بند کریں
ادب تبصرہ کتبحیات قائداعظم پر مکمل انسائیکلوپیڈیا

مزید تبصرہ کتب

- مزید مضامین

مزید عنوان

حیات قائداعظم پر مکمل انسائیکلوپیڈیا
۔ اس کتاب میں انہوں نے حروف تہجی کی ترتیب سے 2069 عنوانات لکھے ہیں اور ان عنوانات کے تحت وہ ایک ایک جزو اور نقطہ لکھا گیا ہے جس کا کہ قائداعظم سے تھوڑا بہت بھی تعلق ہے۔ انسائیکلوپیڈیا میں چونکہ فہرست نہیں ہوتی
حکیم محمد عزیز الرحمن جگرانوی:
اہم ترین قومی ضرورت کے پیش نظر سابقہ ہردور اور ہر قومی مرحلہ پر بعض اہل قلم اور مصنفین نے قائداعظم کی شخصیت، جدوجہد اور نظریات کے موضوعات پر کتب تصنیف و تالیف کی ہیں۔ مگر تشنگی تاحال باقی تھی اس تشنگی کو حال ہی میں علامہ عبدالستار عاصم نے ”انسائیکلوپیڈیا جہان قائد“ نامی کتاب تالیف کرکے کافی حد تک پورا کردیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے حروف تہجی کی ترتیب سے 2069 عنوانات لکھے ہیں اور ان عنوانات کے تحت وہ ایک ایک جزو اور نقطہ لکھا گیا ہے جس کا کہ قائداعظم سے تھوڑا بہت بھی تعلق ہے۔ انسائیکلوپیڈیا میں چونکہ فہرست نہیں ہوتی اس لئے انہوں نے اس انسائیکلوپیڈیا کی بھی فہرست نہیں لکھی۔ بڑے سائز کے 2420صفحات اور 5 جلدوں کی اس کتاب میں ”آ“ سے عنوانات شروع کئے گئے ہیں جن کے تحت مکمل تحقیق اور تصدیق کے بعد مواد شامل کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے جہاں قائداعظم اور تحریک پاکستان سے متعلق متعدد بدخبریوں، افواہوں، پراپیگنڈوں اور سازشوں سے پردہ اٹھتا ہے وہاں قائداعظم سے متعلق تاریخ کے طالب علموں کو بعض نئے اور دلچسپ امور بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر کتاب میں شامل ایک عنوان ”آٹوگراف“ کے تحت لکھا گیا ہے کہ
”پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا 1942ء میں سالانہ جلسہ تھا۔ اس موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح نے معرکہ آراء تقریر کی۔ اس تقریر میں کانگریس اور اس کے رہنما کو خوب کھری کھری سنائیں جب جلسہ گاہ سے باہر تشریف لائے تو طلباء آپ سے آٹو گراف لینے کے لئے آگے بڑھے۔ آپ ہنستے مسکراتے انہیں آٹو گراف دیتے جاتے۔
اس ہجوم میں ایک دس سالہ بچہ بھی تھا۔ وہ بڑی حسرت سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ اس کے پاس آٹو گراف لینے کے لئے کوئی کتاب تھی نہ ہی کاغذ۔ اچانک بچے کے ذہن میں انوکھا خیال آیا۔ وہ بیچ جس پر پاکستان کا نقشہ بنا ہوا تھا۔ بچے نے وہ بیچ اپنی قمیض سے اتارا اور اس پر آٹو گراف لینے کے لئے قائداعظم کی طرف بڑھا دیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اس نقشے پر بڑی نفاست سے دستخط کئے اور مسکراتے ہوئے اس بچے سے کہا "Granted"۔
”آ“ کے تحت لکھے جانے والے عنوانات میں سے چند ایک یہ ہیں آباد کاری، آباوٴ اجداد، آتش نوا، آتما رام، آتما سنگھ سردار۔
