Bachon Ki Tarbiyat Main Tafreek Na Kareen

بچوں کی تربیت میں تفریق نہ کریں․․․

بدھ اگست

Bachon Ki Tarbiyat Main Tafreek Na Kareen
بچے قدرت کا ایک انمول عطیہ ہیں جو لوگ اس نعمت سے محروم ہیں ان کی تڑپ دیکھ کر بچوں والے ماں باپ کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے انہیں کتنی بڑی نعمت سے نوازا ہے۔شادی ہونے کے بعد جب عورت کویہ احساس ہوتا ہے کہ وہ ماں بننے والی ہے تو اس کی خوشی قابل دید ہو تی ہے اس کا شوہر بھی اس خوشی میں اس کا ساتھ دیتاہے۔ماں بننے کے لیے تکلیف وہ مراحل سے گزر کر جب ایک معصوم ساوجود ماں کے ہاتھوں میں آتا ہے،تو وہ اپنی تمام تکالیف بھول جاتی ہے بچہ ماں کے جسم کا ایک حصہ ہوتا ہے جو اسے اپنی جان سے زیادہ پیارا ہوتاہے۔

بچے کے دنیا میں آنے کے بعد ماں باپ کی توجہ اسی پر مرکوز ہو جاتی ہے۔اس کی ہر آواز پر وہ لپک کر جاتے ہیں اس کی معمولی سی تکلیف کا درد وہ اپنے اندر محسوس کرتے ہیں اس کی پرورش خوشگوار ماحول میں ہوتی ہے۔

(جاری ہے)


ایک بچے کے بعد دوسرا بچہ بھی اس ماحول کا حصہ بننے آجاتا ہے جب دوسرا بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو بعض اوقات ماں باپ کی توجہ کی مرکز اب وہ دوسرا بچہ ہے ان کی محبت تقسیم ہو جاتی ہے پہلے بچے کو نظر انداز کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے ۔

اس سلسلے میں والدین کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
بعض والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ دوبچوں کے درمیان میں کم از کم تین سال کا فرق تو ہو۔تین سال کا بچہ ماں باپ کی بدلی ہوئی نظر کو بخوبی پہچان سکتا ہے اس سلسلے میں کچھ والدین یہ رویہ بھی اپناتے ہیں کہ دوسرے بچے کی صرف ضرورت پوری کردیتے ہیں جبکہ پہلے بچے کو ہی اپنی توجہ کا مرکز بنائے رکھتے ہیں ۔

طریقہ جو بھی ہو اس میں ایک بچہ تو نظر انداز ہو رہا ہے۔بچے کا معصوم ذہن یہ نہیں سمجھ پاتا ہے کہ آخر اس نے ایسا کیا کیا ہے جو اس کے امی ابو اب اس کی بات نہیں سنتے،بچے یہ بات پسند کرتے ہیں کہ ان کے گھر میں کوئی چھوٹا سا بچہ ہو لیکن جب وہ چھوٹا بچہ ان کے گھر آجاتا ہے تو اس کو ملنے والی توجہ سے وہ اس ننھے مہمان کو اپنا رقیب تصور کر لیتا ہے،ایسے وقت میں والدین کو محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔


والدین دوسرے بچے کی پیدائش سے پہلے ہی یہ طے کرلیں کہ انہیں آئندہ کس طرح دونوں بچوں کو سنبھالنا ہے اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات مفید ہو سکتے ہیں۔
بچے کو آنے والے مہمان کے لیے راضی کریں:
والدین پہلے تو خود کو ذہنی طور پر آمادہ کریں کہ اب ایک اور بچے کی ضرورت ہے پھر اپنے پہلے بچے کو سمجھائیں کہ اب تمہارا دوست آنے والا ہے۔

اس کو کسی قریبی رشتے دار کی مثال دیں کہ وہ دیکھو گڑیا کا بھائی کتنا پیارا ہے یا سارہ کی چھوٹی سی گڑیا بہن ہے جو تمہارے ساتھ کھیلے گا،باتیں کرے گا اور بھائی جان کہے گا یا ایک بہن ہم لائیں گے اس کو پیار کرنا،اس کے کام کرنا وغیرہ وغیرہ۔دوسرے بچے کی پیدائش تک پہلے بچے کو اچھے انداز میں سمجھاتے ہیں۔
اس سے چھوٹے چھوٹے کام لیں:
پہلے بچے کو یہ سمجھائیں کہ مما کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔

جب نوزائیدہ بچے کے کپڑے بدلیں تو بڑے بچے سے صاف کپڑے منگوائیں کہ جاؤ بیٹا سامنے سے وہ کپڑا لے آؤ یا گندے کپڑے ربن میں ڈلوائیں اسی طرح پاؤڈر اور لوشن کا ڈبہ منگوائیں یہ اشیاء پہلے سے ہی سامنے رکھیں۔جب بچہ یہ لادے تو ان کو پھر اوپر رکھیں تاکہ وہ والدہ کی غیر موجودگی میں خود سے استعمال نہ کرے اسی طرح دونوں کو توجہ ملے گی۔
بچوں کو تعصب سے بچائیں:
گھر میں دونوں یا تینوں بچے بڑے ہورہے ہیں اور یہاں والدین کو بہت ہو شیار ی سے کام لینا ہے بچے کی صنف ،رنگت ،شکل وصورت ،اسکول میں کار کردگی ،دوستوں کی تعداد وغیرہ ایسے عوامل ہیں جن کا بچوں پر بہت اثر پڑتا ہے۔


بچے میں بڑوں کی خاموش نگاہیں پڑھ لینے کا ہنر ہوتا ہے کچھ نا سمجھ والدین شکل وصورت کی بنیاد پر بھی ایک بچے کو دوسرے بچے پر ترجیح دیتے ہیں ۔وہ منہ سے نہ بھی بولیں پھر بھی نظر انداز ہونے والا بچہ اپنی خامی کو جان جاتاہے۔
اسی طرح لڑکوں کو لڑکی پر فوقیت دینا یا ذہین بچوں پر ترجیح دینا وغیرہ یہ عوام ایک بچے کے لیے تو خوش کن ہیں لیکن دوسرا بچہ جو ان تمام عوامل میں نظر انداز ہورہا ہوتا ہے ایسے بچے آہستہ آہستہ احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

مسلسل ان کو نظر انداز کیا جائے تو دوسرے بچوں کے لیے ان کے دل میں غلط جذبات پیدا ہوتے ہیں۔یہ بچے تعصب میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔بات بے بات دوسرے بچوں سے جھگڑتے ہیں ،ان کی شکایت کرتے ہیں ۔اپنی خامی پر قابو پانے کے بجائے مزید جذباتی ہو جاتے ہیں۔
تدارک:
والدین بچوں کو اخلاقی اصول سکھائیں،بچوں میں فرق نہ برتیں ،اگر ایک بچہ زیادہ خوبصورت ہے تو اسے اہمیت نہ دیں ،بچے اللہ کی طرف سے تحفہ ہیں اور ان کے ساتھ رویے برابر ہونے چاہئیں۔

