Mahasharti Nashonama Aur Tafreeh - Child Care & Baby Care Articles

معاشرتی نشوونما اور تفریح - بچے کی نگہداشت

پیر 29 جنوری 2018

Mahasharti Nashonama Aur Tafreeh

بچہ اپنے ہم عمر اور تندرست بچوں کے ساتھ کھیل کود بہت پسند کرتا ہے اسے ایسے دوستوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کھیل میں اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکیں معذور بچہ کھیل میں اچھی طرح حصہ نہیں لے سکتا کمزور بچہ طاقت ور بچوں سے خائف رہتا ہے اسے اپنے آپ پر اعتبار نہیں ہوتا اس طرح اس میں احساس کمتری پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے اور یہ اس کی معاشرتی نشوونما کے لیے مضر ہوسکتاہے بچوں کی جسمانی کمزوری کا علاج کرانا چاہیے یاپھر انہیں ایسے آسان اور ہلکے پھلکے کھیلوں کی طرف راغب کرنا چاہیے جن میں جسمانی طاقت کی بجائے سوچ بچار کی زیادہ ضرورت پڑتی ہواگر ممکن ہو تو گھر میں بچوں کے کھیلنے کے لیے صحن اور باغیچے بنوائیے بارش کے دنوں میں کمروں کے اندر کھیلنے کے سامان مہیا کیجیے،تقریباً ہر شخص ایک مخصوص انداز حیات میں نہیں ملتا بلکہ گھریلو حالات کا بھی اس میں بہت دخل ہے بسا اوقات کامیاب والدین بچے یہ دیکھ کر کہ وہ والدین کی طرح بلند پر نہیں پہنچ سکتے سست پڑجاتے ہیں یا عیش پرست اور کاہل بن جاتے ہیں مفلس گھرانے کا بچہ طفیلی اور خوشامدانہ کردار کی طرف میلان رکھتا ہے پیار زدہ بچہ ہر ایک کی توجہ کا مرکز بنا رہنے کا خواہشمند رہتا ہے سب سے بڑا بچہ ظلم و تشدد اور ناجائزرعب ڈالنے کا خواہاں ہوتا ہے اس سے چھوٹا بچہ زندگی کی دوڑ میں بڑے بھائی سے آگے نکل جانے کی کوشش میں مبتلا ہوجاتا ہے سب سے چھوٹا بچہ ہر ایک کی منظور بننے کا خواہش مند رہتا ہے اکلوتا بچہ جس نے آج تک کسی حریف سے ٹکر نہیں کھائی ہوتی بالغ عمر میں بھی حکمرانی اور قیادت کے سنہرے سپنے دیکھتا ہے غرضیکہ یہ پیدائشی عنصر آئندہ زندگی کے معاشرتی کردار پر بہت گہرا اثر چھوڑتا ہے،اگر خاندان کے سارے لوگ ہفتہ میں ایک آدہ بار کسی ایسے شغل یا کھیل میں شامل ہوا کریں جس میں ہر ایک کی کچھ نہ کچھ دل چسپی ضرور ہو تو بچوں کو ایک دوسرے کے محدود معاشرتی فکر و عمل کی خامیوں سے واقف ہونے کے علاوہ گروہی کردار کے اپنائے کی تربیت بھی ہوجائے گی سکول کے بچوں کے کیمپ کلب اور ٹولیاں اس سلسلے میں بہت زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں سکاﺅنٹنگ اور کھیلوں کے تنظیمی اداروں میں بچے دوسروں کو سمجھنے اور اپنے محسوسات کی ترجمانی کے معاشرتی انداز کا سلیقہ سیکھتے ہیں ساتھیوں کے ساتھ سیرو تفریح کے لیے باہر جانے اور ٹولی کے ساتھ سیروتفریح کے لیے باہر جانے اور ٹولی کے ساتھ کام کاج کرنے اور کھیلنے کودنے سے بچوں کا معاشرتی شعور نکھرتا ہے ،تجربے اور عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے کھیل کے مذاق میں بھی تبدیلی آنے لگتی ہے بچوں کی تفریحی دلچسپیوں میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود کھلنڈرے پن کی تدریجی منزلیں تقریباً ہر جگہ اور ہررنگ و نسل کے بچوں میں کم و بیش مشترک ہیں ارتقا کے یہ زینے بچے کی زندگی کے تین حصوں میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں:
(الف)ابتدائی عمر کے کھیل یعنی تین برس کی عمر تک کے چھوٹے موٹے گھریلو کھیل،
(ب)بچوں کے کھیل یعنی چار سے آٹھ سال کی عمر تک کے کھیل
(ج)قبل از بلوغت کے کھیل یعنی تیرہ برس تک کے زمانے کے کھیل،پیدائش کے بعد کچھ عرصے تک بچے صرف اپنے حواس سے کام لینا اور حرکت کرنا ہی سیکھتے ہیں اس عمر میں وہ تنہا کھیلنا پسند کرتے ہیںاس عمر میں وہ تنہا کھیلنا پسند کرتے ہیں اور اپنے اردگرد کی نئی نئی چیزوں کو پکڑنے کی مشق کرتے ہیں ابتدا میں وہ یہ حرکتیں بے تکی ہوتی ہے رفتہ رفتہ بچے میں آگے بڑھنے کی قوت پیدا ہوتی ہے وہ چیزوں کی طرف لپکتا ہے انہیں اپنی طرف کھینچتا ہے یا پرے پھینکتا ہے رینگنے کا دور ختم کرکے اور چلنا سیکھ کر بچے کی سبک دستی بہت بڑھ جاتی ہے اس عمر میں بچہ عموماً متوازی کھیل ہی میں مصروف رہتا ہے یعنی وہ بچوں کے قریب تو کھیلتا ہے مگر ان میں شامل ہونے سے کتراتا ہے بچوں کے اوائل میں کچھ معاشرتی سلیقہ آجانے سے بچوں کو اکٹھے کھیلنے کی رغبت ہوتی ہے بچہ اب تنہا کھیلنے میں بے لطفی سی محسوس کرنے لگتا ہے چوتھے اور چھٹے سال کے درمیانی عرصہ میں بچوں کو کہانیاں سننے کا شوق ہوتا ہے خود بخود حرکت کرنے والے کھلونے چھڑیاں دوربینیں اور چمکنے والی چیزیں اس عمر میں بچوں کے پسندیدہ کھلونے ہوتے ہیں اب درختوں پر چڑھنے پھسلنے دوڑنے چھینٹنے دھینگا مشتی کرنے اور جانوروں کے پیچھے بھاگنے میں ان کو بہت لطف آتا ہے،سن بلوغت سے پہلے بچوں میں شور و شغب قدرے کم اور حرکت زیادہ ہوتی جاتی ہے ایک ہی کھیل کھیلتے رہنے کی بجائے اب وہ مختلف کھیلوں کی طرف راغب ہونے لگتے ہیں دوسروں سے بازی لے جانے اور امتیازی درجہ حاصل کرنے کی آرزو بہت قوی ہوجاتی ہے کرکٹ ہاکی اور فٹ بال کھیلنے کے علاوہ تیراکی گھوڑا سواری سائیکل اور موٹر سائیکل وغیرہ چلانے کا شوق پیدا ہوتا ہے بچوں کی معاشرتی اور جذباتی تربیت میں کھیل کو بہت دخل ہوتا ہے۔

تاریخ اشاعت: 2018-01-29

Your Thoughts and Comments

Special Child Care & Baby Care Articles article for women, read "Mahasharti Nashonama Aur Tafreeh" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.