بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتبچے کے لیے گھر کی اہمیت

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچے کے لیے گھر کی اہمیت
گھر کا ساز گار ماحول اور خوش گوار فضا بچوں میں احساس تحفظ مہیا پیدا کرتے ہیں اور انہیں احساس محرومی اور احساس کمتری کا شکار نہیں ہونے دیتے
بچے کے لیے گھر کی اہمیت:
گھر کا موضوع اتنا وسیع ہے کہ اس پر بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن مختصراً اس کی تعریف یوں کی جاسکتی ہیں کہ گھر کو بچوں کے لیے روحانی اور جسمانی دونوں اعتبار سے زیادہ آرام دہ ہونا چاہیے گھر کا ساز گار ماحول اور خوش گوار فضا بچوں میں احساس تحفظ مہیا پیدا کرتے ہیں اور انہیں احساس محرومی اور احساس کمتری کا شکار نہیں ہونے دیتے۔گھر میں کسی بھی قسم کی الجھن،بدمزگی اور سراسیمگی پیدا کرنے والے عناصر کا جائزہ لینا ماں کا فرض ہے گھر میں ترتیب و سلیقہ نفاست و صفائی بچے پر بڑا خوش گوار اثر ڈالتی ہیں ہر وہ چیز جس سے آپ کا بچہ خود کو نقصان پہنچا سکتا ہوں اس کی پہنچ سے باہر رہنی چاہیے، دیاسلائی،بلیڈ،چاقو،سوئی دھاگہ اور مختلف قسم کی نوکدار اشیا وہ چیزیں ہیں جن سے بچے خود کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ان سب چیزوں تک بچے کا ہاتھ ہرگز نہیں پہنچنا چاہیے، سب سے بہترتویہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو گھر کا ایک کمرہ بچوں کے لیے علیحدہ کردیا جائے یا کسی بڑے کمرے کا ایک گوشہ ہی ان کے لیے مخصوص کردیا جائے تاکہ وہ اس میں اپنی پسند کی اشیا کھیل کھلونے وغیرہ رکھ سکیں اور بوقت ضرورت اپنی من مانی کرسکیں یعنی کودیں ،اچھلیں اوراُدھم مچائیں اس کمرے یا اس مخصوص حصے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے جس سے بچے خود کو نقصان پہنچالیں،ہر لحظہ ان کو گھر کنے،ڈانٹنے اوران سے یہ کہنے کے بجائے کہ یہ نہ چھوؤ ،وہ نہ کرو،یہ کہیں بہترہیں کہ آپ ایسی اشیا جن سے وہ خود کو نقصان پہنچاسکیں ان کی نظروں کے سامنے ہی نہ رہنے دیں گھر میں ماں کے فرائض میں یہ چیزیں بھی شامل ہے کہ وہ فوری حادثات کے تیار رہے اچانک بچہ گرپڑتا ہے اچھلنے کودنے میں اسے چوٹ آجاتی ہیں جل جاتا ہے،ہاتھ کاٹ لیتا ہے،تو ایسی صورت میں ماں کے لازم ہے کہ وہ اپنے پاس ایک فرسٹ ایڈ بکس رکھے جس میں کچھ صاف پٹیاں تھوڑی صاف روئی،برنال،آیوڈیکس،ڈیٹول،سپرٹ،امونیا ایرومیٹک، اے پی سی اور گلیسرین وغیرہ نیز ایک صاف ستھری چھوٹی چمٹی اورایک قینچی وغیرہ ہو،آپ یہ فرسٹ ایڈ بکس کسی بھی چھوٹی سی صندوقچی میں بنا سکتی ہیں اور اس سے پہلے کہ آپ ڈاکٹر کے پاس طبعی امدا د حاصل کرنے کے لیے پہنچیں فوری طور پر اپنے بچے کو خود ابتدائی طبی مدد دے کر تکلیف کی شدت میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔گھر میں کچھ خانگی کھیلوں کا انتظام بھی ہونا چاہیے اکثر بچے گھروں سے نکل کر اس لیے آس پاس پھرنے اور گھر والوں کو پریشان کرتے ہیں کہ گھر میں ان کی دلچسپی کا کوئی سامان نہیں ہوتا لڈو اور کیرم وغیرہ ایسے کھیل ہیں جوگھر میں بچوں کی توجہ اور دلچسپی کو برقرار رکھتے ہیں اور ان کے ذہن کو مصروف بھی گھر میں طوطا،کبوتر،بلی اور دیگر پالتو جانور رکھنا بھی بچوں کے لیے بہت مفید ہے۔خصوصاً ایسے گھروں میں جہاں بچہ اکیلا اور تنہا ہو ایسے بچے کو کھیل کے لیے ایک ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے گڑیا گڈے جیسے بے حس اور بے جان کھلونوں کی نسبت یہ سچ مچ کے جیتے جاگتے کھلونے اسے زیادہ پسند آتے ہیں وہ انہیں بولتا اور حرکت کرتا دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں

(0) ووٹ وصول ہوئے