بچوں کو دوسروں کے سامنے ہر گز نہ ڈانٹ ڈپٹ کریں اگر اسد لڑکا ہے اور سارہ لڑکی تو بار بار یہ نہ بولیں کہ یہ تو لڑکا ہے اس کو فلاں کام کرنے دو یا بھائی کو یہ چیز دے دو تم رہنے دو وغیرہ․․․اگر بیٹی زیادہ ذہین ہے تو دوسرے بچوں کو کم عقل ہونے کا طعنہ نہ دیں بلکہ انہیں زیادہ توجہ اور پیار دیں۔
بچوں کو سوچنے اور فیصلہ کرنے کا موقع دیں:
بچے جیسے جیسے بڑے ہونے لگتے ہیں چاہتے ہیں کہ وہ خود سے کچھ کریں بلکہ خود اپنے بچے کو احساس دلائیں کہ اب اسے خود سے سوچنا چاہیے جیسے اگرZOO یا پلے گارڈن جانا چاہتے ہیں تو فیصلہ بچوں کو کرنے دیں،پہلے اپنا نقطہ نظر بیان کریں پھر بچوں سے کہیں کہ ہاں بھئی اب خود سوچو اور فیصلہ کرو کہ ہمیں کہاں جانا چاہیے ۔

یہاں یہ خیال ضرور رکھیں کہ اس کام میں سارے بچے شامل ہوں۔ جب بچے اپنا فیصلہ سنادیں تو اس کا خیر مقدم کریں لیکن بچے تو بچے ہیں وہ غلط فیصلہ بھی کر سکتے ہیں یہاں ہو شیاری سے کام لے کر فیصلے میں ترمیم کرلیں۔
بچوں پر اپنی مرضی نہ مسلط کریں ،کسی ایک بچے کی نہ سنیں بلکہ دونوں کی بات پر دھیان دیں ۔بچوں کو بڑوں کی رہنمائی کی ضرورت ہر لمحہ رہتی ہے اس لیے مسئلے کا حل ایسا ہو کہ بچے بھی خوش رہیں اور والدین کی بات بھی قائم رہے۔


بچوں کو ایک نظر سے دیکھیں:
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ ہمیشہ یکساں برتاؤ کریں۔یہ حقیقت ہے کہ والدین اپنے سب ہی بچوں سے ایک سی محبت کرتے ہیں لیکن اکثر اوقات ان کا رویہ ایک کے ساتھ اچھا اور دوسرے کے ساتھ غلط ہو جاتا ہے ۔یہ درست ہے کہ اکثر بچے فطری طور پر ذہین اور سلجھے ہوئے ہوتے ہیں اورکچھ بچے شرارتی ہوتے ہیں لیکن والدین کا رویہ دونوں سے برابر ہونا چاہیے۔


بچوں کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ ان میں سے ایک اچھا اور دوسرا غلط ہے۔علیحدگی میں بچوں کو سمجھائی۔کہانی کے ذریعے اچھی باتیں بچوں کو بتائیں دوسرے بچے کی خوبی اس طرح ظاہر کریں کہ اسے اپنے اندر کمی کا احساس نہ ہو۔
اگر بچہ دوسرے بچے کی شکایت کررہا ہے تو چاہے وہ صحیح ہے یا غلط پہلے پوری بات سن لیں اور جو بھی اس مسئلے کا حل ہے وہ صحیح طریقے سے بچوں پر ظاہر کریں، چھوٹے بچوں میں یہ صلاحیت پیدا کریں کہ وہ اپنے سے بڑے بچوں سے اچھی باتیں سیکھے اور بڑے بچوں میں چھوٹوں سے محبت کا احساس پیدا کریں۔


بات صرف کوشش کی اور سمجھنے کی ہے ۔ماں اور بچے کا رشتہ ایک نہایت خوبصورت اور عظیم رشتہ ہے۔ماں تو بچے کے بولنے سے پہلے اس کے دل کا حال جان جاتی ہے۔ضروری یہ ہے کہ اپنے احساسات اور جذبات کو اچھے طریقوں سے ظاہر کرتے ہوئے اس کی اچھی تربیت کریں تاکہ اس کے اچھے طور طریقوں سے خود اس کا اور اس کے ماں باپ کا نام روشن ہو۔
تاریخ اشاعت: 2019-08-07

Your Thoughts and Comments

Special Child Care & Baby Care Articles article for women, read "Bachon Ki Tarbiyat Main Tafreek Na Kareen" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.