بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتسر پر تکونی پٹی باندھنا

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سر پر تکونی پٹی باندھنا
دونوں سروں کو کھوپڑی کے گرداگرد لپیٹ کرپیشانی پر سروں کوکھوپڑی کے گردا لپیٹ کر پیشانی پر سروں کو لاکر آپس میں گرہ دے دیں
سر پر تکونی پٹی باندھنا:
اس پٹی کے قاعدے کو ڈیڑھ انچ موڑ کر اس کو سر پر اس طرح رکھیں کہ کنارہ پیشانی پر ابروؤں کے قریب پڑا ہو اور نوک پیچھے گدی کی طرف لٹکی ہوئی پٹی کے دونوں سروں کو کھوپڑی کے گرداگرد لپیٹ کرپیشانی پر سروں کوکھوپڑی کے گردا لپیٹ کر پیشانی پر سروں کو لاکر آپس میں گرہ دے دیں اب ایک ہاتھ سے کھوپڑی کو سہارا دیں اور دوسرے ہاتھ سے پٹی کی نوک کو نیچے کی طرف کھنچ کر اوپر کی طرف الٹادیں اور اس کے سرے کو ایک پن کے ذریعے پٹی کے ساتھ ٹانک دیں اب پٹی مضبوط ہوجائے گی اور پھسلنے بھی نہ پائے گی آنکھ یا کھوپڑی کے کسی حصے مثلاً پیشانی رخسار وغیرہ یا جسم کے گول حصوں میں سے کسی ایک پر مثلاً بازو ران وغیرہ پر یہ پٹی استعمال کرنا مقصود ہو تو اسے مندرجہ بالا طریقے پر تہہ کرکے کم چوڑی پٹی بنالیں اور پٹی کو گول لپیٹ کر اس کے سروں کو آپس میں گرہ دے کر باندھ دیں البتہ پٹی کی چوڑائی حسب ضرورت رکھنا ضروری ہوگا۔
کندھے پر تکونی پٹی باندھنا: تکونی پٹی کا درمیانی حصہ کندھے پر رکھیں اور اس کی نوک کو گردن پر اب اس کے قاعدے کے ساتھ ہی تھوڑا سا حاشیہ اندر کی طرف موڑیں اور سروں کو بازو کے درمیانی حصے پر لپیٹ کر باندھ دیں ایک دوسری تکونی پٹی لیں اور بائیں طرف کی گل پٹی باندھ دیں پہلی پٹی کی نوک کو اس گل پٹی کی گرہ پر سے گزار کر اچھی کھینچیں اور پن لگا کر پٹی کے ساتھ ہی اسے ٹانک دیں۔
کولھے پر تکونی پٹی باندھنا: تکونی پٹی کو تہہ کرکے ایک کم چوڑی پٹی بنائیں اور اسے کولھے کی ہڈیوں سے قدرے اوپر جسم کے اردگرد اس طرح لپیٹیں کہ اس کی گرہ زخمی طرف رہے اب ایک اسی قسم کی دوسری پٹی لیں اور اس کی نوک پہلی پٹی کے نیچے لے جاکر اسے نیچے کی طرف گرہ پر پلٹ دیں مجروح کی جسامت کے اعتبار سے دوسری پٹی کے قاعدے کے ساتھ حاشیہ اندر کی طرف موڑیں اب سروں کو ران کے گرد لپیٹ کر باندھ دیں اور پٹی کی نوک کو کسی ایک مقام پر پن لگاکر قائم کردیں تاکہ پھسل نہ جائے۔
