بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتختنہ

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ختنہ
ختنے کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے عضو مخصوص کے سرے پر جو بڑھی ہوئی کھال ہوتی ہیں اسے کاٹ دیا جائے
ختنہ:
ختنے کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے عضو مخصوص کے سرے پر جو بڑھی ہوئی کھال ہوتی ہیں اسے کاٹ دیا جائے (اس کھال کو گھونگھٹ کہتے ہیں)ختنے کے فوائد میں صفائی اور عملیت شامل ہے گھونگھٹ کی موجودگی میں اس کھال میں سے سفید مادہ خارج ہوکر اس کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے بعض اوقات معمولی جراثیم مادہ بھری جگہ میں جاگزین ہوجاتے ہیں اور سوزش پیدا کردیتے ہیں اگر گھونگھٹ کاٹ دیا جائے تو یہ سفید مادہ جمع نہیں ہوسکتا اور سوزش پیدا کرنے کا احتمال نہیں رہتا اگرچہ ختنہ فرض نہیں سنت ابراہیمی ہے لیکن اس کے فوائد اتنے زیادہ ہیں کہ غیر مذہب کے ماہرین طب اس کی حمایت کرتے ہیں یہ فرض دوسرے ہفتے میں ہرصورت ادا کردینا چاہیے جس ڈاکٹر نے زچگی کرائی ہو وہ یہ کام بھی بخوبی کردے گا ورنہ آپ قریبی ہسپتال یا کسی اچھے سے جراح کی مدد حاصل کرسکتی ہیں۔ختنہ کے زخم کی دیکھ بھال کے لیے ڈاک کے بڑے ٹکٹ کے برابر اکہرے باریک کپڑے پر بورک کا مرہم لگا کر زخم پر لپیٹ دیجیے،اگر دو ایک مرتبہ کپڑے پر خون کا دھبا دکھائی دے تو اس کا خیال نہ کیجیے اگر خون بند نہ ہو تو منعلقہ ڈاکٹر یا جراح سے رجوع کرنا چاہیے۔
بچے کا دودھ چھڑانا: کم و بیش نو ماہ تک بچے کو اپنا دودھ پلانے کے بعد اسے پوری طرح اوپر کے دودھ پر لگادینا چاہیے لیکن دودھ چھڑانے کا عمل بتدریج کم از کم ایک ماہ میں مکمل ہونا چاہیے،یک دم دودھ چھرانے سے کئی خرابیاں پیدا ہوسکتی ہیں اگر بچہ دانت نکال رہا ہو یا سردی کی وجہ سے اس کی طبیعت ناساز ہو تو مزید چند روز انتظار کرلینا چاہیے،دودھ چھرانے کا زمانہ شروع ہونے سے پہلے بچے کو دن میں دو ایک مرتبہ سنکی ہوئی ڈبل روٹی کا توس یا کرارا بسکٹ کھانے کا عادی بنادینا چاہیے دودھ چھڑانے کی ابتدا دن میں ایک مرتبہ گائے کا دودھ دینے سے ہونی چاہیے گائے کا دودھ دن میں ایک بار مندرجہ ذیل نسخے کے مطابق ایک ہفتے دینا مناسب رہے گا:گائے کا دودھ:ایک حصہ،پانی:دو حصے،گلوکوز:چائے کا ایک چمچہ،گائے کے کچے دودھ میں دوگنا پانی ملا کر خوب جوش دے لینا چاہیے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے دودھ کے وٹامن ضائع ہوجاتے ہیں حالانکہ بات صرف اتنی ہے کہ وٹامن”سی“ حرارت کو برداشت نہیں کرسکتے یہ کمی پوری کرنے کے لیے بچے کو سنگترے کا رس دیا جاسکتا ہے،دوسرا ہفتہ شروع ہونے پر پانی کم کرکے دودھ بڑھانا شروع کردیجیے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ جب بچے کا معدہ اس قابل ہوجائے تو آپ اسے خالص دودھ پر لے آئیں ماں کا دودھ چھڑانے کے لیے ایک گوشوارہ دیا جارہا ہے جس سے حسب ضرورت مدد لی جاسکتی ہے:
