ ساگا“نے راتوں رات سُپر سٹار بنا دیا جس کی کہانی ایک ناول سے ماخوذ ہے جب ایک لڑکی ایک ویمپائر کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔

”ٹویلا ئٹ ساگا“کی دوسری فلم ”نیو مون“2009ء میں ریلیز ہوئی اور پہلی فلم سے بھی زیادہ کامیاب تھی ،اس فلم نے صرف امریکہ میں باکس آفس پر 290ملین ڈالر کا بزنس کیا تھا۔ٹویلائٹ سلسلے کی چوتھی فلم 2012ء میں ریلیز ہوئی جس نے صرف پہلے ہی ہفتے میں 140ملین ڈالرکا بزنس کر لیا تھا۔2008ء ان کے لئے کامیابیوں کا سال ثابت ہوا جب وہ رابرٹ ڈی نیروکے ساتھ فلم”وٹ جسٹ ہیپنڈ“میں جلوہ گر ہوئیں۔

کرسٹن سٹیورٹ نے فلموں میں مختلف نوعیت کے کر دار کر کے خود کو ورسٹائل فنکار ہ ثابت کیا ہے۔
ان کی ابتدائی فلموں میں جوڈی فوسٹر کے ساتھ”Panic room“اورcold creek manorشامل ہیں ۔لیکن ”ٹویلائٹ“سیریز میں ازابیلا سوان کے کردار نے ان کی شخصیت ہی بدل دی اور کرسٹن کے ساتھ ساتھ اس کے ہیرورابرٹ پیٹنسن کے لیے بھی شہرت کے درواکردئیے۔
ہالی وڈ میں ستاروں کی دوستیاں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں۔

سٹیورٹ کی بھی کئی فنکاروں کے ساتھ دوستی رہی ہے۔”ٹویلائٹ“سیریز کے دوران کرسٹن سٹیورٹ اور رابرٹ پیٹنسن ایک دوسرے کے قریب آئے اور دونوں کے رومانس کے قصے میڈیا کی بھی زینت بنے2012ء میں ”سنووائٹ“اور”ہنٹسمین“کے ڈائریکٹر روپرٹ سینڈرز کے ساتھ ان کا سکینڈل سامنے آیا تو کرسٹن اور پیٹنسن کے درمیان فاصلے پیدا ہوگئے اگر چہ کرسٹن نے پیٹنسن سے بعدمیں معافی بھی مانگ لی مگر دونوں کے درمیان خلیج کم نہ ہو سکی اور راہیں جدا ہو گئیں۔


روپرٹ سینڈز کے ساتھ دوستی کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد انہیں کافی پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا کیونکہ روپرٹ سینڈز پہلے سے شادی شدہ تھے ،کہا جاتا ہے کہ دونوں کی منگنی بھی ہو چکی تھی۔اس حوالے سے سٹیورٹ کا کہنا تھاکہ جب سکینڈل منظر عام پر آیا تو میراجی چاہتا تھا کہ خود کو کمرے میں بند رکھوں ۔لیکن بعد میں اس واقعے کو چھپانے پر معافی مانگ لی تھی۔

وہ اگر چہ ذاتی زندگی اور افیئرز کے حوالے سے بہت کم بات کرتی ہیں لیکن میگزینز اس حوالے سے قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ایک میگزین کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے اپنی نجی زندگی کے کچھ گوشوں پر روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح وہ کم عمری میں شہرت سے ڈرتی تھیں۔آج کل کرسٹن سٹیورٹ کی سکرین رائٹر Dylan-meyerکے ساتھ دوستی کے چرچے ہیں۔آج کل وہ ایک ہاررفلم”انڈر واٹر“کی عکس بندی میں مصروف ہیں جو 10جنوری2020ء کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔

اس کے علاوہ انہوں نے فلم ”Seberg“میں لیجنڈری اداکارہ جین سی برگ کا کردار بھی کیا ہے۔
بطور ڈائریکٹر شارٹ فلمCome swimکے علاوہ فیچر فلم ”دی کر ونولوجی آف واٹر“اور میوزک ویڈیوز بھی بنائی ہیں ۔کرسٹن سٹیورٹ فرصت کے لمحات میں مطالعہ کی شوقین ہیں ،لکھنے کا شوش والدین سے ورثے میں ملا ہے،گٹا ر بجانا بھی اچھا لگتا ہے۔اس حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ میں اگر اداکارہ نہ ہوتی تو سکرین پلے لکھتی یا فلم سے ہی متعلق کوئی اور کام کرتی ۔

وہ کہتی ہیں کہ جب میں نے والدین سے اداکاری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو وہ حیران تھے لیکن انہوں نے مخالفت کرنے کی بجائے قدم قدم پر میری حوصلہ افزائی کی اس لئے وہ اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے حوالے سے خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں ،ان کے خیال میں شہرت نے ان کا دماغ خراب نہیں کیا تو اس کی وجہ ان کے والدین ہیں جو انہیں آسمان کی بلندیوں پر گم نہیں ہونے دیتے بلکہ اپنے پیار اور شفقت کی مدد سے زمین پر اپنے درمیان واپس لے آتے ہیں ۔کرسٹن کی ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہر لمحے سیکھنے کی کوشش کرتی ہیں اس لئے ان کی اداکاری ہر فلم میں ماضی کی نسبت بہتر سے بہتر ہوتی ہے ۔

مزید ہالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments