بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتشیر خوار بچوں کی بیماریاں

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
شیر خوار بچوں کی بیماریاں
چھوٹی موٹی شکایت پیدا ہونے پر وہ خود اس کا علاج کرسکیں اور معمولی باتوں کے لیے انہیں خواہ مخواہ ہسپتالوں میں وقت اور پرائیویٹ ڈاکٹر وں کے پاس روپیہ ضائع نہ کرنے پڑے
شیر خوار بچوں کی بیماریاں
دودھ پیتے بچوں کو ہونے والی چھوٹی چھوٹی بیماریوں کا ہر ماں کونہ صرف علم ہونا چاہیے بلکہ ان کے علاج معالجہ کے بارے میں بھی انہیں تھوڑی بہت معلومات رکھنی چاہیں تاکہ چھوٹی موٹی شکایت پیدا ہونے پر وہ خود اس کا علاج کرسکیں اور معمولی باتوں کے لیے انہیں خواہ مخواہ ہسپتالوں میں وقت اور پرائیویٹ ڈاکٹر وں کے پاس روپیہ ضائع نہ کرنے پڑے ،ہمارے دیہات میں رہنے والے 85 فی صد آبادی میں آج بھی زیادہ تعداد ایسی ماؤں کی ہے جنہوں نے کسی ہسپتال یا تربیت یافتہ ماہر ڈاکٹر کی شکل تک نہیں دیکھی یہ بات نہیں کہ ان کے بچے بیمار نہیں ہوتے بلکہ صورت یہ ہے کہ اکثر حالتوں میں وہ اپنے بچوں کا علاج گھریلو ٹوٹکوں ہی سے کرتی ہیں اور اگر بدہضمی سے معالجہ خراب ہوجائے تو وہ اسے قسمت کا لکھا سمجھتے ہوئے صبر کرتیں اور راضی بہ رضائے الہٰی رہتی ہیں ہمارا مطلب یہ نہیں کہ ہر ماں کو انہیں کے نقش قدم پر چلنا چاہیے بلکہ مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ ہر ماں کو بچوں کے عام امراض اور ان کے علاج کے بارے میں ضروری معلومات حاصل ہوں تو وہ بہت سی پریشانیوں سے بچ سکتی ہیں۔
کھانسی اور زکام: بستر اور کمرے کی نمی اور موسم کی خنکی اکثر اوقات ننھے بچوں کو نزلے زکام میں مبتلا کردیتی ہیں اگر بچے کی ناک بند ہو تو نتھنوں کے اندر اور ناک کے اوپر ویسلین یا سرسوں کے تیل میں کافور ملا کر آہستہ آہستہ ملنا چاہیے لیکن مالش کرتے وقت آنکھوں کو خاص طور پر اس سے بچانا ضروری ہے ناک صاف کرنے کے لیے صاف روئی یا کاغذ استعمال کریں اور استعمال شدہ روئی یا کاغذ کو احتیاط سے جلادیں۔اگر نزلے زکام کی وجہ سے بچے کو حرارت محسوس ہو تو اسے حتی الامکان گرم رکھنے کی کوشش کریں اور گرم جگہ سے باہر لے جانے سے احتراز کریں پینے کے لیے اُبلا ہوا گرم پانی گلوکوز ملاکر زیادہ سے زیادہ دیں۔ اگر حرارت کے علاوہ بچے کی چھاتی رکی یا جمی ہوئی محسوس ہو تو سرسوں کے تیل میں کافور ملاکر بچے کی چھاتی پشت اور پسلیوں پر مالش کریں تیل کو اگر ہلکا سا گرم کرلیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ مالش کے بعد بچے کی چھاتی کے گرد گرم مفلر یا فلالین کا ٹکڑا لپیٹ کر اسے گرم چادر یا شال اچھی طرح اوڑھا دینی چاہیے اگر اس کے باوجود حرارت کم نہ ہو اور چھاتی ٹھیک نہ ہو تو فوراً ڈاکٹر کو بلالینا چاہیے۔زکام یا کھانسی کی حالت میں سخت یا تیز قسم کی کوئی دوا خود اپنی مرضی سے ہرگز بچے کو نہ دیں کیونکہ خدا نہ کرے زکام اگر بگڑ جائے تو پھر مریض اور تیمادار دونوں کے لیے سخت پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔
قبض: اگر ماں کے دودھ سے پلنے والا بچہ دوسرے روز پاخانہ کرتا ہے تو یہ قبض نہیں کیونکہ فضلہ خاصا نرم ہوتا ہے البتہ جب پاخانہ پتلا ہو اور بچہ زور لگاکر اسے خارج کرنے کی کوشش کرے تو اسے ایک قسم کا قبض کہہ سکتے ہیں قبض کی دوسری شکل یہ ہے کہ گائے کے دودھ سے پلنے والا بچہ سخت اور بندھا ہوا پاخانہ کرے اور اس کے خارج ہونے میں اس کو تکلیف محسوس ہو ایسی صورت میں اگر ڈاکٹری مشورہ فوری طور پر حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو اس کے لیے دو احتیاطی تدبیریں اختیار کی جاسکتی ہیں پہلی تدبیر تو یہ ہونی چاہیے کہپ بچے کے دودھ میں استعمال ہونے والی سفید قسم کی چینی بدل کر اس کی جگہ شہد استعمال کیجیے اگر شہد میسر نہ آئے تو بھوری شکر سے کام لیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ بھی خاص ملین ہوتی ہیں اس کے علاوہ پرون قسم کے آلوبخارے پیس کر یا ان کا رس نکال کر دیجیے ڈبوں میں بند پرون آلو بخاروں کا رس بازار میں عام ملتا ہے اور خاصا مفید ثابت ہوتا ہے اس قسم کے آلو بخارے غذا کے طور پر بھی دیے جاسکتے ہیں۔
پرانا قبض: پرانا قبض ایسے بچوں کو کم ہی ہوتا ہے جن کی خوراک ملی جلی ہو اور جنہیں میدے کی بجائے آٹے کی روٹی،سبزیاں اور پھل باقاعدہ ملتے رہیں اگر آپ کا بچہ اکثر قبض میں مبتلا رہنے لگے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا زیادہ بہتر ہے اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو تو بچے کی خوراک میں پھل اور سبزیاں زیادہ مقدار میں شامل کردیجیے۔پرون قسم کا آلوبخارا اسے غذا کے طور پرباقاعدہ دینا اچھا اثر ڈالے گا اگر بچہ دودھ چھوڑ چکا ہو تو اس کے لیے تازہ اآلو بخارے اور انجیر وغیرہ بہت موزوں ہوتے ہیں اگریہ پھل تازہ نہ مل سکیں تو خشک ڈبوں میں باآسانی مل سکتے ہیں اگر خوراک پر توجہ دینے کے باوجود بہتری کی صورت پیدا نہ ہو تو ہلکی اور بے ضرر قسم کی دوائیں استعمال کرنے میں ہرج نہیں اس مقصد کے لیے دودھ کی ترشی کے جراثیم جنہیں ایسڈوفلس بیسلیس کہا جاتا ہے ،چاکلیٹ خوشبودار بنائے ہوئے مومی روغن کا مرکب پر کیمسٹ کی دوکان سے باآسانی مل سکتا ہے اگر یہ کرکب چائے کے ایک چمچے کی مقدار میں شام کو دے دیا جائے تو پاخانے میں سختی نہیں ہوگی گھر کی کسی بڑھی بوڑھی کے مشورے سے عرق گلاب،عرق سونف یا گٹھی کی ایک چٹکی سے بھی کام لیا جاسکتا ہے خود اپنی رائے سے بچے کو دست آور دوا دینے سے احتیاط لازم ہے یہ کام ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔قبض کے بارے میں پہلی بات جو یاد رکھنے کے قابل یہ ہے کہ قبض کی شکایت ہمیشہ خوراک کی کسی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اس لیے اس کا سب سے بہتر علاج بھی یہی ہے کہ بچے کی خوراک پر توجہ دیجیے خرابی دور کر دیجیے قبض دفع ہوجائے گا۔
دست یا اسہال: اسہال کی پہچان اجابت کا بے حد پتلا اور سبزی مائل ہوتا ہے ماں کے دودھ سے پلنے والے بچے کا اسہال میں مبتلا ہونا عموماً ماں کی کسی بے احتیاطی کا ثبوت ہوتا ہے مثلاً ماں اگر زیادہ کھٹی چیزیں جیسے چٹنی اچار،املی اور دوسری چٹ پٹی غذائیں کھائے گی تو لامحالا اس کا اثر بچے پر پڑے گا تو وہ اسہال یا دستوں میں مبتلا ہوجائے گا اگر اوپر کا دودھ پینے والے بچے کو یہ شکایت لاحق ہوجائے تو بچے کا دودھ اور دوسری خوراک فوراً بند کرکے اسے کم از کم 24 گھنٹے لیے اُبلے ہوئے پانی پر رکھیے اگر اس کے باوجود افاقہ نہ ہو تو طبی مشورہ حاصل کرنے میں ہرگز تساہل نہ برتیے،اگر اسہال یا دستوں کے ساتھ قے آئے یا حرارت ہوجائے تو بلا توقف ڈاکٹر سے رابطہ قائم کرنا ضروری ہے کیونکہ زیادہ پچیدہ حالت میں گھریلو علاج اکثر بے سود چابت ہوتا ہے۔
کان کا درد: اگر بچہ بار بار روئے بے چینی محسوس کرے اور رہ رہ کر اپنے کان کو مسلے تو زیتون کا تیل گرم کرکے اس کے دو تین قطرے کان میں ٹپکائے جائیں زیتون کا تیل میسر نہ ہو تو سرسوں کا تیل بھی کام دے سکتا ہے سرسوں کے تیل میں لہسن سرخ کرکے شیر گرم تیل کان میں ٹپکانا مفید ثابت ہوتا ہے پرانی روئی یا فلالین کے کپڑے کی گدی سے کان سینگ دینے سے بھی خاصا فائدہ ہوگا۔اگر کان کے درد میں بخار کی شکایت بھی ہو جائے تو فوراً ڈاکٹری مشورہ حاصل کرنا چاہیے اگر چھوٹا بچہ اپنے کان یا ناک میں کسی پھل وغیرہ کا بیچ بٹن کا گولی وغیرہ پھنسالے تو اسے خود نکالنے کی ہرگز کوشش نہ کیجیے آپ کے اناڑی پن سے فائدے کے بجائے التا نقصان پہنچنے کا احتیال ہے،اس قسم کی صورت پیس آنے پر فوراً قریب ترین ڈاکٹر یا ہسپتال سے رجوع کرنا بہترہے

(0) ووٹ وصول ہوئے