ہاتھ پر تکونی پٹی باندھنا:جب انگلیوں کو پھلا کر رکھنا مقصود ہو تو پہلے پٹی کے قاعدے کے ساتھ قدرے حاشیہ موڑلیں اور پھرکلائی کو ھاشیے پر اس طرح رکھیں کہ انگلیاں پٹی کی نوک کی طرف ہوں اب نوک کو کلائی پر لے آئیں اور سروں کو کلائی کے گردا گرد لپیٹ کر باندھ دیں پھر نوک کو گرہ پر لائیں اور ہاتھ کی پٹی پر پن کے ساتھ اسے ٹانک دیں اور بازو کو ایک گل پٹی کے ذریعے سہارا دیں۔
پاؤں پر تکونی پٹی باندھنا: پاؤں کو پٹی کے وسط میں اس طرح رکھیں کہ انگلیاں اس پٹی کی نوک کی طرف ہوں نوک کو بازو کی پشت پر کھینچیں اور سروں کو آگے کی طرف لاکر ایک دوسرے پر سے نکالیں اور ٹخنے کے گرد لاکر باندھ دیں اب پٹی کی نوک کے آگے کی طرف کھینچیں اور پاؤں کی پشت پر لاکر اسے پن کے ذریعے ٹانک دیں،
سینے پر تکونی پٹی باندھنا: تکونی پٹی کے درمیانی حصے کو زخم پر اس طرح رکھیں کہ اس پٹی کی نوک اس کندھے پر ہو جو زخم کی طرف ہے پٹی کے قاعدے کے ساتھ تین انچ کا حاشیہ موڑ لیں اور سروں کو کمر کے گرد لے جاکر اس طرح باندھیں کہ ایک سرا دوسرے سرے سے کس قدر لمبا رہے اب اس لمبے کو اوپر کی طرف لے جائیں اور وہاں اسے پٹی کی نوک کے ساتھ باندھ دیں۔
پیٹھ پر تکونی پٹی باندھنا: یہ پٹی بھی اسی طرح باندھی جاتی ہیں جس طرح کے سینے پر باندھی گئی تھی فرق صرف اس قدر ہے کہ اس پٹی کی ابتدا سینے کی بجائے پیٹھ پر سے کی جاتی ہیں،
کہنی پر تکونی پٹی باندھنا: کہنی پر تکونی پٹی باندھنے سے پہلے کہنی کو زاویہ قائمہ تک موڑ لیں پٹی کے قاعدے پر اندر کی طرف ایک چھوٹی سی تہہ موڑلیں اب اس کی نوک کو بازو کی پشت پر رکھیں اور اس پٹی کے قاعدے کا درمیانی حصہ کلائی کی پشت پر ہو پہلے اس پٹی کے سروں کو کہنی کے سامنے ایک دوسرے پر گزاریں اور بازو کے گرداگرد لے جاکر ایک کو دوسرے پر نکالیں اور پھر ان کو آپس میں ملا کر گرہ دے لیں نوک کو نیچے لاکر باندھ دیں۔
کسر اور خلع: کسر ہڈی کو کہتے ہیں اور خلع جوڑ اترنے اور ان دونوں کا سبب بالعموم بیرونی تشدد ہوتا ہے گاہے یہ گر پڑنے سے بھی ٹوٹ جاتی ہیں اور گاہے یہ کسی عمومی مرض کا نتیجہ ہوتا ہے بالخصوص بچوں اور بوڑھوں میں،کسر یعنی ہڈی کا ٹوٹنا بالعموم دو قسم کا ہوتا ہے ایک تو ہڈی اس طرح ٹوٹتی ہیں کہ بظاہر کوئی زخم نہیں ہوتا یعنی جلد تک پھٹی ہوئی نہیں ہوتیں اس کو کسر مفرد کہتے ہیں لیکن جب جلد بھی پھٹ جائے اور زخم ہوگئے ہوں تو اس کو کسر مرکب کہتے ہیں ایک اور قسم کی کسر جو عموماً پائی جاتی ہیں وہ اس طرح ہوتی ہیں کہ ہڈی ٹوٹ کر دو ٹکڑئے نہیں ہوتی بلکہ یوں کہتے ہیں کہ ہڈی ترخ جاتی ہیں اور اس کی نوعیت کا علم ایکس رے کی تصویر لیے بغیر نہیں ہوسکتا اور ایسا نسبتاً زیادہ ہوتا ہے،

(0) ووٹ وصول ہوئے