پہلا ہفتہ : ماں کا دودھ:پانی ملا ہوا گائے کا دودھ،صبح چھ بجے:سپ پہر دو بجے،دس بجے:ایک حصہ دودھ،دو حصے،شام چھ بجے:پانی اور چائے کا ایک چمچہ،رات دس بجے:گلوکوز،
دوسرا ہفتہ: ماں کا دودھ:پانی میں ملا ہوا گائے کا دودھ،صبح چھ بجے:صبح دس بجے،شام چھ بجے:سہ پہر دو بجے، رات دس بجے:(آدھا حصہ دودھ،ڈیڑھ حصہ پانی اور چائے کا ایک چمچہ گلوکوز)
تیسرا ہفتہ: ماں کا دودھ:پانی ملا ہوا گائے کا دودھ،صبح چھ بجے،صبح دس بجے،رات دس بجے،سہ پہر دو بجے، شام چھ بجے(دو حصے دودھ ایک حصہ پانی اور چائے کا ایک چمچہ گلوکوز)
چوتھا ہفتہ: گلوکوز سنگترے کا رس اور رس بسکٹ صبح نہار منہ۔ صبح آٹھ بجے:دلیہ اور گائے کا دودھ،دوپہر بارہ بجے:دلیہ اور گائے کا دودھ،سہ پہر چار بجے:زیادہ مقدار میں دلیہ اور دودھ،رات ساڑھے نو بجے:دلیہ اور ماں کا دودھ،
نوٹ:دلیہ نہایت نفیس اور اعلیٰ قسم کا ہو جو گندم کے دانوں کا چھلکا اتار کر تیار کیا گیا ہو اگر ایسا دلیہ گھر پر تیار نہ ہوسکے تو بازار سے ڈبوں میں بند ہر قسم کا دلیہ بآسانی مل سکتا ہے،رات کے ساڑھے نو بجے والی خوراک کا وقفہ آہستہ آہستہ گھٹاتے ہوئے ساڑھے پانچ بجے شام پر لے آنا چاہیے اور اسی طرح رفتہ رفتہ ماں کا دودھ کم کرکے اس کی جگہ دلیے کی مقدار اس حد تک بڑھائے جانا چاہیے کہ ساڑھے پانچ بجے شام تک پہنچتے پہنچتے ماں کا دودھ کا سلسلہ بالکل ختم ہوجائے،دو ایک ہفتے تک اس گوشوارے پر عمل کرنے کے بعد نہ صرف خوراک کی مقدار آہستہ آہستہ بڑھا دینی چاہیے بلکہ دلیے اور دودھ کے ساتھ دوسری چیزیں شامل کرکے تنوع پیداکردینا چاہیے اس بچے کی عمر کے خوراک میں کم ازکم ذیل کی چیزیں ضرور شامل ہونی چاہیں: توس،مکھن ،دودھ،دلیہ جوکی کھیر،ہڈیوں کی یخنی،سبزیوں کا شوربہ،اُبلا ہوا انڈا اور اُبلی ہوئی سبزیاں۔
اوپر کا دودھ پینے والے بچے: اگر کسی خاص وجہ سے آپ بچے کو اپنا دودھ نہ پلاسکتی ہوں تو اسے اوپر کے دودھ پر لگانے سے پہلے کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرلیجیے،کیونکہ وہ بچے کی صحت،عمر اور وزن کو مدنظر رکھ کر جو مشورہ بھی دے گا وہ بہر حال زیادہ معقول اور صائب ہوگازچہ و بچہ کے ماہر چاہے گائے کے دودھ کا مشورہ دیں یا ڈبے کے دودھ کا اس کے لیے شیشیوں کے انتخاب میں آپ زیاہ مین میخ نکالے بغیر ایسی شیشی منخب کریں جسے آسانی سے صاف کیا جاسکتا ہو اور بار بار ابلتے ہوئے پانی میں جوش دینے سے اس کے ٹوٹنے کا اندیشہ نہ ہو۔