زبیدہ خانم ایک سدا بہار آواز

بچھڑے 7برس بیت گئے

پیر اکتوبر

Zubaida khanum - aik sada bahar awaz
وقار اشرف
پاکستان فلم انڈسٹری کو متعدد یادگار اور شاہکار گیت دینے والی معروف گلوکارہ زبیدہ خانم کو مداحوں سے بچھڑے 7برس بیت گئے مگر ان کے گائے ہوئے یادگار نغمے آج بھی انہیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ 1935ء کو متحدہ ہندوستان کے شہر امرتسر میں پیدا ہونے والی زبیدہ خانم قیام پاکستان کے بعد خاندان کے ہمراہ لاہور آبسیں اور فلمی سفر کا آغاز 1951ء میں ایک فلم”بلو“سے کیا لیکن انہیں شہرت فلم”بابو“سے ملی۔

انہوں نے اردو اور پنجابی فلموں میں آواز کا جادو جگا کر یکساں مقبولیت حاصل کی،اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے کم و بیش ڈیڑھ سو اردو اور پنجابی فلموں کے لئے 244گیت گائے جن میں سے بیشتر سپر ہٹ ہوئے۔ بطور اداکارہ بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا لیکن گلوکاری میں اپنا لوہا منوایا۔

(جاری ہے)

انہیں ملکہ ترنم نور جہاں کے بعد پچاس کی دہائی کی سب سے کامیاب گلوکارہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔


زبیدہ خانم کو دوران تعلیم ان کے ایک استاد نے ان کی گلوکاری سے متاثر ہو کر ریڈیو پاکستان میں متعارف کروایا جہاں سے ان کے فنی سفرکا آغاز ہوا۔ 1951ء میں ان کا پاکستان کی فلمی دنیا سے اس وقت تعلق قائم ہوا جب انہوں نے فلم”بلو‘میں اداکاری کی،کیریئر کے ابتدائی برسوں میں وہ اداکاری بھی کرتی رہیں،اس دوران مورنی اور پاٹے خان جیسی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے،انہیں اصل شناخت 1951ء میں اس وقت ملی جب وہ بطور پلے بیک سنگر سامنے آئیں اور انہوں نے اس سال ریلیز ہونے والی فلم”شہری بابو“کے لئے جو گیت گائے وہ بہت مقبول ہوئے۔

کہا جاتا ہے کہ زبیدہ خانم کے اہل خانہ موسیقی کو بطور کیریئر بنانے پر ان سے ناخوش تھے تاہم انہیں ہمیشہ سے گائیکی کا شوق تھا اور سٹوڈیو جاکر انہیں بہت خوشی محسوس ہوتی تھی۔ اپنے کیریئر کے عروج پر ہی انہوں نے پاکستانی فلمی صنعت کے نامور کیمرہ مین ریاض بخاری سے شادی کرکے موسیقی کی دنیا کو خیر باد کہہ دیا تھا،انہوں نے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا،ان کا جس روز انتقال ہوا اس روز ان کے شوہر ریاض بخاری کی برسی تھی۔

ا ن کے صاحبزادے فیصل بخاری پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور کیمرہ مین اور ڈائریکٹر ہیں۔
زبیدہ خانم کا اگرچہ موسیقی کے کسی بڑے روایتی گھرانے سے تعلق نہیں تھا اس کے باوجود ان کی دلکش آواز اور خوش اسلوب گائیکی نے چند سالوں میں ہی انہیں صف اول کی گلوکارہ بنا دیا۔ وہ اس دور میں انڈسٹری میں آئیں جب یہاں بڑے بڑے نام موجود تھے انہی دنوں مہدی حسن جیسے فنکار اپنے کیریئر کا آغاز کر رہے تھے،زبیدہ خانم کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ملکہ ترنم نور جہاں کی موجودگی میں اپنا لوہا منوایا،وہ شاید واحد گلوکارہ تھیں جس کے گائے ہوئے بیشترنغمے سپرہٹ ہوئے۔

ایک اندازے کے مطابق زبیدہ خانم نے 147 فلموں کے لئے 244نغمے گائے۔ اردو اور پنجابی زبان میں گائے ہوئے ان کے بہت سے گیت آج بھی بہت مقبول ہیں جن میں آئے موسم رنگیلے سہانے،میری چنی دیاں ریشمی تنداں،سیو نی میرا دل دھڑکے،دلا ٹھہر جا یار دا نظارہ لین دے،کیا ہوا دل پہ ستم،سیو نی میرا دل دھڑکے(شیخ چلی1950ء)،دوپٹہ بے ایمان ہو گیا(شہری بابو1953ء)اساں جان کے میٹ لئی اکھ وے(ہیر1955ء)وے میں نار پٹولے ورگی(ماہی منڈا1956ء)،ریشم دا لاچا لک وے (یکے والی1957ء)،مرا دل چنا کچ دا کھڈونا(مکھڑا1958ء)گوری گوری چاننی دی ٹھنڈی(کرتار سنگھ 1959ء)، اور چھڈ جانویں ناں چناں بانہہ پھڑ کے(پتن)جیسے ان کے بہت سے گانے آج بھی اسی طرح مقبول ہیں۔


ان کے انتقال سے تقریباً ایک سال قبل ریڈیو پاکستان لاہور نے بھی زبیدہ خانم کے لئے ایک تقریب پذیرائی کا انعقاد کیا تھا جس میں اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ کے علاوہ شوبز سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی تھی۔ اس موقع پر گلوکاروں نے ان کے سامنے ان کے گائے ہوئے یادگار گیت پیش کئے تھے۔زبیدہ بیگم نے شادی کے بعد فلمی گلوکاری سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی تاہم وہ میلاد اور درود و سلام کی محافل میں باقاعدگی سے شریک ہوتی رہیں۔زبیدہ خانم 19 اکتوبر 2013ء کو 78برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئی تھیں۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments