بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتدوسرے درجے کا اہتمام

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دوسرے درجے کا اہتمام
مضبوط شے یا کپڑا باندھ کر اسے زور سے کھینچے
دوسرے درجے کا اہتمام
اس درجے میں بہر حال زچہ کو بستر میں لیٹ جانا چاہیے اس درجے میں بچے کا سر اب رحم کے منہ کو کھول رہا ہوتا ہے،چنانچہ جب درد آئے تو زچہ اپنے پاؤں کو چارپائی کی پائیوں پر رکھ کر زور سے دبانے اور ساتھ ہی پائینی پر تولیہ یا کوئی اور مضبوط شے یا کپڑا باندھ کر اسے زور سے کھینچے۔نیز اپنے سانس کو روک کر زور سے نیچے کی طرف کونتھے،جونہی بچے کا سر فرج کی بیرونی سوراخ میں آجائے تو زچہ کے پاؤں کو چارپائی کی پائینی سے ہٹالیں اگر وہ پاؤں کو پائیوں کے خلاف دبا رہی تھیں تو اب ایسا کرنا بند کردے اگر وہ پائینی پر تولیہ یا کپڑا ڈال کر اسے کھینچ رہی تھی تو یہ مشغلہ بھی بند کردے،اب زچہ سے کہیں کہ وہ اپنا سانس نہ روکے اگر وہ چیخنا چلانا چاہے تو اس کو اس کی اجازت دے دیں۔
زچگی کے دوران بالخصوص پلیٹھن میں اس امر کی احتیاط لازم ہوگی کہ فرج کے اردگرد زیادہ چیر نہ آنے پائے،اگر دردبڑی تیزی سے آرہے ہوں اور معاملے کو جوں کا توں ہی چھوڑ دیا جائے کہ خود بخود بچے کی پیدائش ہوجائے گ ی تو فرج کے گرد زیادہ گہرے چیر آجاتے ہیں،پلیٹھن کے سلسلے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ چیر ناگریز ہیں لیکن مناسب دیکھ بھال سے ان سے بھی اکثرنجات کی صورت نکل آتی ہیں،اصلاً سیون کا یہ چیز فرج کی پچھلی دیوار سے شروع ہوتا ہے اس لیے سیون پر سہارا دینے یاحصے کو مجرب کرنے یعنی ابالاً ہوا زیتون کا یا دوسرا کوئی مصفاتیل لگانے سے یا ہلکی ٹکور کرنے سے ان چیروں سے بچ نکلنے میں مدد ملتی ہے،پس تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اصل پیدائش کے اہتمام میں ان امور کا خیال رکھیں:
۱۔ یہ کوشش نہ کی جائے کہ بچے کا سر جلدی باہر آجائے۔
۲۔بچے کے سر کو اس وقت تک ایک مقام پر ٹھہرائے رکھیں جب تک کہ سرکا پیچھلا حصہ ناف کی ہڈی سے نیچے نہ آجائے۔
۳۔جہاں تک ممکن ہوسکے اس بات کا خیال رکھیں کہ درد کی انتہائی حالت میں بچے سر باہر نہ آئے اور سب سے اچھی بات تو یہ ہوتی ہے کہ سر دردوں کے دوران میں نہیں بلکہ ان کی درمیانی قفہ میں باہر آئے سیون کو ہاتھ سے نہ دبائیں بلکہ صرف سہارا دیں کیونکہ دبانے سے رحم اورپیٹ اورزیادہ قوت کے ساتھ سکڑے گا اور بچے کا سر اور زیادہ جلدی سے پیچھے کی طرف جھک جائے گا۔دائی جنائی کو یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ ماں اور رحم کی تمام قوت کے خلاف بچے کی پیدائش میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔بچے کی پیدائش کے بعد سیون اور فرج کی پچھلی دیوار کا اچھی طرح معائنہ کریں،اگر معمولی چیر آئے ہوں توان کواپنے حال میں چھوڑدیں اگر کچھ بڑے ہو ں تو کسی ماہر کی امداد حاصل کریں تاکہ ٹانکے لگا کر ان کو سی دیا جائے چیر آنے سے بدتر یہ ہو تا ہے کہ اس کی پرواہ نہ کی جائے۔
جونہی بچے کا چہرہ باہر آجائے لیکن ابھی آنکھیں نہ کھلی ہوں تو روئی کا ایک خشک پھویا لے کر پپوٹوں اور ان کے ارد گرد کی جلد کو اچھی طرح صاف کردیں یہ کام اپنے بائیں ہاتھ سے کریں اور دایاں ہاتھ سر کی چوٹی کو تھامے رکھے ورنہ ایک ہی زور دار درد سے کندھے بھی یک لخت باہر آجائیں گے اور خواہ مخواہ اور زیادہ گہرے چیروں کا باعث بنیں گے۔جب بچے کی پیدائش مکمل ہوجائے تو اس کا منہ نتھنے بڑے آرام سے صاف کریں۔اگر بچہ فوراًسانس نہ لے یا نہ چیخے تو چاہیے کہ اس کے جسم کے اوپر پھونکیں ماری جائیں یا اس کے چوتڑوں پر تھپکیاں دی جائیں اگر اب بھی وہ سانس نہ لے تو اپنی انگلی کے گرد اُبالے ہوئے پانی میں بھگوئی ہوئی جالی کو لپیٹ کر بچے کا منہ اور گلا صاف کریں بچے کو دونوں پاؤں سے پکڑ کر الٹا لٹکائیں اور اس کی پیٹھ پر تھپکی دیں اور اس کی ریڑھ کی ہڈی پر تولیے سے خوب مالش کریں۔ان تدابیر سے بچہ اکثر چیخنے لگتاہے۔اگر ان سے کام نہ نکلے اور نبض مدھم پڑرہی ہو تو فوراًکسی ماہر ڈاکٹر کی مہارت حاصل کریں۔
بچے کو علیحدہ کرنا: ناڑو اس وقت باندھنا چاہیے جب بچے نے اچھی طرح چیخیں مارلی ہوں اور جب ناڑو کے اندر کی دھڑکن سوائے ناف سے چند انچ کا فاصلہ تک بند ہوگئی ہو اور اس کے اندر کی نیلی نالی(ورید) بالکل پچک گئی ہو۔اگر اسے فوراًباندھ دیا جائے گا تو اس سے بچہ دو تین اونس خون سے محروم ہوجائے گا اور خون کی یہ مقدارایک جوان کی زندگی میں سیر ،ڈیڑھ سیر خون کے برابر ہوتی ہیں پس اس سے ہی اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے ناڑو کو باندھنے میں چند لمحے دیر کرنا بچے کے لیے کس قدر فائدے کا باعث ہوسکتا ہے وہ اس اندازے سے ظاہر ہے۔ناڑو کو ناف سے دو انچ کے فاصلے پر باندھیں اور گرہ سیدھی لگائیں اور اس امر کی احتیاط کریں کہ باندھتے وقت ناڑو پر کوئی کھینچ نہ پڑنے پائے ایک سے زیادہ گھانٹھیں باندھنے کی ضرورت نہیں ہوتی سوائے توام بچوں کی صورت میں کیونکہ ماں کا خون اس راستے سے نہیں بہتا سوائے خون کی اس قلیل مقدار کے جو کٹے ہوئے سر مے سے پھوٹتا رہتاہے اکثر دو گانٹھیں باندھی جاتی ہیں اور پھر ان کے درمیان سے کاٹ دیا جاتا ہے تاکہ دونوں سروں سے خون کی قلیل مقدار بھی ضائع نہ ہونے پائے،باندھنے کا دھاگہ اکثر دو تین عام بٹے ہوئے دھاگوں کو بٹ کر بنالیا جاتا ہے اور اس سے گرہ دے دی جاتی ہے،البتہ اس بٹے ہوئے دھاگے کوپانی میں اُبال لیں اور پھر اُبلے ہوئے پانی ہی میں اسے پڑا رہنے دیں یا کار بالک لوشن میں ڈال دیں حتیٰ کہ اس کے استعمال کا وقت آجائے۔
بچے کی پیدائش کے بعد آنول کا باہر آنا بھی ایک قدرتی عمل ہے اور اس کے اخراج کے لیے دخل اندازی کسی طرح بھی جائز نہیں ٹھہرائی جاسکتی سوائے اس حالت کے جب خون بہت زیادہ بہہ رہا ہو مناسب یہی ہوتا ہے کہ اب زچہ کو چت لیٹے رہنے دیں اس حالت میں پڑے رہنے میں بہت فائدہ ہیں،بالخصوص ان عورتوں کے لیے جن کے پیٹ پر چربی چڑھی ہوئی ہو یا موٹاپے کے باعث ان کا بدن ڈھیلا ہو کیونکہ اس حالت میں ان کے رحم کی حالت کا بخوبی معائنہ کیا جاسکتا ہے جو پہلو پر لیٹے ہوئے ممکن نہیں ہوتا نیز رحم کے اندر خون کے جمع ہوجانے کا امکان بہت کم ہوتا ہے،جب آنول باہر آجائے تو پیٹ پر رحم کی حد کے عین اوپر کپڑا لپیٹ کر باندھ دیں،جہاں تک جلد ممکن ہوسکے آنول اور اس کے ساتھ کی دیگر جھلیوں کا بغور اور مکمل معائنہ کریں۔عام طور پر پیدائش کے دوران میں جھلیاں الٹ گئی ہوتی ہیں،یعنی اندرونی جھلی باہر آگئی ہوتی ہے اور بیرونی جھلی اندر ہوگئی ہوتی ہے پس آنول کو نرمی کے ساتھ اس سوراخ سے باہر لے آئیں جو جھلی کے پھٹنے سے پیدا ہوگیا ہوتا ہے تاکہ اس کی اس سطح کا بھی معائنہ کیا جاسکے جو رحم کے ساتھ لگی ہوتی ہے،جب آنول کے متعلق اطمنیان ہوجائے تو دوسری جھلیوں کا معائنہ کریں یہ جھلیاں ایک مکمل تھیلی ہونی چاہیے سوائے اس سوراخ کے جس میں سے بچہ باہر نکل آیاہے،جھلیوں کو بڑی نرمی اور احتیاط سے علیحدہ کرتے جائیں حتیٰ کہ وہ آنول کے کنارے تک صیح پہنچ جائیں اور ان کے اندر کوئی اور رخنہ نہ ہو۔ان کا معائنہ کی اہمیت پر اس قدر زور کیوں دیا جارہا ہے؟اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آنول کا کچھ حصہ رحم کے اندر باقی رہ جائے گا تو بچے کی پیدائش کے بعد خون زیادہ بہنے لگے گا اور اس کی موجودگی کے باعث رحم سکڑ کر اپنی اصل حالت پر نہ آسکے گا اور جب تک یہ گل سڑکر تمام کا تمام خارج نہ ہوجائے گا خون آتا رہے گا اوراس عرصے میں رحم کے اندر بو بھی پڑجائے گی جس سے تیز بخار آنے لگے گا اور زچہ کی زندگی خطرہ میں پڑ جائے گی۔جھلیوں کے علاوہ فرج اور سیون کا بغور معائنہ بھی ضروری ہوگا بالخصوص آئے ہوئے چیر دیکھیں کیونکہ نفاس کے دوران میں ان زخموں میں پیپ پڑجانے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے اس لیے سوائے معمولی چیر کے ہر ایک چیر پر ٹانکے لگوانے کے لیے کسی ماہر کی امدادحاصل کریں،صرف یہی کافی نہیں ہوتا کہ سیون کی جلد کا معائنہ کرلیا جائے اور بس شفران کو کھول کر دیکھیں اور فرج کی پچھلی دیوار کا بھی اچھی طرح معائنہ کریں،سیون کے ہر قسم کے چیر کو ٹانکے لگوا کر سی دینا ازبس ضروری ہوتا ہے اور اس سلسلے میں کبھی کوتاہی سے کام نہ لیں ورنہ چند دنوں کے بعد تکلیف اور درد بڑھ جائے گا اور ایسی حالت پیدا ہوجائے گی کہ ٹانکے بھی نہیں لگائے جاسکیں گے،عملاً یہ ایک اچھی تجویز ہوتی ہے کہ بچہ ہونے کے بعد ارگٹ کی ایک خوارک پلادی جائے یا ارگوٹین کا ایک ٹیکہ لگوالیا جائے یہ دوا رحم کو سکڑنے اور اسے اپنی اصل حالت پر آنے میں بہت مدد دیتی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے