TaeesveeN Raat

تئیسویں رات

بدھ جنوری

TaeesveeN Raat
تئیسویں رات ہوئی تو اس نے کہا کہ اے نیک بخت بادشاہ ۔۔۔۔۔ کبڑا سائیس وزیر سے، جو دلہن کا باپ تھا، باتیں کررہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ لعنت ہو اس پر، جس کی وجہ سے یہ ہوا۔ وزیر نے کہا کہ اٹھ اور یہاں سے نکل۔ اس نے جواب دیا کہ کیا میں کوئی پاگل ہوں جن کی اجازت کے بغیر تیرے ساتھ چلا جاﺅں۔ کیونکہ اس نے کہا ہے کہ سورج نکل آئے تو یہاں سے نکل کر اپنی راہ لیجیو۔

بتا کہ سورج نکلا ہے کہ نہیں، کیونکہ نکلنے سے پہلے میں اپنی جگہ سے نکل نہیں سکتا۔ اب وزیر نے کہا کہ تجھے یہاں کون لایا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں کل یہاں آیا تھا تاکہ اپنی حاجت اور ضرورت زائل کروں اور میں نے دیکھا کہ پانی میں سے ایک چوہا نکلا اور چیں چیں کرنے لگا اور بڑھتے بڑھتے بھینس کے برابر ہوگیا اور مجھ سے کہا کہ جو میرے گوش گزار ہوگیا۔

(جاری ہے)

اس کے بعد وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔ لعنت ہو دلہن پر اور اس پرجس نے اس کی شادی میرے ساتھ کی۔ یہ سن کے وزیر آگے بڑھا اور اس کو کھڈی میں سے نکالا۔ وہ وہاں سے نکل کر چلا مگر اسے یقین نہیں آتا تھا کہ سورج نکل چکا ہے۔ وہاں سے وہ بادشاہ کے پاس گیا اور اس سے سارا ماجرا بیان کیا۔ دلہن کے باپ وزیر کا یہ قصہ تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے بارے میں ہوش و حواس باختہ مکان میں داخل ہوا اور کہنے لگا کہ بیٹی، اپنا ماجرا صاف بیان کر۔

اس نے کہا کہ میرا شوہر جس کے سامنے میری منہ دکھائی ہوئی تھی، رات بھر میرے ساتھ سویا اور میری بکارت زائل کی اور میں اس سے حاملہ ہوگئی ہوں، اگر تجھے یقین نہیں آتا تو دیکھ، یہ اس کی پگڑی ہے جو اب تک لپٹی کرسی پر لٹکی ہوئی ہے، اور اس کی پوشاک بچھونے کے نیچے ہے اور اس میں کوئی چیز لپٹی ہوئی ہے، لیکن مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا ہے۔ جب اس کے باپ نے یہ باتیں سنیں تو وہ دالان میں داخل ہوا اور اپنے برادر زادے بدرالدین حسن کی پگڑی دیکھی اور اسے فوراً اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا اور الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا اور کہا کہ یہ تو وزیروں کا سا عمامہ ہے کیونکہ یہ موصل کا بنا ہوا ہے۔

اب اس کی نظر اس تعویذ پر پڑی جو اس کی ٹوپی میں سلا ہوا تھا اور اس نے ٹانکے توڑ کر اسے نکال لیا اور اس کے کپڑے اٹھائے تو اسے ایک تھیلی ملی جس میں ایک ہزار دینار تھے۔ اس نے اسے کھولا تو اس کے اندر ایک کاغذ کا ورق تھا اور وہ اسے پڑھنے لگا تو وہ اس یہودی کی رسید تھی اور اس میں بدرالدین حسن بن نورالدین علی المصری کا نام تھا اور ہزار دینار تھے۔

جب شمس الدین نے وہ کاغذ پڑھا تو اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی اور وہ بے ہوش ہوکر زمین پر گر پڑا۔ جب اسے ہوش آیا اور سارا قصہ اس کی سمجھ میں آگیا تو وہ حیران ہوگیا اور کہنے لگا کہ سوائے اللہ کے اور کوئی معبود نہیں جو ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر وہ کہنے لگا کہ اے بیٹی تجھے معلوم ہے کہ تیرا کنوارا پن کس نے لیا؟ اس نے کہا کہ نہیں، اس نے جواب دیا کہ وہ میرا برادر زادہ اور تیرا چچیرا بھائی ہے، اور یہ ہزار دینار تیرا مہر ہے، سبحان اللہ، کاش مجھے معلوم ہوتا کہ یہ قصہ کیسے پیش آیا، اب اس نے تعویذ کھولا جو سلا ہوا تھا اور اس کے اندر ایک تحریر پائی جس مںن اس کے بھائی نورالدین المصری کے خط میں تاریخیں لکھی ہوئی تھیں جو بدرالدین حسن کا باپ تھا۔

جب اس نے اپنے بھائی کا خط دیکھا تو یہ اشعار پڑھنے لگا: ”جب ان کے آثار دیکھتا ہوں تو محبت کے مارے پگھلا جاتا ہوں اور ان کے گھروں پر آنسو بہاتا ہوں اور اس شخص سے جس نے ان کی جدائی سے مجھے دلفگار کیا ہے، دعا مانگتا ہوں کہ وہ انہیں ایک روز واپس لا کر مجھے شکر گزار کرے۔“ جب وہ یہ اشعار پڑھ چکا تو اس نے تعویذ کو پڑھا، اس پر بصرے کے وزیر کی بیٹی سے شادی کی تاریخ تھی اور اس کی ہم بستری کی تاریخ اور بدرالدین حسن کی پیدائش کی تاریخ اور مرتے وقت تک اس کی عمر۔

یہ پڑھ کر وہ حیران ہوگیا اور مارے خوشی کے کانپےھ لگا۔ اب اس نے اپنے اور اپنے بھائی کے واقعات کا مقابلہ کیا تو دونوں کو ایک دوسرے کے مواقف پایا: اس کی اور اس بھائی کے نکاح کی تاریخ ایک تھی۔ اس طرح سے اس کی بیٹی ست الحسن اور بدرالدین کی پیدائش کی تاریخ بھی۔ اب وہ یہ کاغذ لے کر سلطان کے پاس پہنچا اور شروع سے لے کر آخر تک سارا ماجرا بیان کیا۔

بادشاہ کو تعجب ہوا اور اس نے حکم دیا کہ یہ واقعہ فوراً قلم بند کرلیا جائے۔ اب وزیر اپنے برادر زادے کا دن بھر انتظار کرتا رہا لیکن وہ نہ آیا۔ پھر دوسرے دن اور پھر تیسرے دن۔ اسی طرح جب سات دن گزر گئے اور اس کی کوئی خبر معلوم نہ ہوئی تھی تو اس نے کہا کہ خدا کی قسم، اب میں ایک ایسا کام کرنا چاہتی ہوں، جو کسی نے نہ کیا ہوگا۔ یہ کہہ کر اس نے قلم اور دوات نکالی اور سارے گھر کا خاکہ ایک کاغذ پر کھینچ دیا! کہ خس خانہ فلاں جگہ پر ہے اور فلاں پردہ فلاں جگہ پر۔

اسی طرح سے تمام چیزوں کا جو گھر میں تھیں۔ اب اس نے اس کاغذ کو لپیٹا اور حکم دیا کہ اس کے سارے کپڑے لائے جائیں، لوگ اس کی پگڑی اور ٹوپی اور کلاہ اور تھیلی لائے، اس کے سپرد کیا اور اس نے انہیں بند کرکے لوہے کا قفل ڈال دیا اور اس پر اپنی مہر لگا دی کہ جب تک اس کا برادر زادہ حسن البصریٰ نہ آئے، اسے کوئی نہ کھولے۔ اب وزیر کی بیٹی کا قصہ سنئے۔

جب اس کے حمل کی مدت پوری ہوچکی تو اس کے ایک لڑکا پیدا ہوا، جو چاند سا خوبصورت تھا اور حسن اور جمال اور انتہائی خوبروئی اور آب و تاب میں باپ کی طرح تھا۔ انہوں نے اس کی ناف کاٹی اور اس کی آنکھوں میں سرمہ لگایا اور اسے دائیوں کے سپرد کیا اور اس کا نام عجیب رکھا۔ اس کا ایک دن ایک مہینے ایک سال کے برابر۔ جب وہ سات سال کا ہوا تو اس نے اسے ایک ملا کے سپرد کیا اور اسے تنبیہہ کی کہ وہ اسے پڑھائے اور اس کی اچھی طرح سے تربیت کرے۔

اس طرح سے وہ چار سال تک مکتب میں پڑھتا رہا اور اس کی یہ حالت تھی کہ وہ مکتب کے لڑکوں سے لڑتا جھگڑتا اور سخت کلامی کرتا اور ان سے کہتا کہ تم میں سے کون میرے برابر ہے! میں مصر کے وزیر کا بیٹا ہوں! لڑکوں نے اس کی شکایت جاکر مکتب کے ناظم سے کی کہ عجیب ان سے کیسی بدسلوکی کرتا ہے۔ ناظم نے کہا کہ میں تمہیں ایک ترکیب بتاتا ہوں اور کل جب وہ آئے تو تم وہ ترکیب چلنا۔

پھر وہ مکتب میں آنا چھوڑ دے گا۔ اور وہ ترکیب یہ ہے کہ جب وہ کل آئے تو تم اس کے اردگرد بیٹھ جانا اور ایک دوسرے سے کہنا کہ خدا کی قسم، یہ کھیل ہمارے ساتھ وہی کھیلے گا جو ہمیں اپنے ماں باپ کا نام بتائے گا، اور جو اپنے ماں باپ کا نام نہ جانتا ہو، وہ حرامی ہے اور ہمارے ساتھ نہیں کھیل سکتا۔ جب دوسرا دن ہوا تو سب لڑکے مکتب میں آئے اور عجیب بھی آیا۔

