بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتنوزائیدہ کی نگہداشت

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نوزائیدہ کی نگہداشت
جب بچہ سانس لینے لگتا ہے تو اس کے قلب کے اندر دوران خون میں حیرت انگیزتبدیلیاں آنے لگتی ہیں
نوزائیدہ کی نگہداشت:
جب بچہ کی پیدائش ہوجاتی ہے تو آنول کے ذیعے اپنی ماں کے ساتھ جو تعلق ہوتا ہے وہ کٹ جاتا ہے اور اس کے خون کی صفائی کا جو طریقہ ہوتا ہے وہ بھی یک لخت کم ہوجاتا ہے۔اب بچے کے لیے اپنے پھیپھڑوں کے رستے سانس لینا ضروری ہوجاتا ہے۔دنیا کی ہوا جب اس کے جسم کو پہلی بار لگتی ہے تو اس کی تحریک سے بچہ ازخود سانس لینے کی کوشش کرتا ہے،بس بچے کا منہ ایک گیلی جالی سے اچھی طرح صاف کریں دائی جنائی نے اپنی انگلی کے گر د لپیٹی ہوئی ہو تاکہ بچہ لعاب یا رحم کے مواد کو سانس کے ذریعے اندر نہ کھینچ لے۔جب بچہ سانس لینے لگتا ہے تو اس کے قلب کے اندر دوران خون میں حیرت انگیزتبدیلیاں آنے لگتی ہیں۔اور اب گندہ خون براہ راست پھیپھڑوں کے اندر جانے لگتا ہے تاکہ وہاں سے صاف ہوجائے۔جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو اس کے جسم پر ایک چکنی شے جمی ہوتی ہیں اور یہ شے جلد کے ساتھ چپک بھی گئی ہوتی ہے یہ چیز رحم کے اندر اس کی زندگی کی بڑی حفاظت کرتی ہے۔رحم کے اندر بچہ پانی کی تھیلی کے اندر ڈوبا ہوا ہوتا ہے اور یہ چکنی شے اس کے جسم کو اس خاص پانی کی آفات سے بچاتیہے۔یہ شے آسانی سے نہیں اترتی جب تک کہ اس پر پہلے زیتون کے تیل کی مالش نہ کردی جائے۔پھر بچے کو شیر گرم پانی سے غسل دے کر اسے صاف کردیں۔یہ آسانی سے صاف ہوجائے گی۔
آنکھیں:جونہی بچے کا سر باہر آجائے اور ابھی اس نے آنکھیں نہ کھولی ہوں تو اس کے پپوٹوں کو یورک ایسڈ کے گاڑھے محلول سے اچھی طرح صاف کردیں اس کے لیے روئی کا ایک پھویا استعمال کریں اور ہر پپوٹے کے لیے ایک نیا پھویا استعمال کریں۔اگر ماں کی فرج سے کوئی رطوبت بہہ رہی ہو یا اسے سیلان رحم کی شکایت ہو یا مرض سوازک کی موجودگی کا ذرا سا بھی شک ہو توپانی پڑنے سے پہلے اس کی فرج کو کسی جراثیم کو مارنے والے محلول سے اچھی طرح دھودیں۔اس کے لیے کاربالک لوشن یا ڈی ٹول کا لوشن مفید رہتا ہے اگر زچہ کی فرج سے پیپ آرہی ہو تو پیدائش کے فوراً بعد بچے کے چہرے کو اچھی طرح دھو کر صاف ستھرا کرنے کے بعد سلور نائیٹریٹ کے دو فی صد محلول کے دو قطرے اس کی آنکھ میں ڈال دیں اور پھر اس کی آنکھوں کو پانی میں تھوڑا سانمک ملا کر دھو ڈالیں اس عمل سے آنکھیں اکثر سرخ ہوجاتی ہیں اور گاہے اس سے پیپ دار مواد بھی خارج ہونے لگتا ہے لیکن اب سوزاک کے لاحق ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔اگر سوزاک نہ ہو اور پیپ نہ آرہی ہو تو پھر اس قدر اہتمام کی ضرورت نہ ہوگی،اس کے بعد جب بچے کو ایک طرف لٹا دیا جائے تو اس کے ہاتھوں پر صاف ستھرا کپڑا لپیٹ دیں تاکہ وہ اپنی آنکھوں کے لیے دوبارہ تعدی کا باعث نہ بن سکے ۔بچے کے چہرے کو اس پانی سے نہیں دھونا چاہیے جس سے اس کا جسم دھویا گیا ہو۔
ناڑو کی نگہداشت: جب ناڑو کے اندر تڑپ یا نبض بند ہوجائے یا جب ضرورت جلدی کرنے پر مجبور کرے تو بچے کی ناف سے ایک انچ دور دوہرے دھاگے سے دو تین بل کس کردیں اور پھراس پر گرہ لگادیں۔اسی طرح اس بندھن سے تھوڑی دور لیکن ماں کی طرف ایک اور بندھن باندھیں۔اب ان دونوں کے درمیان کاٹ دیں بچے کو نہلا دھلا کر ناڑو کے کٹے ہوئے سرے پر سفوف چھڑک کر اس کے ارد گرد صاف ستھری جالی لپیٹ دیں اور اسے پیٹ کی طرف گھما کر اس پر کپڑا باندھ دیں تاکہ وہ پیشاپ سے خراب نہ ہونے پائے چونکہ اس حصے میں اب دوران خون ختم ہو چکا ہوتا ہے اس لیے وہ سوکھ کر خود بخود جھڑ جاتا ہے۔گاہے یہ چودہ دن تک قائم رہتا ہے اور پھر علیحدہ ہوجاتا ہے۔
پاخانہ اور پیشاپ:پیدائش کے بعد چند دنوں تک بچے کا پاخانہ سبزی مائل سیاہ ہوتا ہے اور اسے’داسا‘کہتے ہیں۔یہ نرم اور لیس دار ہوتا ہے ا س کا مخصوص رنگ صفرا کے باعث ہوتا ہے پیدائش کے وقت انتڑیوں کے اندر جوکچھ ہوتا ہے وہ جراثیم سے پاک ہوتا ہے لیکن چند گھنٹوں کے بعدہی ایسی نبات پیدا ہوجاتی ہیں جو تمام عمر موجود رہتی ہیں داسا کے لگ جانے سے بچے کی جلد پر خارش ہونے لگتی ہے۔اس لیے مقعدچوتڑوں پر سیاہ سفید مرہم لگائیں تاکہ وہاں داسا سے خارش نہ ہونے پائے۔بچہ پیدا ہوتے ہی پیشاپ بھی کرتا ہے اگرچہ چند گھنٹوں کے وقفے کے بعد۔اگر بچے نے پیشاپ نہ کیا ہوگا تو اس کا مثانہ پھول جائے گا اس لیے اس کو دور کرنے کے لیے تدابیر کا اختیارکر نا ضروری ہوگا۔پس سب سے پہلے یہ دیکھے اس کے پیٹ کا نچلا حصہ پھولا ہوا ہے یا نہیں،کیونکہ گاہے ایسا بھی ہوتاہے کہ بچہ پیدائش کے دوران میں پیشاپ کردیتا ہے اور اس لیے اس کا پتا بھی نہیں چلتا۔اور چونکہ زندگی کے ابتدائی ایام میں اس نے پانی یا دودھ بہت کم پیا ہوتا ہے اس لیے اسے پیشاپ بھی بہت کم آتا ہے یہ بھی ہوسکتاہے کہ لڑکے کی صورت میں غلفہ نے پیشاپ کی نالی کو دبا رکھا ہو جس سے پیشاپ نہ نکل سکتا ہو۔پس پیٹ پر مالش کرکے انتڑیوں کو اپنے فعل پر ابھاریں۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پاخانہ کے پیشاپ بھی نکل جاتاہے یا بچے کو گرم پانی کے تسلے میں لٹا دیں اس طرح کے اس کی پھنو پانی سے باہر ہو یا اس کی پھنو کو نرمی سے مسلیں اگر ان تمام تدابیر سے کامیابی نہ ہو تو اپنے ڈاکٹر صاحب سے مشورہ حاصل کریں۔ایک صحت مند بچہ چوبیس گھنٹوں میں تین چار دفعہ”داسا“ خارج کرتا ہے اور اس سے زیادہ دفعہ پیشاپ،تیسرے دن کے بعد پاخانے کا رنگ زرد ہوجاتا ہے اور وہ پتلا ہوتا ہے یعنی بستہ نہیں ہوتا لنگوٹ بدلنے میں بڑی احتیاط سے کام لیں اور پاخانے کے بعد بچے کو اچھی طرح صاف کردیں ورنہ مقعد کے اردگرد کی جگہ چھیل جائے گی،بچے کو جب پاخانے کی حاجت ہوتی ہیں تو وہ چیخنے چلانے لگتا ہے،بچے کے لیے جس کپڑے کے لنگوٹ بنائے جائیں وہ بڑا نرم ہونا چاہیے ان کو پانی کے اندر سوڈا ملائے بغیر ہی اچھی طرح دھو کر صاف کرناچاہیے اس کے لیے دیسی صابن بھی استعمال نہ کریں،ان کو دھوبی کے پاس دھلنے کے لیے نہیں بھیجنا چاہیے بلکہ گھر پر ہی دھوکر انہیں خشک کرلیں۔بچے کے لیے کپڑے موسم کے مطابق ہونے چاہیں وہ گرم ہوں یا سرد ان کو بہت ڈھیلا اور بہت ہلکا ہونا چاہیے،زیادہ تعداد میں گرم اور وزنی کپڑے پہنانے سے بچہ بیمار ہوجائے گا ان سے اس کے نرم و نازک جسم کی حرکات،بالخصوص سانس کی محدودہوجاتی ہیں کپڑوں کو گاہے بگا ہے بدلتے رہیں کیونکہ یہ اکثر پاخانے پیشاپ اور زیادہ پسینے سے خراب ہوجاتے ہیں ان سے بو آنے لگتی ہیں اور کئی ایک بیماریوں کا باعث بن جاتے ہیں۔موسم کے اعتبارسے بچے کو کم ازکم ایک یا دو بار شیر گرم پانی سے ضرور نہلائیں بالخصوص رات کو سونے سے پہلے تو اسے ضرور نہلائیں۔نہلانے کے بعد بدن کو تولیے سے آہستہ آہستہ خشک کریں،تولیہ زیادہ موٹا اورکھردرا نہیں ہونا چاہیے،بدن پرجہاں کہیں سلوٹیں،جھڑیاں یا چنٹیں ہوں وہاں اچھی طرح خشک کرکے پوڈر چھرک دیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے