بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتبچوں کی ابتائی تعلیم

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچوں کی ابتائی تعلیم
تعلیم تو ماں کی گود سے ہی شروع ہوجاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ اس عمر کے بچوں کو منظوم کہانیاں’واقعات رباعیاں اورنظمیں وغیرہ یاد کرائیں اور ترنم اور لے کے ساتھ گانا سکھائیں موسیقی بچے بہت جلد سیکھتے ہیں
بچوں کی ابتائی تعلیم
بچے کی تعلیم تو ماں کی گود سے ہی شروع ہوجاتی ہیں لیکن پانچ سال کی عمر میں بچہ سکول جانے کے قابل ہوجاتا ہے یعنی یہ وہ عمر ہوتی ہیں جب بچہ قانون و قواعد کی پابندی کرنا کچھ نہ کچھ سیکھ لیتا ہے اور اس لیے اسی زمانے میں اس کی باضبطہ پرائمری تعلیم شروع کرادی جاتی ہیں یہ وہ عمر ہے جب بچے میں ترنم سے محفوظ ہونے اور موسیقی اور ڈرامے سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت بدرجہ”اتم ہوتی ہیں والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ اس عمر کے بچوں کو منظوم کہانیاں’واقعات رباعیاں اورنظمیں وغیرہ یاد کرائیں اور ترنم اور لے کے ساتھ گانا سکھائیں موسیقی بچے بہت جلد سیکھتے ہیں اس طرح پانچ سال کی عمر میں بچوں کو کہانی سننے کا چسکا بھی بہت زیادہ ہوتا ہے مختلف پالتو جانوروں کی کہانیاں اور ایسے انسانوں کی کہانیاں جو ان کی ہم عمر اور ان کے اپنے ماحول سے قریب ہوں ان کی بہت متاثر کرتی ہیں وفادار کتا،عقل مند مینا،نیک لڑکا اوربہادر شہزادہ وہ کردار ہیں جو بچے کے ذہن کی شفاف تختی پر ایک ان مٹ نقش کی طرح ثبت ہوجاتے ہیں ماں اور اساتذہ کے فرائض میں سے یہ چیز خاص اہمیت کی حامل ہونی چاہیے کہ وہ یاد رکھیں کہ ا نہی کہانیوں کا سہارا لے کر اور انہی کرداروں کے پردے میں انہیں بچے کو زندگی کی احسن اور سعید اقدار دینا ہیں،اس میں نیک بد کی امتیازی حسن پیدا کرنا ہے اور اسے جہد حیات کے لیے تیار کرنا ہے ان کہانیوں میں اگر کچھ مزاج کا پہلو بھی ہو تو بچے اس سے بہت محفوظ ہوتے ہیں کسی آرٹسٹ نے کہا تھا کہ رنگ موسیقی کھلی فضا اور مٹی بچوں کی بنیادی ضروریات سے ہیں بچوں کی پانچ سال کی عمر میں ڈرائنگ کی سہولتیں یعنی رنگ کاغذ اور برش وغیرہ ضرور خرید کر دینا چاہیں اس طرح انہیں کھلی فضا میں مٹی میں کھیلنے کی اجازت بھی ہونی چاہیے ،مٹی کی گھروندوں میں اور تصویروں میں جو بچے بناتے ہیں دراصل ان کی تعمیری جبلت کی بڑی تسکین ہوتی ہیں ، حساب اور جیومیٹری سکھانے میں ان کے کھلونے بھی بڑے ممد ہوسکتے ہیں اگر آپ ان سے کہیں کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں تو شاید وہ اتنی جلدی نہ سمجھ سکیں الیکن اگر آپ دو رنگین گیندیں ایک ہاتھ میں لیں اور دو ایک ہاتھ میں اور پھر ان کو ملا کر ان سے گننے کو کہیں تو نتائج یقینا بہتر ہوں گے،یا اگر میٹھی گولیاں اور ٹافیاں آپ ان سے گنوائیں تو زیادہ بہتر طریقے پر انہیں گنتی سکھائی جاسکتی ہیں۔
بچے کا تجسس: تجسس بچے کی فطرت ہے،بچے اپنی تجسس کی عادات کے باعث ہر چیز کوچھیڑتے،چھوتے اور توڑتے پھوڑتے ہیں اس لیے ان کا چوٹ کھانا یا خود کو نقصان پہنچا لینا کوئی حیرت کی بات نہیں،ویسے بھی پانچ سال کی عمر کے بعد بچہ توانائی کا ایساابلتاہوا چشمہ ہوتا ہے کہ جسے روکا نہیں جاسکتا کیونکہ اس عمر میں اسے اپنے ہاتھ پیروں پر قابو بھی حاصل ہوجاتا ہے اور وہ ان سے کام لینا بھی سیکھ چکا ہوتا ہے اس لیے اب وہ اپنے اوپر کچھ زیادہ ہی اعتماد کرلینے لگتا ہے اور ہر چیز میں گھس کر ہر جگہ پہنچ کر اور ہر شے کو چھیڑ کر اور چھوڑ کر اس کی اصلیت معلوم کرنا چاہتا ہے تجسس کا یہی میلان اس سے ہر لحظہ ”کیوں اور کیسے“کا جواب مانگتا رہتا ہے،بچے اکثر والدین اور گھر کے دیگر بزرگوں سے سوالات پوچھتے رہتے ہیں:یہ کیوں ہیں؟وہ کیسے ہیں؟بعض اوقات ماں باپ اور دیگر بزرگ بچوں کے سوالات کی کثرت سے اس درجہ تنگ اور پریشان ہوتے ہیں کہ انہیں جھڑک دیتے ہیں یہ بڑی غلط بات ہے۔بزرگوں کو اپنے رویے میں تحمل قائم رکھنا چاہیے اور بچوں کے ان سوالات کو خاص اہمیت دینی چاہیے تاکہ ان کی تجسس کی خو کو پنپنے کا موقع ملے جو آگے جاکر بچوں کو موجد اور سائنس دان بناتی ہیں واٹ نے اگر دیگچی میں ابلتے پانی کو دیکھ کر دیگچی کے ڈھکنے کے ہلنے کی وجہ نہ معلوم کی ہوتی ہم ریل گاڑیوں سے محروم ہوتے۔
سکول: پانچ سال کی عمر میں بچہ سکول جانے کے قابل ہوجاتا ہے سکول کا ماحول گھر کے ماحول سے بہت مختلف ہوتا ہے یہاں بچے کو کچھ پابندیاں اور کچھ اصول و ضوابط سے واسطہ پڑتا ہے اور یہیں اس کی ابتدائی تعلیم باضابطہ طور پر شروع ہوتی ہیں،یہ بڑی افسوس ناک بات ہے کہ ہمارے یہاں عام سکولوں کا ماحول بڑا ناخوشگوار ہے،سکولوں میں عام طور پر اساتذہ کا رویہ مشفقانہ ذرا کم ہی ہوتا ہے بلکہ بچوں کے ذہن پر ہر لحظہ ان کا خوف طاری رہتا ہے اورخوف وہ عفریت ہے جو بچے کی تعمیری صلاحیتوں کا بدترین دشمن ہے،اساتذہ کا رویہ ایسا ہونا چاہیے کہ بچے کے دل میں خوف کی بجائے ان کے احترام کا جذبہ کار فرما ہو،ہمارے ہاں استادوں کی یہی کوشش ہوتی ہیں کہ وہ جلد از جلد سلیبس کی کتابیں ختم کرلیں حالانکہ انہیں کتابوں کے بجائے بچے کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے یوں بھی پرائمری تعلیم کو تعلیم سے زیادہ آئندہ کی تعلیم کے لیے تیاری تصور کرنا چاہیے اور اس عمر میں” تعلیم بذریعہ کھیل“کے اصول پر عمل کرنا چاہیے ہمارے ہاں اس وقت مضامین کا بوجھ بچوں کی عمر ان کی بساط اور استعداد سے بہت زیادہ ہے۔کئی مضامین ایسے ہیں جن کو کسی ایک مضمون کے تحت یکجا کیا جاسکتا ہے مثلا ہائجین،سائنس،معاشرتی علوم اوت اُردو کی کتاب میں ان مضامین سے متعلق چھوٹے چھوٹے موضوعات پر کہانیاں شامل کی جاسکتی ہیں اور کہانیاں بھی اگر منظوم ہو ں تو زیادہ بہتر ہے کہ بچے انہیں گاکر اور لے کے ساتھ پڑھ سکیں،ڈھائی ہزار سال قبل افلاطون نے موسیقی کو روح کی غذا قرار دیتے ہوئے اسے اپنے نظریہ تعلیم کا ایک لازمی جزو قرار دیا تھا چنانچہ آج کی مہذب دنیا میں موسیقی کو تعلیمی مقاصد کے لیے باقاعدہ استعمال کیا جارہا ہے۔
اُستاد: استاد کی شخصیت وہ محور ہے جس پر پورا تعلیمی نظام گھومتا ہے استاد کی شخصیت شعوری اور لاشعوری طور پر بچے کے کردار اور اسکی سیرت پر اثر انداز ہوتی ہیں،چھوٹے چھوٹے بچے استاد کی شخصیت سے متاثر ہوکر ان کی تقلید کرنے کی کوشش کرتے ہیں بچوں میں قدرت کی طرف سے دویوت کردہ ایک و صف نقل کرنے کا ہوتا ہے کبھی تو وہ یہ نقل شعوری طور پر کرتے ہیں اورکبھی غیر شعوری طور پر ان سے وہ افعال سرزد ہوتے ہیں جووہ دیکھتے ہیں استاد کی تقلیدکی ذمہ داری اور اس کا کام اس سے کہیں زیادہ مشکل اور اہم ہے،جتنا بظاہر نظر آتا ہے،بچہ جب تک ماں سے منسلک رہتا ہے اس کا شعور خفتہ اور عادات ناپختہ ہوتی ہیں جب وہ سکول جانے کے قابل ہوتا ہے تو اس کا شعور کچھ کچھ بیدار ہونے لگتا ہے۔یہی وہ زمانہ ہے جب بچے کے سامنے استاد کی شخصیت آتی ہیں استاد کو ماں کی طرح مشفق اور بہن کی طرح دردمند ہونا چاہیے اوراپنے افعال وکردار میں اس بات کا ہر لحظہ دھیان رکھنا چاہیے کہ وہ بچے کے لیے ایک مثال ہے استاد کی شخصیت اس کی گفتگو اور اس کے افعال و کردار کی بچے کے ذہن پر بڑی گہری چھاپ ہوتی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے