92ویں آسکر ایوارڈز 2020

جنوبی کوریائی فلم”پیراسائیٹ“نے تاریخ رقم کردی

ہفتہ فروری

92 Oscars Awards 2020
وقار اشرف
اکیڈمی ایوارڈز جنہیں آسکر بھی کہا جاتاہے کہ دنیا کے قدیم ترین اور بڑے انٹر ٹینمنٹ ایوارڈ ہونے کا اعزاز حاصل ہے جسے اکیڈمی ایوارڈ آف میرٹ بھی کہتے ہیں ۔فنکاروں کو امر کر دینے والے اس اعزاز کی تاریخ کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی ہے ،اس ایوارڈ کا حصول ہر فنکار کا خواب ہوتاہے لیکن عملی تعبیر کسی کسی کے حصے میں آتی ہے اور جسے یہ ایوارڈ مل جاتاہے اس کے فن کی بلندی پر ایک طرح سے مہر تصدیق ثبت ہو جاتی ہے ۔

آسکر کا آغاز 1929ء میں ہوا تھا جب ہالی وُڈ کی روز ویلٹ ہوٹل میں محدود پیمانے پر 15ایوارڈ تقسیم کئے گئے اور شر کاء کی تعداد صرف 270تھی ،یہ تقریب صرف 15منٹ جاری رہی تھی۔1953ء میں آسکر ایوارڈ کی تقریب پہلی بار ٹی وی پر دکھائی گئی اور اب 200سے زائد ملکوں میں آسکر کی تقریب براہ راست نشر کی جاتی ہے۔

(جاری ہے)


92ویں آسکر ایوارڈز کی رنگا رنگ تقریب امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کے ڈولبی تھیٹر میں منعقد ہوئی۔

مرکزی تقریب سے قبل ہالی وڈ کے تمام مرکزی ستارے ریڈکارپٹ پر جگمگاتے نظر آئے ،اس موقع پر محسوس ہو رہا تھا جیسے حسن اور روشنیوں کی بارش ہو رہی ہو لیکن اس کیساتھ ساتھ گولڈن ایج فلم میکر کرک ڈگلس اور آسکر ایوارڈ یافتہ باسکٹ بال سٹار کو بی برنٹ کی چند روز قبل ہونے والی موت کے باعث کچھ اداسی بھی تقریب میں چھائی ہوئی تھی ۔جیسے ہی کوئی فنکار ریڈ کارپٹ پر آتا تو پاپا رازیوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی ان کی جھلک دیکھنے کے لئے دیوانہ وار لپک پڑتی ۔

نامزد ہونے والا ہر فنکار دل میں آسکر جیتنے کی اُمنگ لئے تقریب میں آرہا تھا۔
تقریب کا آغاز ایک میڈلے سے ہوا ،اس سال کا پہلا آسکر نامور اداکار بریڈپٹ نے اپنی فلم”ونس اپون اے ٹائم ان ہالی وڈ“میں اداکاری پر بہترین سپورٹنگ ایکٹر کا ایوارڈ جیت کرکیا۔بہترین اداکار کا اکیڈمی ایوارڈ فلم”جوکر“کے اداکار جیکوئن فونیکس(Joaquin Phoenix) کے نام رہا۔

کیٹیگری میں ان کا مقابلہ انتو نیو بیند یرس ،لیونا رڈو ڈی کیپر یو،ایڈم ڈرائیور اور جوناتھن پرائس سے تھا۔فلم ”جوڈی“کی اداکارہ رینی زیلویگرنے بہترین اداکارہ کا اکیڈمی ایوارڈ اپنے نام کیا۔اس ایوارڈ کے لئے سنتھیا ایرویو،سکارلٹ جو ہانسن، سوئر سے رونن،چارلیز تھرون بھی ان کے مد مقابل تھیں۔رینی کا یہ دوسرا آسکر ہے ،اس سے قبل انہیں بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔


جنوبی کوریا کی فلم”پیرا سائیٹ “نے اس بار آسکر ایورڈز میں بہترین فلم کا ایوارڈ جیت کر نئی تاریخ رقم کر دی۔یہ آسکر کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ انگریزی کے علاوہ کسی اور زبان میں بنائی جانے والی فلم کو”بہترین فلم“ کے اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ۔پیراسائیٹ نے بہترین فلم اور بہترین ہدایتکار سمیت مجموعی طور پر چار آسکر حاصل کیے۔

جنوبی کوریا کے دو خاندانوں کی رہائش پر مبنی فلم نے اکیڈمی ایوارڈ میں نامزدگی سے قبل ہی اپنی پہچان بنالی تھی،فلم کو اوریجنل سکرین پلے کے لئے بھی آسکر سے نوازا گیا۔پہلی جنگ عظیم کے پس منظر میں بننے والی سر سیم مینڈس کی فلم”1917“کو تین ایوارڈ ملے حالانکہ اس فلم کو رواں برس بہترین فلم کے ایوارڈ کے لئے فیورٹ سمجھا جا رہا تھا لیکن تمام ایوارڈ سے تکنیکی کیٹیگریز میں ملے۔

جب ”پیراسائیٹ“کے ڈائریکٹر اور رائٹر بونگ جون ہواپنے کو رائٹر ہین جن وون کے ساتھ ایوارڈ وصول کرنے آئے تو شرکاء نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا ،یہ کسی بھی جنوبی کوریائی فلم کا پہلا آسکر تھا جس پر بونگ جون نے اکیڈمی ایوارڈز انتظامیہ کا شکر یہ ادا کیا۔
”پیرا سائیٹ“کی جنگ عظیم اول(1914-17) کے پس منظر میں بننے والی فلم ”1917ء“ کے ساتھ سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی تھی لیکن”پیرا سائیٹ“نے ”1917ء“ کو چاروں شانے چت کر دیا۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما اور سابق امریکی خاتون اول مشیل اوباما کے پروڈکشن ہاؤس کی پہلی فلم”امریکن فیکٹری“نے بہترین دستاویزی فلم کا آسکر اپنے نام کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فلم کی کو ڈائریکٹر جولیا رچرٹ کا کہنا تھا کہ آج کل ورکنگ کلاس کے لئے مشکل سے مشکل حالات پیدا ہو رہے ہیں ،حالات اس وقت ہی ٹھیک ہوں گے جب پوری دنیا کے ورکرز اپنے حقوق کے لئے متحد ہو جائیں گے ۔

بہترین اڈاپٹڈ سکرین پلے کا ایوارڈ2019ء کی امریکن کامیڈی ڈرامہ فلم”جوجوریبٹ“کے نام رہا۔فلم کے رائٹر اور ڈائریکٹر Taika Waititiنے ایوارڈ دنیا کے ان بچوں کے نام کر دیا جو آرٹ ،ڈانس کے علاوہ کہانیاں لکھنا چاہتے ہیں ۔اس فلم نے بہترین انٹر نیشنل فیچر فلم کا بھی ایوارڈ بھی اپنے نام کیا ہے۔”میرج سٹوری “میں اداکاری پر لارا ڈیرن کو بہترین معاون اداکارہ کے اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔

لاراڈیرن کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اگر میں یہ ایوارڈ کسی کو دے سکتی تو ابھی اسے گریٹا گرونگ اور لو لاوانگ کو دے دیتی۔یہ دونوں خواتین ہدایتکارواں سال بہترین ہدایتکاروں کی کیٹیگری میں جگہ بنانے سے محروم رہ گئی تھیں اور پانچوں نامزد ہونے والے افراد مرد تھے ۔بہترین اوریجنل سکور کا ایوارڈ ”دی جوکر“کے لئے بلڈر گونا دو تیر کو دیا گیا۔

اس موقع پر ہلڈر گونا دو تیر کا کہنا تھا کہ کوئی نغمہ نگار اتنا ہی تخلیقی ہو سکتاہے جتنی اس کی ہدایتکار سے بات ہوتی ہے ۔بہترین اوریجنل گیت کا ایوارڈ سر ایلٹن جان اور معاون تخلیق کار کا آسکر برنی ٹوپن کو فلم”راکٹ مین“کے گیت ”لومی اگین“کے لئے ملا۔”ٹوائے سٹوری4“ کو بہترین اینی میٹڈ فیچر فلم کا ایوارڈ دیا گیا جبکہ مختصر فلم کے لئے ”ہیئر لو“آسکر کی حقدار ٹھہری جو میتھیو اے چیری اور کیرن روپرٹ ٹولیور نے وصول کیا۔

لارا ڈیرن کو ”دی میرج سٹوری “میں اداکاری پر بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا۔
گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی آسکر تقریب مخصوص میزبان کے بغیر منعقد ہوئی تاہم ٹام ہینکس ،نیٹلی پورٹ مین اور آسکر آئزک سمیت تقریباً 40افراد نے تقریب کو پیش کیا۔فلم”جوکر“آسکر ایوارڈ میں 11کیٹیگریز کے لئے نامزد تھی جو آسکر کے لئے سب سے زیادہ نامزد گیاں تھیں جبکہ دی آئرشن مین،1917ء اور ونس اپون اے ٹائم ان ہالی وڈ کو 10کیٹیگریز میں نامزد کیا گیا تھا۔

نیٹ فلیکس فلموں کو رواں سال 20سے زیادہ نامزدگیاں ملی جن میں ”میرج سٹوری“، ”آئرش مین“اور”دی ٹوپوپس“شامل تھیں۔ 2003ء میں آسکر جیتنے والے ریپرEminemنے سٹیج پر سر پرائز انٹری دی اور اپنا مشہور گانا”لوز یورسیلف“پیش کیا۔گلوکارہ ایڈینا مینزل نے فلم”فروزن2“ کا گانا”ان ٹو دی ان نون “پیش کیا۔

مزید ہالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments