بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتبچے کی صحت۔ گھر بھر کا سُکون

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچے کی صحت۔ گھر بھر کا سُکون
صحت مند اور چاق چوبند رہنے کے لئے ہمیں چاہیے کہ ہم متوازن غذا کھائیں ۔ آج کل کھانے پینے کی زیادہ تر اشیا میں ملاوٹ کی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں خاندان بھر کو مختلف امراض سے بچانے اور تندرست رکھنے کے لئے۔۔۔
صدف آصف:
صحت مند اور چاق چوبند رہنے کے لئے ہمیں چاہیے کہ ہم متوازن غذا کھائیں ۔ آج کل کھانے پینے کی زیادہ تر اشیا میں ملاوٹ کی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں خاندان بھر کو مختلف امراض سے بچانے اور تندرست رکھنے کے لئے متوازن اور صحت بخش غذاوٴں کے انتخاب میں مشکل پیش آتی ہے لیکن اگر ہم کوشش کریں تو ایسی غذاوٴں کو اپنے دستر خوان کی زینت بنا سکتے ہیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی ذہنی تربیت کے ساتھ جسمانی صحت کا بھی خیال رکھیں۔ تمام والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے خوب تندرست و توانا ہوں لیکن اس کے لئے انھیں چاہیے کہ وہ ان کے کھانے پینے کا خیال رکھیں خاص طور پر ماں پرا س ذمے داری زیادہ ہوتی ہے۔ جب بچہ چھے ماہ کا ہو جائے تو اس کے دودھ پلانے کے علاوہ ہلکی پھلکی غذائیں بھی کھلانی شروع کریں۔چھوٹی عمر کے بچوں کو خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچوں کو ٹھوس اور متوازن غذا کھلانی چاہیے مگر ان کوا پنا دودھ بھی پلاتی رہیں۔ اگر بچہ ماں کا دودھ پینے والی مدت پوری کر چکا ہے تب بھی اسے دن میں ا یک چھوٹا گلاس دودھ کا ضرور پلانا چاہیے۔ دودھ میں موجود کیلسئیم اور چکنائی ہڈیوں کو مضبوط کرتے ہیں اور جسم کی بڑھوتری کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں۔
کچھ بچے کھانے کے معاملے میں ماوٴں کو بہت تنگ کرتے ہیں۔ مائیں پریشان ہو کر بچے کا منھ زبردستی کھول کر غذا اُس میں ٹھونسنے کی کوشش کرتی ہیں جس سے بچہ بُری طرح چڑجاتا ہے اور غذا منھ سے نکال دیتا ہے ۔ بچے کو ہر وقت کھلانے کی کوشش نہ کریں۔ اس کے لئے ہمیشہ کھانے کے اوقات مقرر کریں۔ مقررہ وقت پر جب بچے کو بھوک لگے گی وہ شوق سے کھانا کھائے گا۔
بعض خواتین صرف موٹے بچوں کو بہت صحت مند سمجھتی ہیں ، حال آنکہ ایسا سمجھنا غلط ہے۔ کچھ بچے قدرتی طور پر دُبلے پتلے ہوتے ہیں۔ ان کی مائیں پریشان رہتی ہیں کہ ان کے بچے اتنے دُبلے پتلے کیوں ہیں اور انھیں موٹا کس طرح کیا جائے۔ جو بچہ دُبلا پتلا ہونے کے باوجود ذہین اور چاق چوبند ہے وہ تندرست ہے ۔ مٹاپے کو بچے کی تندرستی سے جوڑنا غلط ہے۔ بچے کو تندرست اور توانا بنانے کے لئے اسے ایسی متوازن غذائیں کھلائی جائیں جو اس کی صحت کیلئے مفید ہوں جیسے تازہ سبزیاں دالیں پھل دودھ اور اس سے بنی ہوئی غذائیں۔ بچوں کو بازاری مشروبات اور غذاوٴں سے دور رکھنا چاہیے اور انھیں گھر کی بنی ہوئی غذائیں کھلانی چاہییں۔
یاد رکھیے جو بچے بازاری کھانے کھاتے ہیں ان کا وزن بڑھ جاتا ہے اور وہ معدے کی کئی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔بچوں کو ایسی غذائیں کھلائی جائیں جن سے ان کے جسم کو فولاد کیلسئیم اور لحمیات (پروٹینز) کی فراہمی بہ آسانی ہو سکے۔
آلو ایسی سبزی ہے جو ہر گھر میں پکتی ہے ۔ آلو میں نشاستے کی وافر مقدار ہوتی ہے ۔ چھوٹے بچوں کو آلو مختلف طریقوں سے پکا کر کھلایا جا سکتا ہے۔ ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ دو تین آلو اُبال کر ان کا بھرتا بنا لیا جائے۔ پھر ان میں تھوڑا سا نمک اور چٹکی بھر کالی مرچ ملا لی جائے۔ یہ بھرتا تھوڑا تھوڑا کر کے بچے کو کھلائیں وہ خوشی سے کھالے گا۔ دیسی فرغی کے سُوپ میں سے کچھ بوٹیاں نکال کر ان کے ریشے کر کے آلو کے بھرتے میں ملا کر بچے کو کھلائیں بچہ یہ بھی خوشی سے کھالے گا۔ اگر بچہ اسکول جاتا ہے تو اس کے لنچ کے ڈبے میں فرنچ فرائز بنا کر رکھ دیں۔
بچوں کو دیسی مرغی کا سوپ بنا کر پلائیں۔ اگر سوپ میں تھوڑی سی کٹی ہوئی پالک یا گاجر بھی ملا دی جائے تووہ زیادہ مزے دار اور توانائی بخش ہو جاتا ہے۔ دودھ یا ساگودانے کی کھیر بھی بچے کے لئے مفید ہوتی ہے۔ تھوڑے سے چاول اور مونگ کی دال کی کھچڑی بنا کر بچے کو کھلائیں۔ بچے کچھڑی شوق سے کھاتے ہیں۔ بچوں کو گندم یا جَو کا دلیا بھی کھلائیں۔ دلیا میٹھا بھی بنایا جا سکتا ہے اور نمکین بھی۔اگر دلیا دودھ اور شکر کے ساتھ ملاکر پکائیں تو مزے داربنتا ہے ۔ میٹھا دلیا بچے شوق سے کھاتے ہیں۔ دلیے کوگوشت کی یخنی اور مونگ کی دال میں ملا کر بھی پکایا جا سکتا ہے ۔ نمکین دلیا بھی بچے شوق سے کھاتے ہیں۔نمکین دلیا ذائقے دار اور غذائیت سے بھر پور ہوتا ہے۔ اس دلیے میں لحمیات، نشاستہ اور چکنائی ہوتی ہے جو بچے کی صحت کیلئے مفید ہوتی ہے۔
سادہ کسٹرڈ بھی بچوں کو مرغوب ہوتا ہے۔ دودھ میں کیلا ملا کر بچے کوکھلائیں۔ اس سے اسے کیلسئیم اور یشہ دونوں ملیں گئے۔ بچے کی صحت کیلئے اسے اُبلا ہوا صاف ستھرا پانی پلانا چاہیے۔ بچے کی صحت کے معاملے میں والدین کو ہرگز غفلت نہیں برتنی چاہیے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے