Parhy Farsi Bechy Tail

پڑھیں فارسی بیچیں تیل

پیر جنوری

Parhy Farsi Bechy Tail
اطہر اقبال:
ماجد صاحب تھے تو بڑے ہی تعلیم یافتہ اور شریف آدمی مگر ان میں ایک بُری عادت یہ تھی کہ وہ ہر وقت دوسروں کی ٹوہ میں لگے رہتے۔ انہیں اس بات میں بڑی دل چسپی تھی کہ دوسروں کی خبر رکھیں۔ کون کیا کررہا ہے؟ کس کی کتنی آمدنی ہے؟ ہر وقت وہ اس ٹوہ میں لگے رہتے۔ میاں ماجد صاحب، آپ کے بارے میں محلے والوں کی رائے اب کچھ اچھی نہیں رہی۔

قاسم صاحب نے ایک دن ماجد صاحب کا گلی میں روک کر ٹوک ہی دیا۔

(جاری ہے)

کیوں بھائی میں نے ایسا کیا کردیا؟ ماجد صاحب نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔ آپ پڑھے لکھے شریف آدمی ہیں مگر ہروقت دوسروں کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ نہیں․․․․نہیں․․․․․ایسی تو کوئی بات نہیں۔ میں تو․․․ بس ․․․بس ماجد صاحب رہنے دیں۔ یوں آئیں بائیں شائیں کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، آپ اپنی عادتوں کو بدل لیں، آپ تو وہ کام کررہے ہیں کہ ”پڑھیں فارسی اور بیچیں تیل“ اچھے بھلے شریف آدمی ہوتے ہوئے بھی بری عادت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ قاسم صاحب نے ماجد صاحب کی بات کاٹتے ہوئے کہا اور ماجد صاحب شرمندگی کے ساتھ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔

تاریخ اشاعت: 2018-01-15

Your Thoughts and Comments