Khasoosi Bachoon Ki Negehdasht

خصوصی بچوں کی نگہداشت

ہفتہ اگست

Khasoosi Bachoon Ki Negehdasht
ماں باپ کے لیے اس سے زیادہ دکھ کی بات اور کوئی نہیں ہوتی کہ ان کے بچے میں کسی بھی طرح کی کوئی کمی رہ جائے۔معذوری چاہے جسمانی ہو یا ذہنی بہر حال تکلیف دہ ہوتی ہے ۔اگر چہ اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن اسے کم کرنے اور بچے کو بہترین ماحول فراہم کرنے کے لیے کچھ خصوصی اقدامات ضرورکئے جاسکتے ہیں جو آپ پر بار بھی ثابت نہیں ہوں گے اور آپ کے بچے بھی پر سکون اور مطمئن رہیں گے۔

سب سے پہلے تو ہم آپ کو ایسی علامات سے آگاہ کرتے ہیں جس سے آپ با آسانی پہچان سکیں گے کہ بچہ میں ذہنی معذوری کے اثرات پائے جاتے ہیں۔
علامات
خصوصی بچوں کا ذہنی معیار عام بچوں سے کچھ کم ہوتا ہے۔اس لیے یہ عام بچوں کی طرح چاق وچوبند نہیں ہوتے بلکہ بولنے میں مزاحمت محسوس کرتے ہیں اور کہی ہوئی بات کو جلد سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

(جاری ہے)

یہ عام بچوں کی طرح اپنا نکتہ نظر واضح نہیں کر پاتے۔اگر آپ یہ محسوس کریں کہ آپ کا بچہ ہم عمر بچوں کی طر ح سے عمل نہیں کررہا تو اس بات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنے بچے کا بغور مشاہدہ کریں کہ وہ ایسا کرنے میں ناکام کیوں ہے ؟
پیدائش سے پہلے کی وجوہات
حمل کے دوران جینز متوازن نہ ہونا‘ایکسرے شعاعوں کی زیادتی‘الکوحل اور دواؤں کا زیادہ استعمال وغیرہ یہ تمام عوامل بچے کے اندر ذہنی معذوری کا سبب بن سکتے ہیں۔


پیدائش کے دوران معذوری کی وجوہات
پیدائش کے دوران غیر معمولی دباؤ یا ٹینشن ‘مقررہ وقت سے پہلے پیدائش اور وزن میں کمی بھی ذہنی معذوری کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
پیدائش کے بعد کی وجوہات
پیدائش کے بعد بچوں کو کچھ بیماریاں بھی نقصان پہنچاتی ہیں جن میں (Meningitis)اور(Encepnalitis)دماغ کو کام سے روک سکتی ہیں جو بعد ازاں ذہنی بیماری میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔

ان کے علاوہ اگر بچے کو سر میں کبھی چوٹ لگی ہے تو اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مشترکہ عوامل
دوران حمل اور بچے کی پیدائش کے بعد بھی ایسے دو عوامل ہیں جو کہ کسی ذہنی نقصان کو جنم دے سکتے ہیں۔
کھانے میں لا پرواہی
حمل کے دوران اگر مائیں کھانا صحیح سے نہیں لیتیں تو یہ عادت نہ صرف ان کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ان کے بچے کے لیے بھی کسی معذوری کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے ۔

کیونکہ اگر آپ کھانا یا متوازن غذا مناسب طریقے سے نہیں لیتیں تو آپ کی تمام تر کمزوریاں آپ کے بچے میں منتقل ہو سکتی ہیں اور پیدائش کے بعد بھی اگر آپ بچے کو دودھ پلاتی ہیں تب بھی متوازن غذا آپ کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ماحول میں آلودگی
آپ کے ماحول میں سیسہ اور مرکری کے ذرات آپ کے بچے کے لیے نقصان دہ ہیں،اس لیے صاف ستھرے ماحول میں رہنے کی عادت ڈالیں۔


خصوصی بچوں کی نگہداشت
خصوصی بچوں کی نگہداشت عام بچوں کی نسبت کچھ مختلف طریقے سے ہوتی ہے۔چونکہ یہ بچے آپ کی ہر بات سمجھنے کے قابل نہیں ہوتے اس لیے ایساماحول پیدا کیا جاتا ہے کہ جس میں یہ اجنبیت محسوس نہ کریں‘بہر حال ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں بھر پور اعتماد پیدا کریں۔
اس ضمن میں ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ایسے بچوں کے ساتھ کیا سلوک رکھا جائے؟
اگر آپ کے گھر میں کوئی ایسا بچہ موجود ہے تو یہ بہت ضروری ہے کہ اس کو دل سے قبول کیا جائے تاکہ اس کے اندر بے چارگی کا احساس پیدا نہ ہو۔


بچوں کو تو ویسے بھی پیار محبت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن خصوصی بچوں میں اس بات کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ انہیں آپ کی بھر پور توجہ اورمحبت درکار ہے۔
ایسے بچے کیونکہ بہت جلدی خوفزدہ ہوجاتے ہیں اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے اندر احساس تحفظ پیدا کیا جائے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آپ ان کے ساتھ وقت نہ گزاریں اور انہیں ان کی اہمیت کا احساس نہ دلائیں۔


بچوں کے اندر خوف کم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کوگھر کے دیگر بچوں کے ساتھ مصروف رکھا جائے۔جب وہ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلیں گے اور بات کریں گے تو ان کے اندر اعتماد پیدا ہو گا۔
ذہنی معذور بچوں کو پڑھانا بہت مشکل کام ہے اور اس کے لیے حد درجہ برداشت اور توجہ درکار ہوتی ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ اول تو ان کو خود پڑھائیں اور ساتھ ہی کمپیوٹریا ٹی وی پر خصوصی بچوں کے پروگراموں سے ان کو سمجھائیں۔

اس طریقے سے آپ ان کی معلومات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ ایسے بچوں کو عام بچوں کے اسکولوں میں پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں کیونکہ وہ خود اپنے بچے کی ذہنی معذوری کو قبول نہیں کر پاتے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دیگر بچوں کے غیر متوازن رویوں کا شکار ہو کر یہ یا تو احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں بصورت دیگر خوفزدگی کی ایک علامت بن جاتے ہیں اور عام لوگوں سے بات کرنے میں گھبراہٹ کا شکارہوتے ہیں ۔

اس لیے ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے بچوں کو خصوصی بچوں کے اسکول میں داخل کرائیں تاکہ وہ ایک دن پر اعتماد شخصیت کے مالک بن سکیں۔
سب سے آخر میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ خصوصی بچوں کو آپ کے رحم کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ آپ کی محبت ‘پیار اور بھر پور توجہ کے متقاضی ہیں ۔اس لیے ان کے ساتھ نارمل سلوک روا رکھیں۔انہیں اس بات کا احساس نہ دلائیں کہ وہ کسی بھی طرح سے کسی سے کم ہیں۔


بحیثیت مجموعی ہماری ذمہ داری
خصوصی بچے صرف ان لوگوں کی توجہ کے طلب گار نہیں ہوتے کہ جن کی وہ اولاد ہیں کیونکہ وہ معاشرے کا ایک ایسا حصہ ہیں کہ جس کو کبھی بھی الگ نہیں کیا جا سکتا۔اس لیے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کو اتنی ہی محبت دیں کہ جتنی کسی بھی عام بچے کو دی جاتی ہے بلکہ وہ اس سے کچھ زیادہ کے طلب گار ہیں ۔

خصوصی بچوں کو معاشرہ کا ایک جزو معطل نہیں سمجھنا چاہیے ان کی خصوصی تربیت ‘توجہ اور مہارت سے انہیں معاشرہ کی مشینری میں ایک کار آمد جزو بنا یا جا سکتاہے۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے بوجھ نہیں فرض سمجھیں۔یادرکھنے کی بات یہ ہے کہ زندگی ایک نعمت ہے اور اس سے لطف اندوز ہونا ہر ذی روح کا حق ہے ۔خصوصی بچوں کو اس سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔


کوئی ہنر سکھائیں
خصوصی بچوں کو کار آمد شہری بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کو کوئی ایساکام سکھایا جائے جس سے وہ کچھ کما سکیں مثلاً پیکنگ وغیرہ جو کہ ایسے بچے آرام سے کر سکتے ہیں ۔بچوں کے کام کو مسئلہ نہیں بنانا چاہیے اور نہ والدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ان کے سماجی رتبے کے خلاف ہے۔کوئی ہنر سیکھنا ایسے بچوں میں اعتماد کو مضبوط بناتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-08-31

Your Thoughts and Comments

Special Child Care & Baby Care Articles article for women, read "Khasoosi Bachoon Ki Negehdasht" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.