Dr Zahid Aamir Aur Suqrat Ka Dees

ڈاکٹر زاہد عامر اور سقراط کا دیس

ڈاکٹر لبنی ظہیر جمعرات جون

Dr Zahid Aamir Aur Suqrat Ka Dees
سفر اور سیر و سیاحت ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ کچھ برسوں سے مجھے ان سے خاص رغبت ہو چلی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں، رنگ و نسل ، تہذیب و ثقافت سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملنا، ان کے حالات زندگی کا مشاہدہ کرنا، ان کے خیالات سے آگہی حاصل کرنا، انہیں درپیش سماجی، سیاسی اور معاشی مشکلات و مصائب کے بارے میں جاننا، ایک نہایت دلچسپ اور معلوماتی تجربہ ہے۔

ہر چھوٹے بڑے سفر میں سننے، سیکھنے اور سمجھنے کیلئے بہت کچھ دستیاب ہوتا ہے۔سفر ہماری تہذیب و ثقافت میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارا دین بھی سیر و سیاحت، مشاہدے اور غور و فکر کی تلقین کرتا ہے۔ دنیا کو گھوم پھر کر دیکھنا دراصل اللہ پاک کی قدرت کے مظاہر کو دیکھنا ہے۔ سفر کی اہمیت کا اندازہ کیجئے کہ ہمارا مذہب کہتا ہے کہ کسی آدمی کو جانچنا پرکھنا ہو تو اس کے ساتھ سفر کرکے دیکھ لیں۔

(جاری ہے)

ان سب وجوہات کے پیش نظر مجھے سفر کرنا اچھا لگتا ہے۔ اپنے سفر کے مشاہدات اور تجربات قلم بند کرنا بھی مجھے پسند ہے۔بالکل اسی طرح کسی دوسرے کے سفر کی روداد سننے اور پڑھنے سے بھی مجھے دلچسپی رہتی ہے۔ ایک معیاری سفر نامے کو پڑھنے کے بعد قاری کی معلومات میں اضافہ ہو تا ہے۔ اگر یہ سفر نامہ کسی علمی اور ادبی شخصیت کا تحریر کردہ ہو، تب اس کتاب کو پڑھنے کے ثمرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

"سقراط کا دیس " بھی ایک ایسا ہی سفر نامہ یونان ہے، جو معلومات کا ایک خزانہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے اسے تحریر کیا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر جامعہ پنجاب میں شعبہ اردو کے سربراہ ہیں۔آپ صاحب علم شخصیت ہیں۔ ماہر لسانیات ہیں اورماہر اقبالیات بھی۔ بیسیوں کتابوں کے مصنف ہیں۔ نہایت عمدہ سفر نامہ نگار ہیں۔

کم و بیش درجن بھر سفرنامے تحریر کر چکے ہیں۔ چند ایک کے سوا یہ تمام سفرنامے کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔ چند ماہ پہلے مجھے ان کے "سفر نامہ ایران " کی چند اقساط پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ معروف تجزیہ کار عامر رانا صاحب کے رسالے" تجزیات" میں قسط وار شائع ہو رہا تھا۔ڈاکٹر صاحب کی تحریر کی روانی، الفاظ کے چناو، منظر کشی کے ہنر نے مجھے بے حد متاثر کیا۔

انہیں پڑھنے کے بعد مجھے خواہش ہوئی کہ کاش میں بھی کبھی اسقدر عمدہ زبان و بیان میں سفر نامہ تحریر کر سکوں۔ ارادہ کیا کہ اس سفر نامہ کی کتاب خریدی جائے۔اتفاق دیکھئے کہ چند ہفتے قبل ڈاکٹر اہد منیر عامر نے رابطہ کیا ۔ ابتدائی سلام دعا کے بعد فرمانے لگے کہ ایک سفر نامہ بھجوانا چاہتا ہوں۔ میں نے فورا عرض کیا کہ سفر نامہ ایران؟ کہنے لگے کہ وہ تو ابھی کتابی شکل میں نہیں آیا۔

بہر حال اگلے ہی روز " سقراط کا دیس" موصول ہوا ۔ یہ ڈاکٹر صاحب کے دیار سقراط یعنی یونان کے سفر کی مفصل روداد ہے۔
اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بھی کتاب کی اہمیت اس کے مواد (contents) سے ہوتی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کتاب کا ظاہری حلیہ اور خوبصورتی بھی قاری کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ یہ سفرنامہ قلم فاونڈیشن نے نہایت معیاری کاغذ پر شائع کیا ہے۔

سچ یہ ہے کہ کتاب پڑھتے ہوئے گمان گزرتا ہے جیسے ڈاکٹر صاحب تاریخ کے پروفیسر ہوں۔ایک ایسا پروفیسر جو کسی شہر کی کھوج لگانے نکلا ہے ، لیکن مقامی باشندوں سے کہیں بڑھ کر اس شہر کی تاریخ سے واقف ہے۔کچھ قصے ڈاکٹر صاحب نے سفر نامے میں درج بھی کئے ہیں۔ انہوں نے مقامی باشندوں سے کسی لائبریری یا جگہ کا پتہ معلوم کیا۔ لیکن برسوں اس شہر میں رہنے والے بھی اس مقام سے ناواقف تھے۔

زاہد عامر صاحب یونان کے دارلحکومت ایتھنز کے مختلف علاقوں، عمارتوں، گلی کوچوں اور رونقوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ایتھنز کے قلب شہر " آغورا" کے تاریخی آثار کی سیر و سیاحت، ہیڈرین لائبریری،پارتھیان، ایکروپولس، آرکیالوجیکل میوزیم، زہرہ کے اساطیری مجسمے اور شہر خلقیدہ کے قصے سناتے ہیں۔ سقراط کی محبت میں گرفتار سیاح کی مانند آپ سقراط سے منسوب جگہوں کا دورہ کرتے، گم نام مقامات کا کھوج لگاتے ، سقراط کی بابت سوالات کرتے، اور تاریخ بیان کرتے ہیں۔


مجھے ذاتی طور پر وہ ابواب ذیادہ دلچسپ لگے جن میں انہوں نے عورت کی حیثیت کے بارے میں ارسطو کے خیالات بیان کئے ہیں۔ سقراط اور ایک ترک نژاد خاتون کی داستان محبت کا قصہ بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ قدیم یونان کی عورت کیساتھ جدید یونان کی عورت کا موازنہ کیا ہے ۔ یونانی خواتین کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنی تاریخ اور تہذیب سے بخوبی واقف ہیں۔

اپنی تاریخ پر فخر کرتی ہیں۔ مردوں پر غالب رہنے کی خواہشمند اور عادی ہیں۔یونانی خواتین کی سیاست کا احوال بھی بتاتے ہیں ۔ معلوم ہوا کہ یونانی پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی تیس فیصد ہے۔ متوسط طبقے کی عورت عام یورپی معاشروں کی طرح گھنٹوں کے حساب سے کام کی اجرت لیتی ہے ۔خوبی یہ ہے کہ اپنا کام نہایت دیانتداری سے کرتی ہے۔
اس سفر ی روداد میں پاکستان ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ساتھ ہے۔

یونان کے کھانے کھاتے، وہاں کے بازاروں میں گھومتے پھرتے، کتابیں خریدتے، لوگوں سے گفتگو کرتے، یونانی پارلیمنٹ کا تذکرہ کرتے، ڈاکٹر صاحب پاکستان کا ذکر بھی کرتے ہیں۔
پاکستان میں یونان کے سفیر نے اس کتاب پر اپنے تاثرات تحریر کئے ہیں۔ لکھتے ہیں اس کتاب کے ذریعے اہل پاکستان خود کو یونان اور اہل یونان کے قریب محسوس کریں گے اور وہ ان بہت سے پہلووں کو دریافت کر سکیں گے جو پاکستان اور یونان کے درمیان مشترک ہیں۔

یونان میں پاکستان کے سابق سفیر نے ڈاکٹر زاہد منیر صاحب کی اس روداد کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ سفر نامہ یونان کی قدیم تاریخ اور تہذیب و ثقافت کا آئینہ دار ہے۔ یہ اردو کے سفر ناموں کی تاریخ میں گراں قدر اضافہ ہے۔
سفر نامہ پڑھتے ہوئے مجھے بار بار خیال آتا رہا کہ یہ واقعتا ایک مستند محقق، کہنہ مشق لکھاری اور ایک پروفیسر کی تحریر کردہ روداد ہے۔

عمومی طور پر سفر نامے اس قدر آسان ہوتے ہیں کہ ذرا سی توجہ کیساتھ پڑھے جا سکتے ہیں۔ یہ سفر نامہ کچھ مختلف ہے۔۔ ڈاکٹر صاحب کی عالمانہ گفتگو بھی ان کے سفر کی تفصیلات کیساتھ ساتھ جاری رہتی ہے۔اسے پڑھتے قاری کو افلاطون اور سقراط کے خیالات اور افکار سے ٓآگہی ہوتی ہے۔یونان کی تاریخ کا احوال معلوم ہوتا ہے۔ اگر کامل طور پر اس سفر نامے سے مستفید اور مستفیض ہونا مقصود ہو، تو قاری کو پوری توجہ سے اسے پڑھنا پڑتا ہے۔

کم از کم میرا تجربہ یہی ہے ۔ بہرحال یہ سفر نامہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ہم میں سے کسی کو بھی یونان کی تاریخ، تہذیب و ثقافت، لوگوں کے طرز حیات، افلاطون اور سقراط کے افکار وغیرہ سے آگاہی درکار ہے تو یہ ایک بہترین کتاب ہے۔ نوجوانوں کو خاص طور پر اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2021-06-24

Your Thoughts and Comments