بالی وڈ کا ”سرکٹ“

ابتداء میں سنجیدہ فِلمیں مل جاتیں توسُپر سٹار ہوتے

 سلیم بخاری



یہ تو حقیقت ہے کہ بالی وُڈ کی دو کامیاب ترین کامیڈی فلم سیریز ”منّا بھائی ایم بی بی ایس “اور ”گول مال “ میں ارشد وارثی کی اداکاری لاجواب رہی مگر خودارشد وارثی کا دعویٰ ہے کہ وہ سنجیدہ کرداروں کے لئے بھی موزوں ترین اداکار ہیں ۔ان کے دعویٰ کی تصدیق ان کی حالیہ فلم” ارادہ“ دیکھ کر بخوبی ہوجاتی ہے جس میں وہ نیشنل انویسٹی گیٹنگ ایجنسی کے آفیسر بنے ہوئے ہیں ۔

ہدایت کار اپارناسنگھ کی یہ فلم دو موضوعات کے گرد گھومتی ہے ۔ایک دریاؤں کی آلودگی اور دوسرا موضوع ہے کینسر کی بیماری ۔اس سال ارشد وارثی ”گول مال 14“اور”منّابھائی 3“کی فلم بندی میں مصروف ہیں مگر اسی سال ٹیلی ویژن پر بھی ان کی پرفارمنس دیکھنے کو ملے گی جب سونی ٹی وی کے ایک پروگرام ”سب سے بڑا کلا کار“ میں وہ بطور جج فرائض انجام دیں گے ۔

اس سب کے باوجود ارشد وارثی کا خیال ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری نے انہیں ان کا مناسب مقام نہیں دیا۔دیپالی پٹیل سے ایک انٹر ویو میں انہوں نے کُھل کر اس پر اظہار خیال کیا کہ ان کے کیرئیر میں اتنے نشیب وفراز کیوں آئے ؟وہ کہتے ہیں :”مثال کے طور پر فرحان اختر اور کرن جوہر صرف اپنے من پسندلوگوں کے ساتھ ہی فلمیں بناتے ہیں ،چلیں اسے درست مان لیتے ہیں کیونکہ ان فلم میکرز کو یہ علم ہوتا ہے کہ ان کے گروپ میں کون سافرد کس طرح کاردعمل دے گا؟اس سے ان کاکام آسان ہوجاتا ہے کیونکہ اگر وہ نئے لوگوں کو کاسٹ کریں گے تو انہیں یہ اندازہ ہی نہیں ہوگا کہ یہ ایکٹر کردار کرپائے گا یا نہیں اور اگر وہ نہ کرپایا تو یہ کہہ کرماتھا پیٹنا پڑے گا کہ میں نے اسے کیوں سائن کیا۔

یہ شاید اس لحاظ سے ٹھیک ہو کہ فلم پر اتنا سرمایہ لگا کہ ایسا اندھارسک نہیں لیا جاسکتا مگر اس کا نقصان یہ ہوا کہ میرے جیسے ایکٹر کو ٹی وی شوز کرنے پڑے کیونکہ میرے ہاتھ میں کوئی فلم ہی نہیں تھی اس لئے جب بھی میرے پاس پیسے ختم ہوجاتے توٹی وی شوز کرکے گزاراکرتا جو مجھے آسانی سے دستیاب تھے ،جب میں ان ٹی وی شوز سے کافی رقم کما لیتا تو پھر میں چھٹیاں مناتا اور مزے کرتا ۔میرے بارے میں ساتھی اداکار جو کچھ بھی محسوس کرتے ہیں مجھے اس سے اتفاق ہے ۔

کچھ کا خیال ہے کہ میری صلاحیتوں سے صحیح طریقے سے استفادہ نہیں کیا گیا ،مجھے بھی اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ مجھ سے بہت کم کام لیا گیا ہے جو بہت افسوس ناک صورت حال ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔میں نے اپنی پہلی فلم میں کامیڈی کی تھی لہٰذا ہر فلم میکر چاہتا تھا کہ میں کامیڈی ہی کروں ۔اگر مجھے ابتداء میں سنجیدہ فلمیں کرنے کومل جاتیں تو میں کبھی کامیڈی فلمیں نہ کرتا لہٰذا اس چھاپ میں سے نکلنے میں وقت لگتا ہے اور اگر آپ کسی بڑے سٹار کے بیٹے یا رشتہ دار نہیں تو اس صورت میں اور بھی زیادہ وقت لگتا ہے ،یہی میرے ساتھ ہوا ہے ۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مجھے کا میڈی کے مقابلے میں ڈرامائی رول کیوں زیادہ پسند ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اداکاری فطری طریقے سے آتی ہے لہٰذا یہ عمل آسان ہے ۔میرے لئے فلموں کی نوعیت مسئلہ نہیں مگر میرا ماننا ہے کہ مزاحیہ اداکاری ایک تھکادینے والاعمل ہے مگر سنجیدہ اداکاری سے ایکٹر کبھی نہیں تھکتا بلکہ مجھے تو سنجیدہ کردار کرکے بڑا مزہ آتا ہے، مزاحیہ اداکاری میں آپ کو زیادہ قوت صرف کرنا پڑتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے سنجیدہ کردار بہت پسند ہیں ۔

“اس سوال پر کہ کیا انڈسٹری سے باہر سے اگر کوئی فلمی دُنیا میں داخل ہونا چاہے تو اس کی زندگی عذاب بنادی جاتی ہے، ارشد وارثی نے برجستہ کہا:” آپ کسی بھی کاروباری شعبے میں داخل ہوں تو آپ کو اس کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کرنی چاہیے۔جب میں نے انڈسٹری میں قدم رکھا تو اس کے بارے میں میرا علم صفر تھا ،مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہاں کام کیسے ہوتا ہے نہ ہی مجھے یہ تصورتھا کہ کام کیسے کرائے جاتے ہیں ؟لہٰذا میرا مکمل انحصار اپنے مینجر پرتھا جو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار بھی رکھتا تھا کہ مجھے کون سی فلم کرنی چاہیے ۔میں اپنی رائے پر بھی اس کی رائے کو فوقیت دیتا تھا جومیری بہت بڑی غلطی تھی اور شاید یہی وجہ ہے کہ بڑے فلمی ستاروں کے بچّے ہم سے زیادہ کامیاب ہوجاتے ہیں کیونکہ انہیں فلم انڈسٹری کا پوری طرح سے ادراک ہوتا ہے اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہاں کیسے کام ہوتے ہیں ۔

”ان سے پوچھا گیا کہ جب کوئی اداکار کام نہ ملنے کی وجہ سے بے کار ہوتو وہ کوئی بڑی فلم ملنے کی خواہش کیوں کرتا ہے تو ارشد وارثی نے کہا:” اپنی ذات پر اعتماد ہونا ایک ضروری عنصر ہوتا ہے چاہے آپ کسی بھی شُعبے سے متعلق ہوں اور اگر آپ اداکاری کے شُعبے سے وابستہ ہیں تو آپ کو صرف متعلقہ چیزوں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے ۔بہت سے اداکار اپنی اداکاری پر توجہ دینے کی بجائے اپنی خوبصورتی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں ۔ایک طرح سے یہ ایک تصورMyth بنا ہوا ہے کہ خوب صورت نظر آنا اور اچھّی جسمانی ساخت ثانوی حیثیت رکھتی ہے ۔

یہ تو ایسے ہی ہے کہ ہوٹل کی عمارت بہت خوب صورت ہو ،فرنیچر بھی اعلیٰ معیار کا ہو مگر جو عنصر سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے وہ یہ کہ جو خواک کھانے کو مہیا کی جائے گی اس کا معیار کیا ہے؟ اگر خوراک کامعیار ٹھیک نہیں تو ہوٹل کی عمارت ،اس کا فرنیچر اور ماحول بے معنی عناصر ہیں ۔یہ درست ہے کہ ایکٹنگ کیرےئر میں مشکل ایام بھی آتے ہیں ،آپ زندگی میں بہترین اشیاء کا حصول بغیر انتھک محنت کے حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے پھر اگر آپ اداکاری کے شُعبے سے منسلک ہیں تو آپ کو سب سے پہلے یہ سیکھنا پڑے گا کہ اداکاری کرتے کیسے ہیں ۔“ارشد وارثی کون سا کردار کرنے کی خواہش رکھتے ہیں؟ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ میں خود کو کسی خاص طرز کی اداکاری کے لئے محدود کرنے کا قائل نہیں ۔

میری شدید خواہش ہے کہ میں بالی وڈ میں بننے والی کسی ڈراؤنی فلم میں کام کروں مگر میں اس کا کیا کروں کہ لوگوں کو مزاحیہ فلمیں پسند ہیں ۔میرے اندر اداکارانہ صلاحیتیں فطری طور پر موجود ہیں اور انڈسٹری میں کامیڈی فلمیں زیادہ بن رہی ہیں تا ہم میں سنجیدہ کردار کرنے میں بہت آسانی محسوس کرتا ہوں ،لوگوں کو ہنسانے کاکام بہت مشکل ہے ۔

ارشد وارثی کو بالی وُڈ کا حصّہ بنے اب 20سال سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا ہے،” منّا بھائی ایم بی بی ایس“ میں ان کے کردار” سرکٹ“ کو عوام میں بہت پذیرائی ملی لہٰذا فلم بینوں کا خیال تھا کہ سرکٹ کارول ہی ارشد وارثی کے دل کے قریب تر ہوگا مگر ان کے رد عمل نے سب کو حیران کردیا کہ مجھے تو اداکاری کی ہر صنف اچھّی لگتی ہے کیونکہ میں اداکاری کے عمل سے ہی لطف اندوز ہوتا ہوں مگر جو کردار مجھے سب سے اچھّا لگا وہ2010ء میں آنے والی فلم” عشقیہ “میں ببن کا کردار تھا ۔کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ فلم میں ارشد وارثی کی موجودگی ہی فلم بینوں کو فلم دیکھنے پر مجبورکردیتی ہے۔

آپ خود سوچیں کہ اگر” گول مال“ اور ”منّا بھائی ایم بی بی ایس“ میں سے ارشد وارثی کو نکال دیں تو باقی کیا بچے گا؟ بالی وُڈ کی روایت کے عین مطابق بڑی فلموں کی کامیابی کے لئے ارشد وارثی کو استعمال کیا گیا ہے جس کی مثال2013ء میں بننے والی فلم” جولی ایل ایل بی“ ہے کیونکہ اس فلم کے سیکوئل کے لئے راشد وارثی کو نکال کر اکشے کمار کر شامل کر لیا گیا ۔

”دی انڈین ایکسپریس “کو دےئے گئے ایک انٹر ویو میں ارشد وارثی نے کہا:” جولی ایل ایل بی“ کے دوسرے پارٹ میں مجھے ہی رول کرنا تھا مگر فوکس سٹار سٹوڈیو کو ایک بڑا اداکار چاہیے تھا لہٰذا انہوں نے اکشے کمارکو منتخب کر لیا کیونکہ ایساکرنے سے مارکیٹنگ کرنا آسان ہوجاتا ہے اور فلم بھی ہٹ کرائی جا سکتی ہے جبکہ میرے ساتھ فلم میکرز کو ایک اچھّی فلم بنانا پڑے گی کیونکہ اگر مجھے سائن کیا گیا ہے اور منافع کمانے کی بھی خواہش ہے تو فلم کا معیار بلند کرنا پڑے گا۔“

اگر ارشد وارثی کی اچھّی فلموں پر ایک نظر ڈالی جائے توپتہ چلے گا کہ فلم بینوں میں یہ خواہش کیوں جنم لیتی ہے کہ ارشد وارثی کو بالی وُڈ کا سب سے بڑا اداکار تسلیم کیا جانا چاہیے ،ان فلموں میں 2010ء میں بننے والی” عشقیہ“2014ء میں بننے والی ڈیڑھ عشقیہ“ 2005ء میں ریلیز ہونے والی ”سحر “،2013ء میں آنیوالی” جولی ایل ایل بی“، 2014ء میں ریلیز ہونے والی” ہلچل“ اور 2017ء میں بننے والی ”ارادہ“ شامل ہیں ۔ان فلموں میں ارشد وارثی کی اداکاری پر کوئی اُنگلی نہیں اُٹھا سکتا۔

بالی وُڈ میں دوستیوں کے حوالے سے ارشد وارثی کہتے ہیں:” یقینا یہاں اچھّے دوست ضرور ہوں گے لیکن میرے نزدیک دوستی کا مطلب دو افراد کے درمیان ذہنی آہنگی کی موجودگی ہے ،میں یہ بھی ضرور کہوں گا کہ زیادہ تر لوگ انڈسٹری میں دو چہرے سجائے رکھتے ہیں ۔میں ہرگزیہ نہیں کہتا کہ یہاں وفادار اور سچے دوست ہیں ہی نہیں ۔راج کپور‘ دھرمیندر اور دیوآنند کی تصویریں دیکھیں کہ کیسے وہ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارکر محفوظ ہوتے تھے ۔

جہاں تک بالی وُڈ میں میرے دوستوں کا تعلّق ہے تو ان میں رتیش دیس مکھ ‘جاوید جعفری‘ ودیا بالن‘ ہما قریشی ‘ادیتی راؤ حیدری اور نصیرالدین شاہ شامل ہیں ۔جب بھی میرے گھر پو کوئی پارٹی ہوتی ہے تو یہ سب لوگ اس میں شرکت کرتے ہیں ،میرے لئے ان کی دوستی ایک سرمائے کی حیثیت رکھتی ہے ۔وہ ایک طرح سے میرے گھر کے فرد ہیں ۔ارشد وارثی کہتے ہیں کہ وہ خودکو اتنا سمارٹ نہیں سمجھتے کہ وہ کسی سے کچھ بھی سیکھ سکتے ہیں ۔

نصیرالدین شاہ کے ساتھ میں نے تین فلمیں کی ہیں اور مجھے ان کے ساتھ کرنے کا بہت مزہ آیا ۔مجھے کام میں ان کے انہماک، سنجیدگی اور کردار کی روح میں اُترنے کی صلاحیّت بہت پسند ہے بلکہ میں تو کہوں گا کہ ان کی یہ خوبیاں قابل رشک ہیں ۔نصیر الدین شاہ ایک ایماندار اداکارہیں اور اپنے کام کے حوالے سے کبھی جھوٹ بولتے ہیں اور نہ کوئی تنازعہ کھڑا کرتے ہیں۔ وہ اپنے پیشے کا جتنا احترام کرتے ہیں سب اداکاروں کو ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔

جہاں تک میری ان سے دوستی کا تعلق ہے تو یہ غیر معمولی ہے ،ہم دونوں نے بہت سی ناقابل یقین حرکات اکٹھے کی ہوئی ہیں ،ہم دونوں رات کے پچھلے پہر سمندر کنارے چہل قدمی کرتے نظر آئیں گے ،ہم نے ایک جزوقتی ریستوران بھی کھول لیا ہے تا کہ ہم اکٹھے کھانا کھا سکیں ۔ارشد وارثی بہت ہی مرنجان مرنج طبیعت کے مالک اور ہربات کا برجستہ جواب دینے کی غیر محدود صلاحیّت رکھتے ہیں ،بہت سی کامیاب فلمیں ان کے کریڈٹ پر ہیں مگر پھر بھی وہ سُپر سٹارز کی فہرست میں شامل نہیں ہیں ۔خود اُن کا کہنا ہے کہ میں زیادہ نمایاں حیثیت نہ بھی اختیار کرسکوں تو پرواہ نہیں کیونکہ ایک اداکارکی حیثیت سے میرا معیار یہ ہے کہ ایک ایسے پراجیکٹ (فلم )پر کام کروں جہاں نہ صرف ایک اچھّاسکرپٹ ہو بلکہ اچھّے لوگوں کا ایک گروپ بھی ہو جن کے ساتھ کام کرنے کا مزہ آئے ۔

حال ہی میں ان کی سنی دیول اور پرستی زنٹا کے ساتھ” بھیا جی سُپر سٹار“ ریلیز ہوئی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ ایک ایسا اداکار جس کی ادکاری کو ہر فلم میں سراہا گیا ہواس نے اتنی کم تعداد میں فلمیں کیوں کی ہیں؟ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ارشد وارثی نے کہا تھا:” پہلی بات تو یہ ہے کہ اداکار کے لئے یہ بات باعث تسکین ہوتی ہے کہ جس فلم میکر کے ساتھ وہ کام کررہا ہے وہ ضرور اداکار میں سے کچھ نکال لے گا ،میں تو ایک اوسط درجے کے فلم میکر کے ساتھ کام کرنا بھی پسند کروں گا جو مجھے کردار میں جان ڈالنے کا موقع دے ۔اب وہ مجھ جیسے اداکار کے ساتھ کام کرنا آسان محسوس کرے گا بجائے اس کے کہ وہ ایک سُر سٹار کو سائن کرلے اور پھر اسے ہینڈل نہ کرپائے ۔

میرے لئے ایک اچھّی کہانی کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہ عملہ جس کے ساتھ مجھے کام کرنا ہے معقول افراد پر مشتمل ہومگر میں ایسے باصلاحیّت اور بڑے ناموں کے ساتھ کام نہیں کرسکتا جو باہمی ہم آہنگی کی اہلیّت نہ رکھتے ہوں ۔لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ اچھّا سکرپٹ اور اچھّے افراد کا میسر آجانا ایک نایاب تحفہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ میں بہت کم فلموں میں کام کرسکا ہوں ۔“اس کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ ارشد وارثی نے ایسی فلمیں بھی کیں جومالی اعتبار سے بھی کامیاب تھیں اور اپنے سکرپٹ کی وجہ سے بھی انہیں پذیرائی ملی، ان میں انتھونی کون ہے، کابل ایکسپریس ،جولی ایل ایل بی، ہلچل اور گول مال جیسی فلموں کی مثال دی جا سکتی ہے ۔

ارشد وارثی سے جب پوچھا گیا کہ وہ اپنی پوزیشن کے حوالے سے اتنے پُر اعتماد کیونکر ہیں جبکہ انڈسٹری میں مقابلہ سخت ہے تو وہ یوں گویا ہوئے:” میں وہ آخری انسان ہوں گا جو تمغہ حاصل کرنے کے لئے مراجارہاہو ۔میں تو اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ جسے کام آتا ہے اسے مواقع کی کبھی کمی نہیں ہوتی بلکہ کام خود بھاگ کر اس کے پیچھے آتا ہے ۔اگر کوئی شخص اپنے کام سے وفا کرتا ہے تو وہ کبھی بے روزگار نہیں رہ سکتا ،بے روزگار وہی رہے گا جسم میں صلاحیتوں کی کمی ہے ۔اب ذرا امتیابھ بچن ،رشی کپور اور نصرالدین شاہ جیسے لوگوں کی مثال لے لیں جنہیں مسلسل کام مل رہا ہے چاہے وہ کتنے ہی بوڑھے ہوجائیں یا انہوں نے مقابلتاًکم فلمیں کی ہوں ۔“

اپنے فلمی کرداروں کے حوالے سے ارشد وارثی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی کردار مشکل نہیں ہوتا اور میں نے تو کبھی کسی رول کو اپنے لئے چیلنج نہیں سمجھا بلکہ کردارکی روح کو سمجھنے کے بعد بس پر فارم کردیتا ہوں، میں کبھی اپنی اداکاری کا تجزیہ نہیں کرتا اور نہ یہ فکر کرتاہوں کہ اس کا مستقبل کیا ہوگا ؟تا ہم میرا دل اس وقت ضرورٹوٹ جاتا ہے جب مجھے یہ احساس ہو کہ فلم بینوں کو میری اداکاری پسند نہیں آئی کیونکہ ہر فن کارچاہتا ہے کہ اس کی اداکاری کی داددی جائے مگر میں پھر مزید کام کرنے کیلئے اُٹھ کھڑا ہوتا ہوں کیونکہ میرے لیے دادنہ ملنا دُنیا کا خاتمہ نہیں ہے ۔“

ارشد وارثی کے حوالے سے یہ تاثر تو درست ہو سکتا ہے کہ انہوں نے100کروڑ کمانے والی فلمیں نہیں کیں مگر اس میں کسی شُبہ کی گنجائش نہیں کہ وہ بھارت کے مقبول ترین اداکار ہیں ۔”منابھائی ایم بی بی ایس“ کے سرکٹ سے لے کر ”عشقیہ“ کے ببن تک میں ارشد وارثی نے ثابت کیا ہے کہ اگر انہیں اچھّا ڈائریکٹر مل جائے تو وہ اعلیٰ معیار کی پرفارمنس دینے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ارشد وارثی عام حالات میں پریس سے گفتگو کرنے سے گریز کرتے ہیں ،چاہے وہ سیاسی ہوں یا سماجی ،وہ کبھی رائے زنی نہیں کرتے ۔سوشل میڈیا سے تو وہ ایک لحاظ سے خوف زدہ رہتے ہیں کہ میں اگر یہ ٹویٹ کروں کہ میں نے لنچ میں چکن بریانی کھائی ہے تو مجھے مشورہ ملے گا کہ جاکر پاکستان میں رہائش اختیارکریں ۔

اب رمیش راول کی مثال لے لیں جو بڑے اداکار ہونے کے علاوہ بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی )کے رُکن پارلیمنٹ ہیں جنہوں نے ٹوٹ کیا کہ اُن کی خواہش ہے کہ کسی پتھر مارنے والے احتجاجی کی بجائے معروف مصنفہ ارون دھتی رائے کو فوجی جیپ کے آگے باندھ کر پھرایا جائے ۔“ارشد وارثی ایک بڑے اداکار تو ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اعلیٰ ظرف انسان بھی ہیں ۔