لڑکے اس کے اردگرد جمع ہوگئے اور کہنے لگے کہ آج ہم ایک خاص کھیل کھیلنا چاہتے ہیں مگر اس میں وہی لڑکے شامل ہوسکتے ہیں جو اپنے ماں باپ کا نام بتاسکیں۔ سب نے کہا کہ واللہ یہ ٹھیک ہے اور ایک لڑکے نے کہا کہ میرا نام ماجد ہے اور میری ماں کا علویہ اور باپ کا عزیز الدین۔ دوسرے نے بھی اسی طرح کہا یہاں تک کہ اب عجیب کی باری آئی اور وہ کہنے لگا کہ میرا نام عجیب اور میری ماں کا ست الحسن اور باپ کا شمس الدین جو مصر کا وزیر ہے۔

لڑکوں نے کہا کہ واللہ وزیر تیرا باپ نہیں ہے۔ عجیب نے جواب دیا کہ واقعی وزیر میرا باپ ہے۔ اس پر سارے لڑکے اس کا مذاق اڑانے لگے۔ اس پر وہ بہت دل شکستہ ہوا اور روتے روتے اس کا دم گھٹنے لگا، ناظم نے اس سے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ وزیر تیرا نانا اور تیری ماں ست الحسن کا باپ ہے لیکن تیرا باپ نہیں۔ نہ تو اپنے آپ کو جانتا ہے اور نہ ہم، کیونکہ سلطان نے تیری ماں کی شادی کبڑے سائیس سے کردی تھی اور جن اس کے پاس آکر سوئے تھے اور تیرے باپ کا کسی کو پتہ نہیں۔

جب تک تجھے اپنے باپ کا علم نہ ہو، اس وقت تک مکتب کے لڑکوں سے برابری کا دعویٰ مت کرو ورنہ وہ تجھے حرامی سمجھیں گے۔ تجھے معلوم نہیں کہ بنےت کا لڑکا بھی اپنے باپ کو جانتا ہے اور تو مصر کے وزیر کا ناتی ہے لیکن تیرے باپ کو ہم نہیں جانتے۔ ہماری رائے یہی ہے کہ تیرا کوئی باپ نہیں، اس لیے ذرا سوچ سمجھ کر باتیں کیا کر۔ جب اس نے ناظم اور لڑکوں کی یہ باتیں سنیں جو اس کے لیے توہین کا باعث تھیں تو وہ فوراً اٹھا اور اپنی ماں ست الحسن کے پاس گیا اور اس سے شکایت کرنے لگا، اور وہ اتنا رو رہا تھا کہ اس کے منہ سے بات نہ نکلیر تھی۔

جب اس کی ماں نے اس کی باتیں اور رونا سنا تو اس کا دل اس پر کڑھنے لگا اور اس نے کہا کہ بیٹا، تو کیوں رو رہا ہے؟ ذرا اپنا حال تو کہہ۔ اس پر عجیب نے وہ تمام باتیں کہہ دیں جو اس ناظم اور لڑکوں سے سنی تھیں اور کہنے لگا کہ اے میری ماں، میرا باپ کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ تیرا باپ مصر کا وزیر ہے۔ عجیب نے کہا کہ جھوٹ مت بول کیونکہ وزیر تیرا باپ ہے نہ کہ میرا۔

بتا میرا باپ کون ہے؟ اگر تو نے سچ مچ نہ بتایا تو میں اپنے آپ کو اس خنجر سے قتل کر ڈالوں گا۔ جب اس کی ماں نے اس کے باپ کا ذکر سنا تو وہ اپنے چچا زاد بھائی کو یاد کرکے رونے لگی اور بدرالدین کے سامنے اس کی منہ دکھائی اور باقی سارے ماجرے اس کی آنکھوں کے سامنے پھرنے لگے، اور وہ زور زور سے رونے لگی اور اس کا بیٹا بھی۔ اتنے میں وزیر ان کے پاس آیا اور انہیں روتا دیکھ کر اس کے دل کو صدمہ پہنچا اور وہ کہنے لگا کہ تم دونوں کیوں رو رہے ہو؟ بیٹی نے سارا ماجرا بیان کردیا جو اس کے بیٹے اور مکتب کے لڑکوں کے درمیان پیش آیا تھا۔

یہ سن کر وزیر بھی رونے لگا اور اس کی آنکھوں کے سامنے اس کا بھائی اور جو کچھ اس کے ساتھ اسے پیش آیا تھا اور اس کی بیٹی کا سارا ماجرا پھرنے لگا اور اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ آخر اس میں کیا بھید ہے۔ اب وزیر فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور دفتر گیا اور بادشاہ کے روبرو حاضر ہوکر سارا قصہ سنایا اور اس سے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ پچھم کی طرف سفر کرے اور بصرے پہنچ کر اپنے بھتیجے کو تلاش کرے۔

پھر اس نے سلطان سے یہ درخواست کی کہ وہ اسے شاہی فرامین ہر ملک کے لیے دے دے کہ جہاں کہیں وہ اپنے بھتیجے کو پائے، وہاں سے لے آئے۔ یہ کہہ کر وہ بادشاہ کے سامنے رونے لگا اور بادشاہ کو اس پر ترس آیا اور اسے ہر ملک کے لیے فرامین لکھ کر دے دیے۔وزیر اس پر بہت خوش ہوا اور سلطان کو دعائیں دیتا ہوا رخصت ہوگیا۔ گھر پہنچ کر اس نے فوراً سفر کی تیاری کی اور تمام ضروریات کی چیزوں اور اپنی لڑکی اور اس کے بیٹے عجیب کو لے کر چل دیا۔

اس نے پہلے دن سفر کیا اور دوسرے دن اور تیسرے دن یہاں تک کہ دمشق پہنچا اور دیکھا کہ وہاں بہت باغ اور نہریں ہیں۔ وزیر میدان الحصی میں اترا اور وہاں خیمے ڈال دئیے اور غلاموں سے کہا کہ ہم یہاں دو دن آرام کریں گے۔ اب غلام اپنی اپنی ضروریات کے لیے شہر گئے۔ کوئی خرید و فروخت کرنے، کوئی حمام جانے اور کوئی بنی امیہ کی مسجد کی سیر کرنے، جس کا جواب دنیا میں نہیں تھا۔

عجیب اپنے خادم کے ساتھ سیر کرنے کے لیے شہر میں داخل ہوا۔ خادم عجیب کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ اور اس کے ہاتھ میں ایک ایسا ڈنڈا تھا کہ اگر اونٹ پر پڑ جائے تو پھر وہ چل نہ سکے۔ جب دمشق والوں نے دیکھا کہ اس کا قد و قامت اور اعتدال اور حسن و جمال کیا عجیب و غریب ہے اور کیسا حسین اور آن بان والا اور اتر کی ہوا سے زیادہ لطیف اور پیاسے کے لیے میٹھے پانی سے زیادہ شیریں اور بیمار کے لیے صحت سے زیادہ لذیذ ہے تو ایک بھیڑ اس کے پیچھے ہولی۔

بعض اس کے پیچھے چلنے لگے اور بعض آگے بڑھ کر اس کے راستے میں بیٹھ گئے تاکہ وہ وہاں سے گزرے تو اس کو دیکھیں۔ اب یہ قسمت کی بات تھی کہ غلام اس کے باپ بدرالدین حسن کی دکان پر ٹھہر گیا۔ بارہ سال کی مدت میں اس کی داڑھی بڑھ گئی اور اس کی عقل کامل ہوچکی تھی۔ باورچی مرچکا تھا اور بدرالدین حسن اس کے مال اور اس کی دکان پر قابض ہوچکا تھا کیونکہ قاضیوں اور گواہوں کے آگے اس نے یہ اظہار کر دیا تھا کہ وہ اس کا بیٹا ہے۔

جب اس روز اس کا بیٹا اور خادم اس کے قریب آکر ٹھہرے تو اس کی نظر اپنے بیٹے عجیب پر پڑی اور اس نے دیکھا کہ وہ کیسا خوش رو ہے اور اس کا دل دھڑکنے لگا اور خون کی کشش خون کی طرف ہونے لگی اور اس کا دل اس کی طرف کھنچنے لگا۔ اس روز اس نے میٹھے انار دانے پکائے تھے اور چونکہ قدرتی محبت اس کے دل میں جوش زن تھی اس نے اپنے بیٹے عجیب کو آواز دی اور کہا کہ اے میرے آقا، میرے دل کے مالک، جس کی طرف میرا قلب کھنچ رہا ہے، اندر آ اور میرے دل کو جوڑ اور کھانا کھا۔

اب اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے اور وہ اپنی گزشتہ اور موجودہ حالت پر سوچنے لگا۔ جب عجیب نے اپنے باپ کی باتیں سنیں تو اس کا دل بھی اس کی طرف کھنچا اور وہ خادم کی طرف دیکھ کر کہنے لگاکہ میرا دل اس باورچی کی طرف کھنچ رہا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ اپنے بیٹے سے جدا ہوگیا ہے۔ چل اس کے پاس چلتے ہیں تاکہ اسے تسکین ہو اور ہم اس کی دعوت کھائیں۔

ممکن ہے کہ ہمارے اس سلوک کی وجہ سے خدا بھی ہمارے باپ سے ملا دے۔ جب خادم نے عجیب کی باتیں سنیں تو کہنے لگا کہ واللہ کیا خوب! وزیر زادہ ہوکر تو باورچی کی دکان پر کھانا کھائے گا! میں تو اس ڈنڈے سے لوگوں کو روکتا ہوں کہ وہ تجھے نہ دیکھیں، تو میں پھر کیسے مطمنو ہوسکتا ہوں کہ تو باورچی کی دکان میں جائے۔ جب بدرالدین نے نوکر کی باتیں سنیں تو اسے تعجب ہوا اور وہ اس کی طرف متوجہ ہوا اور اس کی رخسار پر آنسو بہہ رہے تھے۔

اب عجیب نے خادم سے کہا کہ میرے دل کی کشش اس کی طرف ہے۔ اس نے جواب دیا کہ ایسی باتیں مت کر اور دکان کے اندر مت جا۔ اب عجیب کا باپ نوکر کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ اے بزرگ، تو کیوں میرے دل پر مرہم نہیں رکھنا چاہتا اور اندر داخل نہیں ہوتا، اے وہ شخص جو اخروٹ کی طرف باہر سیاہ اور دل میں سفید ہے، اے وہ شخص جس کی تعریف بعض شاعروں نے کی ہے! خادم ہنسا اور کہنے لگا کہ کیا تعریف کی ہے، خدا کی قسم اختصار کے ساتھ کہہ۔

بدرالدین حسن نے فوراً یہ اشعار پڑھے: ”اگر وہ تمیزدار اور اعتبار کے قابل نہ ہوتا تو بادشاہوں کے محلوں میں اس پر بھروسہ نہ کیا جاتا اور نہ حرم میں۔ وہ کیسا اچھا ملازم ہے کہ آسمان کے فرشتے اس کی خدمت کرتے ہیں۔“ ملازم اس کلام سے خوش ہوگیا اور عجیب کو لے کر باورچی کی دکان کے اندر گیا اور نورالدین حسن نے ایک گہرا پیالہ بھر کر انار دانے نکالے جس میں بادام اور شکر پڑی ہوئی تھی اور دونوں کھانے بیٹھ گئے۔

بدرالدین حسن نے کہا کہ تم نے میرے اوپر مہربانی کی ہے‘کھاﺅ‘خدا مبارک کرے!لیکن عجیب نے اپنے باپ سے کہا کہ تو بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھا تاکہ خداہمیں اس شخص سے ملا دے‘جس سے ملنے کی ہمیں آرزو ہے۔بدرالدین حسن نے کہا کہ بیٹا‘تجھے اس کم سنی میں احباب کی جدائی ملی ہے؟عجیب نے کہا کہ ہاں اے چچا‘میرے دل میں احباب کی جدائی کی آگ بھڑک رہی ہے اور وہ میرا باپ اور اس کے لیے میں اور میرا نانا ملک ملک پھر رہے ہیں۔

دیکھیں ہمیں خدا کب ملاتا ہے!یہ کہہ کر وہ زار زاررونے لگا اور اس کی جدائی اور رونے کی وجہ سے اس کا باپ بھی رونے لگا۔اور اس کے بعد اپنے ماں باپ کی جدائی کا۔ملازم کو بھی اس کے اوپر بڑا افسوس ہوا۔اب تینوں کھانے بیٹھ گئے اور پیٹ بھر کر کھایا۔اس کے بعد اٹھے اور بدر الدین حسن کی دکان سے باہر آئے۔ اب اسے ایسا محسوس ہوا کہ گویا اس کی روح اس کے بدن سے نکل کر ساتھ جارہی ہو۔

وہ صبر نہ کرسکا اور دکان بند کرکے اس کے پیچھے ہولیا‘مگر یہ اسے معلوم نہ تھا کہ وہ اسی کا بیٹا ہے۔وہ تیز تیز چلنے لگا یہاں تک کہ اس نے انہیں پکڑ لیا۔قبل اس کے کہ وہ بڑے دروازے سے نکلیں۔اب نوکر نے اس کی طرف متوجہ ہوکر کہا کہ خیر تو ہے؟بدرالدین حسن نے جواب دیا کہ جب تم لوگ میرے پاس سے جانے لگے تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میری روح بھی تمہارے ساتھ چل دی‘اور دروازے کے باہر شہر میں مجھے ایک کام ہے‘اس لیے میرا ارادہ ہوا کہ میں بھی تمہارے ہمرا چلوں اور کام پوراکرکے لوٹ جاﺅں۔

اس پر ملازم کو غصہ آگیا اور وہ عجیب سے کہنے لگا کہ میں اسی بات سے تو ڈرتا تھا۔ہم نے وہ منحوس نوالہ کھایا اور اب ہمیں اس کی پچ کرنی ہے اور وہ ہمارا جگہ جگہ پیچھا کررہا ہے۔عجیب نے پیچھے پھر کر دیکھا کہ باورچی ان کے ساتھ لگا ہوا ہے اور مارے غصے کے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا لیکن اس نے ملازم سے کہا کہ یہ ہر مسلمان کی عام راہ ہے اگر وہ اس پر چل رہا ہے تو چلنے دے۔

لیکن جب ہم اپنے خیموں میں جائیں گے‘اگر اس وقت بھی ہمارے پیچھے پیچھے آیا تو اسے نکال باہر کریں گے۔یہ کہہ کر لڑکے نے سر نچاز کرلیا اور آگے بڑھا اور ملازم اس کے پیچھے پیچھے تھا اور بدر الدین حسن ان دونوں کے پیچھے۔جب وہ میدان الحصی میں پہنچے اور خیمے قریب آگئے تو ان دونوں نے الٹ کر دیکھا کہ وہ پیچھے لگا ہوا ہے۔عجیب کو غصہ آیا اور وہ ڈرا کہ کہیں ملازم اس کے نانا کو خبر نہ کردے۔

اس پر وہ غضب ناک ہوا کہ کہیں وہ یہ نہ کہہ دے کہ میں باورچی کی دکان میں گیا تھا اور باورچی میرے پیچھے آرہا ہے۔اب اس نے دوبارہ پھر کر دیکھا اور اسے یہ نظر آیا کہ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے ہے اور اس پر مردنی چھائی ہوئی ہے۔عجیب کو یہ محسوس ہو کہ وہ کوئی دھوکے باز یا حرامی ہے‘اور اس کا غصہ اور بڑھ گیا اور اس نے ایک پتھر اٹھا کر اپنے باپ پر مارا۔

بدرالدین حسن بے ہوش ہوکر گڑپڑا اور اس کے چہرے پر خون بہنے لگا اور عجیب اور نوکر خیمے میں چلے گئے۔ جب بدرالدین حسن کو ہوش آیا تو اس نے اپنا خون پونچھا اور اپنی پگڑی میں سے تھوڑا سا ٹکڑا پھاڑ کر اپنے سر پر بٹی باندھ لی اور اپنے آپ کو ملامت کرنے اور کہنے لگا کہ میں نے لڑکے پر ظلم کیا ہے کہ اپنی دکان بند کرکے اس کے پیچھے پیچھے ہولیا اور اسے اس بات کا موقع دیا کہ وہ مجھے دھوکے باز خیال کرے۔

یہ کہہ کر وہ اپنی دکان کو واپس گیا اور کھانے کی چیزیں بیچنے میں مشغول ہوگیا اور اس کے دل میں اپنی ماں سے ملنے کی تمنا جوش مارنے لگی اور وہ اس کو یاد کرکے رونے لگا۔ ادھر بدرالدین حسن اپنا کھانا بیچنے میں مشغول رہا اور ادھر اس کا چچا جو وزیر تھا‘دمشق میں تین دن ٹھہر کر حمص کی طرف روانہ ہوگیا اور وہاں پہنچ گیا وہ راستے میں اور جہاں کہیں وہ سفر میں قیام کرتا تھا‘تفیش کرتا جاتا تھا۔

یہاں تک کہ وہ دیار بکر اور مردین اور موصل پہنچا اور پھر سفر کرتے بصرے میں داخل ہوا۔ جب اس نے وہاں اپنی قیام گاہ درست کرلی تو وہاں کے سلطان کے پاس گیا اوراس سے ملا۔سلطان نے اس کے رتبے کے مواقف اس کا احترام کیا اور اس سے آنے کا سبب پوچھا۔وزیر نے اپنا سارا قصہ بیان کردیا اور یہ کہ نورالدین علی اس کا بھائی تھا۔سلطان نے کہا کہ خدا اس پر رحم کرے اور وزیر کی طرف مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ اے وزیر‘وہ میراوزیر تھا اور پندرہ سال تک میں نے اس کے ساتھ بڑی محبت کا سلوک کیا۔

اب وہ فوت ہوگیاہے اور اس کا بیٹا ہے جو محض ایک مہینہ ٹھہر کر غائب ہوگیا اور ہمیں اس کی بالکل خبر نہیں۔مگر اسکی ماں یہاں ہے کیونکہ وہ میرے بڑے وزیر کی بیٹی ہے۔جب وزیر شمس الدین نے بادشاہ سے سنا کہ اس کے بھتیجے کی ماں صیحا سلامت ہے تو وہ خوش ہوگیا اور بادشاہ سے کہنے لگا کہ جہاں پناہ‘میں اسے ملنا چاہتا ہوں، بادشاہ نے اسے فوراً اجازت دے دی اوراپنے بھائی نورالدین کے مکان میں اس سے ملنے گیا۔

اس نے گھر کے اندر چاروں طرف نظر دوڑائی اور اس کی دہلیزوں کو چوما اور نورالدین اور اس کے پردیس میں مرنے کا سوچ کر رونے لگا۔ اب دروازے سے آگے بڑھ کروہ ایک بڑے آنگن اور محرابی دروازے میں داخل ہوا جو سخت مضبوط پتھر کا بنا ہوا تھا اور جس میں طرح طرح کے رنگ کے پتھروں کی پچی کاری تھی، اور وہ محل میں ادھر ادھر گھومنے لگا اور اس کو دیکھنے لگا اور اس کی نظر ایک طرف جاپڑی۔

اس کے بھائی نورالدین کا نام سونے کے پانی سے لکھا ہوا تھا۔اس نے اس کے نام کے پاس جاکر اسے بوسہ دیا اور اس کی جدائی کو یاد کرکے رونے لگا اب وہ چلتے چلتے اپنی بھاوج بدرالدین حسن کی ماں کے کمرے تک پہنچا۔جب سے اس کا بیٹا غائب ہوا تھا وہ دن رات گریہ و زاری کرتی رہتی تھی۔جب کئی سال گزر گئے تو اس نے اپنے کمرے کے بیچ میں اپنے بیٹھے کی ایک قبر مرمر کی بنوائی اور دن رات اس کے فراق میں روتی تھی اور سوتی بھی تھی تو اس قبر کے پاس۔

جب وزیر اس کی قیام گاہ کے قریب پہنچا تو اس نے اسکے رونے کی آواز سنی اور وہ دروازے کے آگے ٹھہر گیا۔اس نے ابھی رونا ختم نہیں کیا تھا کہ وزیر شمس الدین اندر آیا اور اسے سلام کیا اور کہنے لگا کہ میں تیرا جیٹھ ہوں۔پھر اس نے سارا ماجرا بیان کیا اور تمام قصہ سنایا اور کہا کہ تیرا بیٹا بدرالدین حسن ایک پوری رات میری بیٹی کے ساتھ سویا ہے‘جس کو اب دس سال ہونے کو آئے ہیں مگر صبح کو وہ غائب ہوگیا اور میری بیٹی کے تیرے بیٹے کا حمل رہ گیا اور اس کے ایک لڑکا پیدا ہوا‘جس کو میں ساتھ لایا ہوں کیونکہ وہ تیری اولاد ہے اور میری بیٹی کے بطن سے تیرا پوتا۔

جب اس نے اپنے بیٹے کا حال سنا اور یہ کہ وہ زندہ ہے اور اس کا جیٹھ اس کے سامنے کھڑا ہے تو وہ اس کی تعظیم کے لیے کھڑی ہوگئی اور اس کے پاﺅں پر گر پڑی اور انہیں چومنے لگی۔اب وزیر نے عجیب کو بلوایا اور جب وہ پہنچا تو اس کی دادی کھڑی ہوگئی اور اسے گلے لگا کر رونے لگی۔ اس پر شمس الدین نے کہا کہ یہ رونے کا وقت نہیں ہے بلکہ تو سفر کی تیاری کرکے ہمارے ساتھ مصر چل۔

ممکن ہے کہ خدا ہمیں اور تجھے تیرے بیٹے، میرے بھتیجے سے ملا دے۔اس نے کہا کہ بسروچشم اور فوراًاٹھ کھڑی ہوئی اور ضروریات کی چیزیں اور سامان اور زیور اکٹھا کرکے تیار ہوگئی،وزیر شمس الدین بصرے کے بادشاہ کے پاس گیا اور اس سے رخصت چاہی۔بادشاہ نے مصر کے سلطان کے لیے تحفے تحائف اس کے ساتھ کردئیے اور وہ فوراً چل دیا اور چلتے چلتے دمشق پہنچا اور القانون میں اترا اور خیمے ڈال دئیے اور اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ ہم یہاں ایک ہفتہ ٹھہر کر سلطان کے واسطے ہدیے اور تحفے خریدیں گے۔

عجیب خیمے سے نکلا اور خادم سے کہنے لگا کہ اے لائق‘میں ذرا سیروتفریح کرنا چاہتا ہوں۔چل ذرا بازار چلیں اور دمشق میں گھومیں اور دیکھیں کہ اس باورچی کا کیا حال ہے جس کا ہم نے کھانا کھایا اور سر پھوڑا تھا،اس نے ہمارے ساتھ نیکی کی تھی اور ہم نے اس کے ساتھ برائی۔ خادم نے کہا کہ بسرچشم‘اور عجیب اور اس کا خادم خیمے سے نکل کھڑے ہوئے اور پدری رشتہ اسے باپ کی طرف کھینچے لیے جاتا تھا۔

یہاں تک کہ وہ جلد شہر میں داخل ہوگئے اور چلتے چلتے باورچی کی دکان پر پہنچے اور دیکھا کہ وہ دکان میں کھڑا ہوا ہے۔عصر کا وقت تھا اور یہ اتفاق تھا کہ اس نے پھر انار دانے پکائے تھے۔جب دونوں اس کے قریب پہنچے اور عیبا کی نظر اس پر پڑی تو اس کے دل کو اس کی طرف کشش ہوئی اور اس نے اس کی پیشانی پر پتھر کی چوٹ کا نشان دیکھا اور کہا کہ السلام علیک اے فلاں۔

دیکھ کر میرا دل تجھ میں لگا ہوا ہے۔ جب بدرالدین نے اسے دیکھا تو اس کی آنتیں قل قل کرنے لگیں اور اس کا دل دھڑکنے لگا اور اس نے اپنا سر نیچا کرلیا اور چاہتا تھا کہ زبان سے کچھ کہے لیکن نہ کہہ سکا۔پھر اس نے سر اٹھایا اور اپنے بیٹے کی طرف خوشامد اور عاجزی سے دیکھنے لگا اور ان سے کہا کہ میرے دل کو تسلی دو اور میرے ساتھ کھانا کھاﺅ۔خداکی قسم!جب میں نے تجھے پہلی بار دیکھا تو میرا دل دھڑکنے لگا تھا اور میں محض بدحواسی کی حالت میں تیرے پیچھے گیا تھا۔

عجیب نے کہا کہ واللہ تجھے ہم سے محبت ہے اور ہم نے تیری دعوت کھائی تھی مگر اس کے بعد تو ہمارے ساتھ ہولیا تھا اور ہماری توہین کرنا چاہتا تھا۔اب ہم محض اس شرط پر تیرا کھانا کھائیں گے کہ تو قسم کھائے کہ ہمارے پیچھے نہ آئے گا۔ورنہ ہم اس کے بعد کبھی تیرے پاس نہ آئیں گے کیونکہ ہم ایک ہفتہ یہاں ٹھہریں گے اور میرا نانا بادشاہ کے لیے ہدیے خریدے گا۔

بدرالدین نے کہا کہ منظور ہے۔اب عجیب اور نوکر دکان کے اندر گئے اور اس نے ایک پیالہ بھر کر انار دانے ان کے سامنے پیش کئے عجیب نے کہا کہ تو بھی ہمارے ساتھ کھا تاکہ خدا ہمیں خوشی عطا فرمائے،بدرالدین خوش گیا اور ان کے ساتھ کھانے بیٹھ گیا‘مگر اس کی آنکھیں عجیب کی طرف لگی ہوئی تھیں اور وہ دل و جان سے اس پر فدا ہورہا تھا۔عجیب نے کہا کہ میں نے تجھ سے کہا نہ تھا کہ تو بڑا عاشق ہے اس لیے تو جتنا میرے چہرے کی طرف دیکھ سکتا ہے دیکھ۔

بدرالدین کبھی عجیب کے منہ میں لقمہ دیتا تھا اور کبھی نوکر‘یہاں تک کہ وہ کھاکر سیر ہوچکے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔اب حسن اٹھا اور ان کے ہاتھ دھلائے اور اپنی کمر سے ایک ریشمی رومال کھول کر اس کے ہاتھ پونچھنے اور پھر ان پر گلاب چھڑکا جو اس کے پاس ایک بوتل میں تھا۔اب وہ دکان سے باہر گیا اور ایک صراحی شربت بھری لے آیا۔جس میں گلاب اور مشک ملا ہوا تھا اور ان کے سامنے پیش کیا اور کہنے لگا کہ میرے ساتھ پورا پورا احسان کرو۔

عجیب نے شربت لے کر پیا اور پھر نوکر کے آگے بڑھا دیا اور دونوں نے اتنا کھایا پیا کہ عادت کے خلاف ان کے پیٹ بھر گئے اور وہ سیر ہوگئے۔اب وہ وہاں سے لوٹے اور جلد از جلد چل کر اپنے خیموں میں پہنچے اور عجیب اپنی دادی کے پاس گیا جو اس کے باپ بدرالدین حسن کی ماں تھی۔دادی نے اسے بوسہ دیا اور اپنے بیٹے بدرالدین حسن کے دھیان میں غرق ہوگئی۔پھر اس نے عجیب سے کہا کہ بیٹا تو کہاں تھا؟اس نے جواب دیا کہ شہر میں۔

اب وہ اٹھی اور اس نے ایک پیالہ انار دانوں کا اس کے سامنے لارکھا جس میں مٹھاس کم تھی اور خادم سے کہا کہ اپنے آقا کے ساتھ بیٹھ جا۔خادم نے اپنے دل میں کہا کہ واللہ‘ہمارا جی کھانے کو بالکل نہیں چاہتا‘مگر وہ بیٹھ گیا۔عجیب بھی جب کھانے بیٹھا تو اس کا پیٹ بھی ان چیزوں سے بھرا ہوا تھا جو ابھی کھاپی کر آیا تھا۔بہر حال اس نے ایک لقمہ اٹھایااوراسے انار دانوں میں ڈبو کر کھایا مگر وہ اسے پھیکا سا معلوم ہوا کیونکہ اسکا پیٹ بھرا ہوا تھا۔

وہ کہنے لگاکہ افوہ یہ کیسا خراب کھانا ہے!اس کی دادی نے کہا کہ بیٹا‘تو میرے کھانے میں عیب نکالتا ہے‘میں نے خود اسے پکایا ہےا ور سوائے تیرے باپ بدرالدین حسن کے میری طرح کوئی کھانا نہیں پکا سکتا۔عجیب نے کہا کہ اے میری آقا‘واللہ یہ تیرا کھانا خراب ہے۔ہم نے ابھی شہر میں ایک باورچی کو دیکھا ہے،جس نے انار دانے اتنے عمدہ پکائے تھے کہ اس کی خوشبو سے جی خوش ہوجاتا ہے اور ذائقہ اتنا اچھا تھا کہ جی چاہتا تھا کہ کھائے چلا جائے،تیرے کھانے اور اس کے کھانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔جب اس کی دادی نے اس کی یہ باتیں سنیں تو اسے سخت غصہ آیا اور اس نے خادم کی طرف دیکھا۔ اب شہر زاد کو صبح ہوتی نظر آئی اور اس نے وہ کہانی بند کردی‘جس کی اسے اجازت ملی تھی۔
تاریخ اشاعت: 2018-01-10

Your Thoughts and Comments