دودھ کی شیشی اور چسنی دونوں کو استعمال کرنے سے پہلے پانی میں ضرور جوش دےلیناچاہیے۔اُبالنے سے پہلے شیشی کو تھوڑے سے پسے ہوئے نمک سے صاف کرلیا جائے تو دودھ کی چکنائی اور بالائی کے دھبے بآسانی دور ہوجاتے ہیں استعمال کے بعد ان چیزوں کو صاف کرکے تام چینی کے منہ بند ڈبے میں جسے اُبلتے ہوئے پانی سے صاف کرلیا گیا ہو رکھ کر ڈبے کو صاف تازہ پانی سے بھر دینا چاہیے شیشی کے دودھ پر پلنے والے بچے کوسنگترے کا رس اور مچھلی کا تیل(Cod.Liver Oil) بلا ناغہ نہایت پابندی سے دینا چاہیے،ماں کا دودھ پینے والے بچے کو یہ وٹامن ماں سے مل جاتا ہے،بچے کو رس اور تیل دینے کے لیے چینی کی ایک چھوٹی پیالی اور انڈا کھانے کے لیے ایک چمچہ مخصوص کردینا چاہیے جنہیں پاک صاف رکھنا ضروری ہے سنگترے کا رس ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق پانی میں ملا کر اور تھوڑاسا گلوکوز شامل کرکے دینا چاہیے پانی چاہے کسی صورت میں بھی بچے دیا جائے اسے ایک جوش خرور دے لینا چاہیے اور بچے کو دیتے وقت پانی کا شیر گرم ہونا ضروری ہیں۔
بچے کو نہلانے سے پہلے:ابتدائی چند مہینوں میں بچے کو دن میں صرف ایک مرتبہ نہلانا کافی ہے،تاہم شام کے وقت گرم پانی میں تولیہ بھگو کر اگر بچے کا سارا جسم صاف کردیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا غسل دینے سے پہلے یہ دیکھ لیجیے کہ ضرورت کی تمام چیزیں مہیا ہیں نہلانے کے بعد بچے کو لٹانے کے لیے اس کی پلنگڑی اور بستر پہلے سے تیار ہونا چاہیے پہننے کے کپڑے نپکن اور رومالیاں خوب اچھی طرح سوکھی ہوئی اور دھوپ میں گرم کی ہوئی آپ کے ہاتھ تلے ہونی چاہیے۔بچے کے کپڑے اتارنے سے پہلے آپ موم جامے یا پلاسٹک کا ایپرن پہن کر اس پر بڑا تولیہ ڈال لیجیے جہاں غسل دینا ہو وہاں مندرجہ ذیل چیزیں پہلے سے رکھ لیجیے: آپ کے بیٹھنے کی کرسی یا چوکی۔غسل کے لیے صابن،ویسلین،مالش کا تیل اور پاؤڈر وغیرہ۔ٹھنڈے پانی کی دو بالٹیاں گندے پونڑے،رومالیاں اور نپکن وغیرہ ڈالنے اور دھونے کے لیے۔غسل کے پانی کا درجہ‘حرارت انسانی جسم کے درجہ حرارت کر برابر ہونا چاہیے جس کمرے میں بچے کو نہلایا جائے اس کا درجہ حرارت بھی موزوں ہو۔موسم سرد ہو تو بچے کو کمرے میں لانے سے پہلے کمرے کو ہیٹر یا آگ سے گرم کرلینا زیادہ مناسب ہے،غسل کے بعد بچے کو کپڑے پہنانے اور کمبل اوڑھانے کے بعد فوراً ہی اس کمرے سے باہر نہیں لے جانا چاہیے بلکہ ممکن ہوتو پہلے اس کمرے کا درجہ حرارت کم کرنے کے کچھ دیر بعد بچے کو باہر نکالا جائے

(0) ووٹ وصول ہوئے