Garmiyon Ki Chuttiyaan Or Bachon Ki Negehdasht

گرمیوں کی چھٹیاں اور بچوں کی نگہداشت

جمعہ جون

Garmiyon Ki Chuttiyaan Or Bachon Ki Negehdasht
رابعہ عظمت
سکولوں میں بچوں کی چھٹیاں ہوچکی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ گرمی کی شدت ،سورج کی تمازت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے ایسے میں بالخصوص پرائمری لیول کے بچوں کی دیکھ بھال اور نگہداشت کی اور بھی ضرورت بڑھ جاتی ہے یعنی گرمیوں کی تعطیلات ماؤں کا امتحان ہے۔سمجھدار مائیں شدید گرمی میں بچوں کی صحت پر بھی ایکسٹراتوجہ دیتی ہیں ان کے لئے فالسے،آلو بخارے کا شربت بنا کر رکھ دیا جاتا ہے ۔

دہی ولسی کا استعمال عروج پر ہوتا ہے۔ہمارے دور میں گھروں میں صبح دودھ،بادام اور چاروں مغز ملا کر سردائی بنائی جاتی تھی۔پہلے باداموں اور چاروں مغز کو گھوٹا جاتا اور پھر اس میں چینی مکس کرکے ٹھنڈے دودھ میں ملا کر بچوں کو پلایا جاتا تھا۔
سردائی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے پیاس کی شدت کم ہو جاتی ہے اور دل و دماغ کو فرحت ملتی ہے ۔

(جاری ہے)

آج بھی سردائی کو بچے اور بڑے شوق سے پیتے ہیں ۔اگر چہ زمانے نے ترقی کرلی ہے روایتی مشروبات کے بجائے بازاری،ریڈی میڈ جو سز،انرجی ڈرنکس اور لال شربت نے لے لی ہیں اور سردائی کی شکل بدل کر بادام دودھ نے لے لی ہے ۔سردائی بنانا ذرامشکل کام ہے۔لیکن اس کا متبادل یہی ہے کہ باداموں کو چینی سمیت گرینڈر میں پیس لیں اور ٹھنڈے دودھ میں مکس کرکے بچوں کو پلائیں۔


بادام دماغ اور آنکھوں کے لئے بہت مفید بخش ہوتے ہیں اسے پینے سے بچوں کو صحت بھی ملے گی اس کے ساتھ ساتھ بازاری ڈبہ بند مصنوعی جوسز سے بھی بچوں کی جان چھوٹ جائے گی۔موسم گرما میں اکثر بچوں کی نکسیر بھی پھوٹ جاتی ہے۔اس کے لئے ضروری ہے انہیں تپش سے بچایا جائے اور زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کروایا جائے کیونکہ بچے کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے اور انہیں لولگنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔

اس کے لئے ماؤں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں میں ڈی ہائیڈریشن نہ ہونے دے ان پر نظر رکھیں کہ وہ شکن دوپہر میں کمروں سے باہر نہ نکلیں۔بعض گھروں میں صندل ،بزوری کا شربت اور مربہ جات کا استعمال بڑھ جاتاہے۔اکثر مائیں اپنے بچوں کو ناشتے میں انڈے کے بجائے صندل کے شربت کے ساتھ گاجر یا سیب کے مربے کا ناشتہ کرواتی ہے ۔
یقینا گرمیوں میں صحت کے لحاظ سے اس ناشتے کا کوئی نعم البدل نہیں ۔

صندل کا شربت کے اجزاء جسم میں فرحت وٹھنڈک پیدا کرتے ہیں اور اس کا سب سے اہم کام حرارت کو کم کرنا ہوتا ہے ۔گاجر وسیب کامربہ بیکری کی اشیاء پٹیز ، بسکٹ ،پزااور ڈونٹس سے کہیں درجے بہتر ہے۔جن کے کھانے سے بڑے ہی نہیں دس بارہ سال کے بچوں میں بھی شوگر ،بلڈ پریشر کے امراض میں اضافہ ہورہا ہے ۔رہی سہی کسر پیپسی ،کوکاکولانے پوری کردی ہے ۔ماہرین غذائیت کے مطابق ان ڈرنکس میں کوئی اجزاء شامل نہیں ہوتے۔


انہیں پینے سے صرف اور صرف بچوں میں موٹاپے سمیت دیگر بیماریوں بڑھ رہی ہیں ۔انرجی ڈرنکس نے بھی صحت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے جن سے توانائی ملنا تو دور الٹا صحت کا نقصان ہورہا ہے ۔آپ کسی محلے کی بیکری پر چلے جائیں۔آپ کو ایسے والدین بھی نظر آئیں گے جو وہاں اپنے بچوں کو شوق سے انرجی ڈرنکس اور کوکاکولا کی بوتلیں اور چپس کے پیکٹس خرید کر دے رہے ہونگے جس سے پیسے کے ساتھ صحت بھی برباد ہوتی ہے جس کا شاید ان ماڈرن کہلانے والے ماں باپ کو اندازہ نہیں۔


بچوں کی تعطیلات میں گرمی بھی اپنے جو بن پر ہوتی ہے اور پھر جلد برسات شروع ہونے والی ہے ایسے میں موسمی بیماریاں بھی حملہ آور ہوتی ہے آج کل شہر میں یرقان کی وبا پھیلی ہوئی ہے جس نے بڑوں سمیت کئی بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ہسپتالوں میں مریضوں کارش لگا ہوا ہے ایسے میں مائیں موسمی بیماریوں سمیت خطر ناک وبائی امراض سے بچانے کے لئے بچوں کی نگہداشت ودیکھ بھال پر خصوصی توجہ دیتی ہیں ۔

گھر پر ہی چٹنیاں اور مشروبات تیار کرکے رکھ لیتی ہیں تاکہ جب ان کے بچے کو پیاس محسوس ہو وہ کولڈڈرنکس کی بجائے صحت سے بھر پور ہوم میڈ روایتی مشروبات کا استعمال کریں ۔چھٹیوں میں بچوں کا زیادہ وقت گھروں میں گزرتا ہے تو مائیں بھی ان کا بھر پور خیال رکھتی ہیں ۔ان کی پسند کا کھانا تیار کیا جاتا ہے آم بچوں کا پسندیدہ پھل ہے اور اس کا ملک شیک بچے شوق سے پیتے ہیں۔


80فیصد سے زائد گھرانوں میں مینگو ملک شیک روزانہ تیار ہوتا ہے ۔آم کا اچار اور چٹنی کابھی کوئی جواب نہیں۔ پرانے زمانے میں دادیاں نانیاں اور امیاں پراٹھے کے ساتھ آم کی چٹنی کا ناشتہ بنا کر دیتی تھیں۔بازار میں بھی مختلف کمپنیوں کی چٹنیاں دستیاب ہیں مگر وہ گھر پر تیار چٹنی جیسی صحت بخش نہیں ہوتیں۔موسم گرما کی تعطیلات میں نصابی اور غیر نصابی سر گرمیاں دونوں بہت ضروری ہیں ۔

ماؤں کے لئے ضروری ہے کہ اس دوران وہ بچوں کی صحت کا بطور خاص خیال رکھیں۔بچے گھر پر موجود ہوتے ہیں اور الم غلم کھانے سے چوکتے نہیں ۔
موسم چونکہ سخت ہوتا ہے اس لئے ان کے بیمار پڑجانے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے ۔معمولی بخار،کھانسی،نزلہ یازکام سے کام شروع ہوتا ہے اور پھر بیماری بڑھتی جاتی ہے۔اس لئے احتیاطی تدابیر کی اشد ضرورت رہتی ہے ۔

ماؤں کو چاہئے کہ بچوں کی خوراک میں ان تمام باتوں کا خیال رکھیں جو انہیں ورثہ میں ملی ہیں ۔اس کے علاوہ بچوں کی پڑھائی اور آرام کے اوقات میں توازن بر قرار رکھنا بھی ماں ہی کی ذمہ داری ہے ۔اگر گھر یلو اخراجات اجازت دیتے ہوں تو بچوں کو شہر سے باہر سیروتفریح کے لئے لے جانا ان کے تجربات اور مشاہدات میں ایک صحت مند اضافہ ہے ۔
ماؤں کو چاہئے کہ اپنے بچوں کی موسم گرما کی تعطیلات کے حوالے سے ابھی سے مثبت پروگراموں پر سوچ وبچار شروع کردیں۔

ان کی کوشش ہونی چاہئے کہ چھٹیوں کا یہ لمحہ بچوں کی تربیت اور کردار سازی کے لئے وقف ہو۔عام طور پر تعطیلات کا آغاز ہوتے ہی بچوں کا رات کے وقت جاگنے اور صبح دیر سے اٹھنے کا معمول بن جاتا ہے جو کہ نا مناسب اور خلاف فطرت ہے ۔اس میں میڈیا کا کردار بھی نمایاں ہے کہ لوگ رات گئے اسے دیکھنے میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رات آرام وسکون کے لیے اور دن کام کے لیے بنایا ہے،اس کے لیے والدین خود عملی نمونہ پیش کریں۔
تاریخ اشاعت: 2019-06-21

Your Thoughts and Comments

Special Child Care & Baby Care Articles article for women, read "Garmiyon Ki Chuttiyaan Or Bachon Ki Negehdasht" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.