 اسی طرح ”آتش نوا“ کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ ”آل انڈیا مسلم لیگ کو نسل کے اجلاس دہلی میں ”نوائے وقت“ کے ایڈیٹر (بعد میں) حمید نظامی نے قائداعظم محمد علی جناح کی تقریر کے چند پہلووٴں سے اختلاف کیا۔ تقریر ختم ہوئی تو حمید نظامی کا خیال تھا کہ قائد اعظم ناراض ہوں گے مگر جب وہ قائداعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ شفقت و محبت سے پیش آئے اور انہیں اپنے افکار و خیالات جرأت سے پیش کرنے پر مبارکباد دی۔ اس سے حمید نظامی کا حوصلہ بلند ہوا اور انہوں نے حق گوئی اور بے باکی کو اپنی زندگی کا شعار بنا لیا۔ قائد اعظم نے ان کی حق گوئی اور بے باکی پر انہیں آتش نوا کا خطاب دیا (مضمون قائداعظم از حکیم آفتاب احمد قرشی، 25دسمبر 1975ء نوائے وقت لاہور)“
کتاب ”انسائیکلوپیڈیاجہان قائد“ میں شامل ایک اور عنوان ”آتما سنگھ، سردار“ کے تحت لکھا گیا ہے کہ ”سردار آتما سنگھ راولپنڈی کا رہائشی تھا۔ اور سکھوں کے نامدھا ری فرقہ سے اس کا تعلق تھا۔ سردار آتما سنگھ نے قائداعظم محمد علی جناح کو یکم جولائی 1949ء کو سید پوری روڈ راولپنڈی سے نواب بہادر یار جنگ کی موت کے سلسلہ میں ایک خط لکھا۔ پھر اس کا جواب بھی قائداعظم نے دیا۔ قائداعظم محمد علی جناح جب سری نگر سے راولپنڈی تشریف لائے تو سیکرٹری ڈسٹرکٹ مسلم لیگ کے اصرار پر قائداعظم محمد علی جناح نے آتما سنگھ کے ہاں جانا قبول کر لیا۔ سردار آتما سنگھ نے سو کے قریب معززین شہر اور علاقہ کو بھی مدعو کر رکھا تھا“۔
انسائیکلوپیڈیا جہان قائد پر مشاورت کرنے والوں میں ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت ڈاکٹر مجید نظامی، ڈاکٹر رفیق احمد، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر اجمل خان نیازی اور رانا عامر رحمن محمود شامل ہیں۔ مجید نظامی نے اس انسائیکلوپیڈیا کا مقدمہ بھی لکھا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ ”قائداعظم کی زندگی پر لاتعداد کتب شائع ہوئیں مگر اب تک قائداعظم پر زیر نظر انسائیکلوپیڈیا جیسی کتاب نظر سے نہ گزری تھی جس میں قائداعظم کی زندگی کے تمام تر حالات و واقعات اور تفصیلات کا ذکر کیا گیا ہو اس کتاب سے قائداعظم پر تحقیق کرنے والوں اور طلباء کو بھی آسانی ہو گی اور ہماری قومی روح کو بھی جلا ملے گی اور یقینی طور پر ملک و قوم کی ترقی اور وقار میں اضافہ ہو گا۔ موجودہ حالات میں زیر نظر کتاب قومی نظریات کو فروغ دینے کی موٴثر اور کارگر تدبیر ہے۔ اس کاوش پر علامہ عبدالستار عاصم یقینی طور پر مبارکباد اور تحسین کے حقدار ہیں ”نظریہ پاکستان کے پاسبان اور قائداعظم کے عاشق جناب مجید نظامی کے یہ الفاظ اس کتاب کے لئے واقعی ایک سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں موٴلف نے قائداعظم محمد علی جناح سے متعلق بے تکی معلومات کا رد بھی کیا ہے اور سینکڑوں غلط فہمیوں کا ازالہ بھی کیا ہے۔
المختصر انسائیکلوپیڈیا جہاں قائد ایک تاریخی معرکہ ہے جسے اس کے موٴلف نے کئی سالوں کی محنت سے سرکیا ہے۔ اس انسائیکلوپیڈیا کی ضخامت کے پیش نظر اس کی قیمت 15000روپے ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے