بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتبچوں کے ٹیکے

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچوں کے ٹیکے
اس وقت بچے کے بازو کو پانی سے بچانا چاہیے پہلے نوزائیدہ بچے کو عام طور پر ایک ہی مرض یعنی چیچک کا حفاظتی ٹیکہ لگایا جاتا تھا مگر اب بچوں کو چھ مختلف بیماریوں کے حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں
بچوں کے ٹیکے
ڈاکٹر بچوں 1.1/2 ماہ کی عمر تک ٹیکے لگوانے کا مشورہ دیتے ہیں ٹیکہ لگوانے کے چند دن بعد تک عموماً بچے کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی اس کے بعد ٹیکے پھولنے لگتے ہیں ،آس پاس جگہ سرخ ہوجاتی ہیں اس وقت بچے کے بازو کو پانی سے بچانا چاہیے پہلے نوزائیدہ بچے کو عام طور پر ایک ہی مرض یعنی چیچک کا حفاظتی ٹیکہ لگایا جاتا تھا مگر اب بچوں کو چھ مختلف بیماریوں کے حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں واضع رہے کہ چیچک کے مرض پر تقریباً مکمل قابو پالیا گیا ہے۔
وہ چھ بیماریاں جن کے بچے عام طور پر شکار ہوسکتے ہیں وہ یہ ہیں۔
۱۔پولیو یعنی بچوں کا فالج،۲۔کالی کھانسی،۳۔تپ دق،۴۔خناق،۵۔تشنج،۶۔خسرہ،
یہ چھ بیماریاں کیا ہے ان کے علاج کا بروقت زمانہ کون سا ہے ان کی پہچان کیا ہے؟یہ بیماریاں بچوں میں کیوں ہوتی ہیں؟ان کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر کون سی ہیں؟ان تمام سوالات کے متعلق ایک عام آدمی کو تھوڑی بہت معلومات ضرور ہونی چاہیے ذیل میں ان بیماریوں کے بارے میں الگ الگ کچھ تعارف کرایا گیا ہے۔
پولیو یا بچوں کا فالج:اس بیماری کی ابتدا بچے کی پیدائش کے بعد ایک سال یا چھ ماہ کے اندر کسی وقت بھی ہوسکتی ہے اس بیماری کی علامت زکام،بخار اور پٹھوں کے درد کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں اس بیماری کی سب سے خطرناک حالت یہ ہے کہ خدا نہ کرے اگر ااس بیماری کا حملہ ایک بار ہوجائے توپھر اس کا کوئی علاج ممکن نہیں ہوتا لیکن اس بیماری کے پیدا ہونے سے پہلے آپ اپنے بچوں کو حفاظتی دوا کے چند قطرے دے دیں تو اس بیماری کے ابھرنے کے خدشات سے محفوظ ہوا جاسکتاہے اس لیے بچے کی پیدائش کے بعد بچے کو پولیو سے بچاؤ کی دوائی کے چند قطرے ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق دے دینت چاہیں،یوں انشاء اللہ آپ کا بچہ اس موذی بیماری سے تمام عمر کے لیے محفوظ ہوجائے گا۔
کالی کھانسی: کھانسی کی کئی قسمیں ہوتی ہیں ان میں سے ایک کالی کھانسی ہے جو ایک خطر ناک بیماری ہے۔اور بہت سی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتی ہے بچوں کے لیے یہ بیماریاں بہت تکلیف دہ ہوتی ہیں کالی کھانسی کی وجہ سے پھیپھڑے کی نالی میں بلغم بھی پیدا ہوجاتا ہے چونکہ بچے بلغم نہیں نکال سکتے اس لیے یہ ان کے پھیپھڑوں کی نالیوں میں جم جاتا ہے جس سے انہیں سانس لینے میں بہت پریشانی ہوتی ہیں کالی کھانسی کی وجہ سے بچے زیادہ آرام سے سو نہیں پاتے اس لیے وہ چڑچڑے بھی ہوجاتے ہیں۔کالی کھانسی کی ابتدا عموماً معمولی کھانسی نزلے یا زکام سے ہوتی ہیں اگر اس کی روک تھام ابتدا ہی میں نہ کی جائے تو مستقل روگ بن جاتی ہیں لہذا بچے کی پیدائش کے فوری بعد ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق بچوں کو کالی کھانسی کا ٹیکہ ضرور لگوائیں اس سے آپ کا بچہ عمر بھر کے لیے اس تکلیف دہ بیماری سے چھٹکارا پالے گا اور ان بیماریوں سے بھی محفوظ رہے گا جو اس بیماری کی وجہ سے پیدا ہوسکتی ہیں۔
تپ دق یا ٹی۔بی : تپ دق جسے عام طور پر لوگ ٹی۔بی کے نام سے جانتے ہیں یہ بیماری انسانوں کے ساتھ خاصی پرانی چلی آرہی ہے لیکن اس بیماری کی اصلیت،علامات اور نقصانات سے عام لوگوں کو بہت کم یا بالکل واقفیت نہیں یہ بیماری مارتی کم ہے گھسیٹتی زیادہ ہے یعنی اس بیماری کا شکار ہونے والے بچے اور جوان آہستہ آہستہ گھلتے رہتے ہیں یہ بیماری انسان کی بیرونی جلد اور تازگی کے ساتھ ساتھ اندرونی مشینری کا ستیاناس کردیتی ہیں اگر چہ بعض ترقی یافتہ ممالک میں یہ بیماری بالکل ختم ہوچکی ہیں لیکن ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں میں ابھی تک موجود ہیں۔
اس بیماری کی ابتدا ہلکے بخار کھانسی اور بلغم سے ہوتی ہیں مریض کو بھوک بہت کم لگتی ہیں اور اس کا وزن گھٹنے لگتاہے۔یہاں تک کہ مریض بعض اوقات ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے اس بیماری کے بڑھ جانے پر مریض خون آمیز بلغم تھوکنے لگتا ہے یہ بیماری ایک سے دوسرے انسان کو بہت جلد لگ سکتی ہیں اس لیے اس کی روک تھام بہت ضروری ہوتی ہیں۔اگر کسی گھر میں ایک فرد کو ہوجائے تو اس کے جراثیم جو کھانسنے اور بلغم تھوکنے کے دوران نکلتے ہیں وہ پھیل کر گھر کے دوسرے افراد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اس بیماری کی روک تھام کے لیے بچوں کو بی،سی،جی کا ٹیکہ لگوایا جاتا ہے جس سے ٹی ۔بی یا تپ دق کے ہونے کے امکانات تقریباً ختم ہوجاتے ہیں اس لیے بچوں کو ان کی پیدائش کے فوری بعد دوسری بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے لگوانے کے ساتھ ساتھ تپ دق سے بچاؤ کا ٹیکہ بھی لگوایا جائے تو آپ کا بچہ آنے والے وقت میں اس خطرناک بیماری سے محفوظ رہے گا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے