Umar E Rawaan

عمرِ رواں ---بہارِ زیست کی لاریب اور لازوال داستاں

لقمان اسد جمعرات 12 اگست 2021

Umar E Rawaan
کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا! یقینا یہ محاورہ اپنی جگہ درست ہوگا لیکن میں خیال کرتا ہوں کہ اگر سیاست دان مہذب، باشعور، بااصول، باذوق، وفاشعار اور انسانیت سے ہمدردی اور محبت رکھنے والا ہو تو اس کے سینے میں ایک خوب صورت ”دل“ ضرور ہوتا ہے ۔یہی کہانی وطنِ عزیز کے ہر دل عزیز اور مقبول و معروف سیاسی رہنما ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی ہے۔

قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے : (ترجمہ)” ہم نے جسے حکمت عطا کی بے شک اس کا دامن خیرِ کثیر سے مالا مال کر دیا “۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنھیں قدرت نے بے شمار خوبیوں سے نوازا ہے ۔ آپ بیک وقت ایک منجھے ہوئے لیڈر و قائد شعلہ بیاں مقرر و خطیب ، تجربہ کار و زیرک سیاست دان، نام وردانش ور و مصنف اور باکمال تخلیق کار،سفر نامہ نگار اور ادیب ہیں ۔

(جاری ہے)

آپ کا شمار پاکستان کے ان منتخب سنجیدہ سیاسی قائدین میں ہوتا ہے جو پاکستانی سیاست میں ایک منفرد، ممتازاور نمایاں مقام و مرتبہ رکھنے کے ساتھ ،ساتھ سیاست کے پیچ و خم اور نشیب و فراز سے خوب آشنائی رکھتے ہیں ۔ سیاست کے میدانِ کارزار میں رونما ہونے والے حیرت انگیز اور چشم کُشا واقعات اور ذاتی زندگی کے تجربات و مشاہدات کو ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے انتہائی موثر اور دلچسپ انداز میں اپنی فکر انگیز قلم کی روانی سے نہایت عمدگی اور خوب صورتی کے ساتھ یکجا کر کے جس دھج سے صفحہءِ قرطاس پہ اتارا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔

”عمرِرواں“ بہارِ زیست کے رنگ برنگے رنگوں سے سجی اور تلخ و شیریں یادوں سے لبریز ایسی دل آویز پُر لطف اور لاریب داستان ہے جس کا حرف، حرف اور لفظ ،لفظ سچے جذبوں کی پُر کشش خوشبوؤں سے مہک رہا ہے۔ یہ کہنے کو تو ایک ”خود نوِشت “ ہے لیکن جس سلیقے اور قرینے سے اسے تحریری کیا گیا ہے تو بلا مبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وطنِ عزیز کی سیاسی تاریخ پر لکھی گئی یہ وہ بے نظیر دستاویز ہے کہ جس کا مطالعہ کرنے کے بعد کسی بھی قاری کو اس حوالے سے کسی دوسری کتاب کو پڑھنے کی ضرورت کم ہی پیش آئے گی ۔

یہ وہ نادر و نایاب کتاب ہے جس کا مطالعہ خاص طور پر سیاسی کارکنان کے لیے ازحد ضروری ہے اور یقینی طور پر یہ ان کے لیے مشعل راہ ہے جو سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں کیوں کہ اس کتاب میں وہ سب کچھ ملتا ہے جو ایک کارکن کی تربیت اور رہنمائی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اپنے بچپن کی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ” بھیرہ پھلاں دا سہرہ“ کے عنوان سے تحریر کرتے ہیں ” میں بھیرہ میں پیدا ہوا لیکن بھیرہ میں میرا قیام صرف پانچویں جماعت تک رہا اور پھر ہم سرگودھا اور بعد میں لاہور منتقل ہوگئے۔

اس کے باوجود بھیرہ آج تک میرے دل و دماغ میں ایک رومانس کے طور پر بستا ہے ۔ اس کا لینڈ اسکیپ ہی بہت خوب صورت ہے۔ ایک طرف دریائے جہلم بہتا ہے اور یہاں دریا کا پاٹ بہت چوڑا ہوگیا ہے۔ پانی کی سرکش موجیں اپنی راہیں خود تراشتی ہیں اور یوں دریا کئی حصوں میں بٹ گیا ہے۔ ادھر سرسبز کھیت ہیں ، پھل دار درختوں کی قطاریں ہیں، کئی فصلیں دادبہار دے رہی ہیں ۔

رہٹ چل رہے ہیں اور کنوؤں کا پانی فصلوں کو سیراب کر رہا ہے۔ پیچھے کوہستان نمک اور کھیوڑہ کی پہاڑیاں ہیں۔ کھیت باغات پھر دریا اس کے پیچھے پہاڑ ، ادھر بھیرہ شہر کی اپنی خوبصورتی ہے پورا شہر ایک گولائی لیے ہوئے ہے ۔ کبھی یہ شہر فصیل کے اندر تھا ، فصیل کے کچھ آثار تو میں نے بھی اپنے بچپن میں دیکھے تھے اب فصیل نہیں لیکن دروازے ہیں۔ خوب صورت بلند و بالا محرابوں اور برجیوں والے دروازے، ہر دروازے کی اپنی ایک تاریخ تھی ، تنگ گلیاں، اندر ہی اندر گم ہوتے ہوئے راستے، کوئی اجنبی آئے تو اندر ہی بھٹک جائے ، نکل نہ پائے ۔

تاہم بھول بھلیوں کا بھی اپنا ہی ایک مزہ تھا۔ بھیرہ کا تعارف دربار میراں شاہ اور حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری اور مولانہ ظہور احمد بگوی کی نسبت سے بھی ہے۔ ”میں نے جمعیت سے کیا پایا “ اس باب میں لکھتے ہیں ”اسلامی جمعیت طلبہ سے میرے تعلق کا سلسلہ اتنا قدیم، اتنا طویل ، اتنا مظبوط اور اتنا بھرپور ہے کہ آج جب مڑ کر اپنی تعلیمی زندگی میں جھانکتا ہوں تو وہی اصل زندگی محسوس ہوتی ہے۔

میں اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ سے منسلک ہوا جب میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا یہ 1962ءء کی بات ہے ۔ اسی طرح ”میانوالی....چند یادیں “کے عنوان سے رقم طراز ہیں ”یہ پچاس کی دہائی اور میری عمر کی پہلی دہائی کا قصہ ہے کہ جب اباجی (مولانا گلزار احمد مظاہری)میانوالی منتقل ہوئے یہ دور وہ تھا کہ جب مورچے زیادہ اور مردان کار کم تھے۔ میانوالی ریگستانی اور بنجر علاقہ تھا۔

تحریک اسلامی کی جڑیں ابھی برگ و بار لارہی تھیں۔ ابا جی کو حکم ملا کہ وہ میانوالی کے دعوتی و تنظیمی کام کو سنبھالیں۔ چنانچہ پہلے وہ خود منتقل ہوئے پھر ہماری فیملی بھی بھیرہ (سرگودھا ) سے میانوالی منتقل ہوئی۔ اس وقت ہم تین بہن بھائی تھے ۔ مجھ سے بڑے حسین پراچہ اور مجھ سے چھوٹی بہن زاہدہ ۔ مجھے میانوالی کا ریلوے اسٹیشن یاد ہے جہاں ماڑی انڈس آکر رکی تو فضا ”فاتح تختہ دارمودودی  “کے نعروں سے گونج اٹھی ، پلیٹ فارم پر اور اس کے باہر دو رویہ قطاریں تھیں۔

سفید براق لباس میں ملبوس سید مودودی نپے تلے قدموں سے چل رہے تھے ۔ قطار میں کھڑے اہلِ شہر بالخصوص معزیزین شہر سے انھیں ملوایا جا رہا تھا ۔ قطار میں میں بھی کھڑا تھا۔ ایک چھوٹا سا بچہ جس سے سید مودودی نے ہاتھ ملایا ان کے نرم ہاتھوں اور گرم جوش مصافحے کا لمس اب تک زہن میں محفوظ ہے۔”مولانا یہ مولانا گلزار احمد مظاہری کے بیٹے فرید ہیں“کسی نے تعارف کرایا ”تو یوں کہیے نا کہ یہ گل گلزار ہیں۔

“مولانا نے مسکراتے ہوئے کہا ، فضا مسکراہٹوں ہی نہیں بلکہ قہقہوں سے بھر گئی۔ اس وقت جملے کی معنویت کم سمجھ آئی لیکن جملے کی لطافتوں کا مزا ، زیادہ آیا ۔ مجھے میانوالی کا وہ باغ یا احاطہ بھی یاد ہے کہ جہاں میانوالی کی تاریخ کا بہت بڑا جلسہ ہوا تھا۔ مجھے وہ سکوت بھی یاد ہے جو سید مودودی  کی تقریر شروع ہوتے ہی ہجوم پر طاری ہو گیاتھا۔


پوری کتاب معلومات کا خزانہ،دلچسپ اور لطافت سے بھرپور ہے۔ جی چاہتا ہے کہ ساری کتاب نقل کر کے قارئین تک پہنچائی جائے۔ڈاکٹر فرید احمد پراچہ 16کتابوں کے مصنف ہیں جن میں (1)سید مودودی  کے سیاسی افکار، عصری افکار کے تناظر میں (پی ایچ ڈی مقالہ) 2۔ تدریس القرآن 3۔ تدریس الحدیث4۔ مطالعہ مذاہب عالم 5۔ عربی زبان و ادب 6۔ ایک شخصیت ایک عہد 7۔

سفر شوق8۔ سارا جہاں ہمارا 9۔ یہ فاصلے یہ رابطے 10۔ سفر نامہ ترکی11۔ ہواؤں کے سنگ 12۔سفر نامہ ملائیشیا13۔ A Case Against Qadianism 14۔ میرے رہنما میرے ہم نوا 15۔ عمرِ رواں 16۔ حرمت سود شامل ہیں ۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی علمی ، دینی ، سیاسی ، ادبی اور تخلیقی خدمات کا سفر ابھی جاری و ساری ہے ۔ دعا ہے کہ وہ تادیر وطن عزیز کے لیے اسی گرم جوشی اور تسلسل کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-08-12

Your Thoughts and Comments