بیلا حدید منفرد ماڈل

انہیں ”ریمپ کوئین“کے نام سے بھی نوازا گیا مسلمان ہونے پر انہیں بے حد فخر ہے

فوزیہ طارق بٹ

دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت ہالی وڈ میں مقام بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔محض اچھی شکل وصورت ہونا کافی نہیں ہے بلکہ سب سے زیادہ زور باصلاحیت ہونے پردیا جاتا ہے ۔اس حوالے سے بات کی جائے تو بیلا حدید منفرد طرز کی ماڈل ہیں ۔انہیں حدید سسٹرز کے نام سے بھی شہرت ملی۔بڑی بہن جی جی حدید کے ساتھ شوبز پر حکمرانی کررہی ہیں ۔

ان کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ آئیں اور اچھا گئیں تو بیجانہ ہوگا۔پر کشش بیلا حدید آج کل ماڈلنگ میں ایک معتبر نام ہیں ۔فلم فیسٹیول اور میلوں میں ریمپ پرواک انکے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہیں ۔وکٹوریہ سیکرٹ ہتھیار کو اپنی کامیابی کی ضمانت قرار دیتی ہیں ۔ماڈلنگ ان کا جنون مگر اداکاری ان کا دیرینہ شوق ہے ۔

اپنی کامیابیوں کو ذاتی صلاحیت کا نتیجہ قرار دیتی ہے ۔انکا شمار امریکہ کی ٹاپ ٹین امریکی ماڈلز میں ہوتا ہے ۔فیس بک پر بھی کئی نئے ٹرینڈ متعارف کرائے ۔ان کے پرستار کروڑوں میں ہیں جو ان سے ہمہ وقت فیس بک پر رابطے میں رہتے ہیں ۔

امریکہ کو ماڈلز کی جنت کہا جاتا ہے ۔اسے کئی نامور ماڈلز متعارف کرانے کا اعزاز حاصل ہے ۔ان میں ایک نام معروف ماڈل بیلا حدید کا بھی ہے ۔کئی معروف کمپنیوں کیلئے ماڈلنگ کر چکی ہیں ۔ان کی ایک وجہ شہرت جی جی حدید کی بہن ہونا بھی ہے جنہوں نے اداکاری اور ماڈلنگ میں مقام بنا رکھا ہے ۔ان کا اصلی نام ایزابیلا خیر حدید ہے ۔پہلا معاہدہ آئی جی ایم ماڈلز کمپنی کے ساتھ کیا۔دسمبر 2016ء میں انہیں ماڈل آف دی ائر کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔فیس بک پر ان کے پرستاروں کی تعداد کروڑوں میں ہے ۔وہ ہمہ وقت پر ستاروں کے ساتھ رابطے میں رہتی ہیں ۔

ازبیلا خیر حدید لاس اینجلس میں پیدا ہوئیں اور وہاں پرورش پائی ۔ان کے والد ریل اسٹیٹ ڈویلپر اور والدہ پوحنا حدید سابق ماڈل ہیں ۔ان کی والد ڈچ جبکہ والد فلسطینی ہیں ۔2016ء میں ریوڈی جینر و اولمپکس میں ایکوسٹرین کی حیثیت سے ملک کی نمائندگی کرنا چاہتی تھیں لیکن 2013ء میں مہلک لائیم بخار میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس سوچ کو ترک کردیا۔2014ء میں نیویارک سٹی آگئیں اور پارسن سکول آف ڈیزائننگ میں فوٹو گرافی کی تربیت حاصل کرنا شروع کی مگر کامیاب ماڈلنگ کیرئیر کی وجہ سے انہیں سکول کو خیرباد کہنا پڑا۔

ماڈلنگ کیرئیر کا آغاز 16سال کی عمر میں کیا۔”سوان سنگز“میں اداکاربن برنس کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھائے جبکہ ”سموکنگ ہاٹ “میں ہولی کوپلینڈ کے ہمراہ کام کیا۔اس دور میں کئی بڑے منصوبوں میں کام کیا مگر مہلک بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کچھ عرصہ ماڈلنگ سے وقفہ لینا پڑا۔

نیویارک فیشن ویک میں اپنے کیرئیر کا آغاز 2014ء میں واک سے کیا۔اگلے سال سپرنگ فیشن ویک اور ایڈز گالا فیشن شو میں حصہ لیا ۔لندن فیشن ویک اور ملن فیشن ویک میں بھی ماڈلنگ کے جو ہر دکھائے ۔روم میں ایک بڑے برینڈ کیلئے پہلی مرتبہ ماڈلنگ واک میں حصہ لیا۔دسمبر 2014ء میں پہلی مرتبہ جیلوس میگزین کے سرورق پر شائع ہوئیں ۔اگلے سال سیونٹین میگزین کے سرورق پر بھی چھپیں ۔انہیں دنیا کے کئی معروف میگزین میں بھی چھپنے کا اعزاز حاصل ہوا۔جدید فیشن پر چھپنے والی دو کتابوں کے سرورق پر بھی چھپیں ۔ان کا شمار ٹاپ شاپ کی آٹھ مورماڈلز میں ہوتا ہے ۔

بیلا حدید پاپا رازیوں سے بے حد تنگ ہیں جو ہمہ وقت سائے کی طرح ان کے پیچھے سائے کی طرح چپکے رہتے ہیں ۔ان کی کئی مرتبہ انکے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیڈں ۔ان کا کہنا ہے کہ فنکار پبلک پراپرٹی ضرور ہوتے ہیں مگر ان کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کا کسی کوبھی حق نہیں ہے ۔ان کی اپنی بہن جی جی حدید کے ساتھ زبردست انڈر سٹینڈنگ ہیں مگر وہ کامیابیوں کیلئے ذاتی دماغ کو استعمال کرتی ہیں ۔ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کو جلا بخشنے میں انکی والدہ کا کلیدی کردار ہیں جو خود بھی اپنے دور کی مقبول ماڈل ہیں ۔

انسانی بھلائی کے کاموں میں بھی بیلا حدید کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔

کئی تنظیموں کے ساتھ ملکر فنڈ ریزنگ بھی کرتی ہیں جس کا مقصد خواتین اور بچوں کے مسائل حل کرنا ہے ۔مستقبل میں وہ ذاتی نام سے بھی تنظیم بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔مہلک بیماری کی وجہ سے ان کے ماڈلنگ کیرئیر کو سخت دھچکا لگا مگر جلد ہی اس پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئیں ۔ڈیلی فروسٹ فرنٹ رانے انہیں 2016ء میں ماڈل آف دی آئر کے ایوارڈ سے نوازا۔انہیں دنیا کی 50ٹاپ ماڈلز کی فہرست میں بھی جگہ مل چکی ہے ۔

بیلا حدید ذاتی زندگی میں خاصی لاپروا واقع ہوئی ہے انہیں کئی مرتبہ سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔22

جولائی 2014ء کو انہیں بغیر لائسنس تیز رفتار ڈرائیونگ کرنے پر نہ صرف لائسنس معطل کرایا بلکہ چھ ماہ کیلئے کمیونٹی سروسز کی سز ا بھی سنائی گئی ۔کینیڈین گلوکار کے ساتھ بھی ان کی دوستی کے چرچے رہے ۔اس کے سنگل ویڈیو گانے میں بھی کام کیا۔

گریمی ایوارڈ 2016ء میں جوڑی کی حیثیت سے شرکت کی ۔اسی سال نومبر میں انکی جوڑی ٹوٹ گئی۔رواں سال ان کی دوستی بحال ہو چکی ہے اور دونوں پبلک مقامات پر اکثر اکٹھے دکھائی دیتے ہیں ۔

انہیں مسلمان ہونے پر بے حد فخر ہے ۔اپنے فلسطینی والد کے کامیاب امریکی بزنس میں ہونے پر بھی انہیں فخر ہے ۔صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا چکی ہیں ۔پچھلے سال لندن مظاہرہ میں شرکت کی جس کا مقصد صدر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو دارالحکومت بنانے پر کڑی تنقید کی ۔