Doodh Ka Jala Chaas Phook-phook Kar Peeta Hai

دودھ کا جلا چھاچھ پُھونک پُھونک کر پیتا ہے

جمعرات جنوری

Doodh Ka Jala Chaas  Phook-phook Kar Peeta Hai
اطہر اقبال:
احسن ابھی ساتویں جماعت ہی میں تھامگر کرکت بڑی عمدہ کھیلتا تھا۔ اکثر اپنے اسکول کی میٹرک کے لڑکوں پر مشتمل کرکٹ ٹیم میں کسی لڑکے کے بیمار ہونے یا کسی اور وجہ کے باعث شریک نہ ہونے پر احسن کو ہی کھیلنے کا موقع ملتا اور احسن اپنی دھواں دھار بیٹنگ سے کرکٹ دیکھنے والے بچوں سے خوب داد پاتا۔ احسن کو نیا بیٹ لائے ہوئے ابھی کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ بلا اپنے جوڑ کے پاس سے نکل گیا اور احسن کے ہاتھ میں بیٹ پکڑنے کا صرف دستہ ہی رہ گیا اور بقیہ حصہ دور جا گرا۔

احسن ایک نیا بلا پھر خرید کا لایا مگر یہ بھی کچھ دن ہی چلا اور ٹوٹ گیا۔ احسن اب تو بہت ہ سٹپٹایا اپنے پاپا سے ضد کرکے ایک نیا بیٹ پھر خرید لایا، مگریہ کیا!! یہ نیا بلا بھی چند دن ہی چل سکا اور وہیں جوڑ کے پاس سے پھر ٹوٹ گیا۔

(جاری ہے)

احسن کا سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر یہ کیا ہورہا ہے؟ اس نے ایک بار پھر اپنے پاپا کو نیا بلا دلانے پر تیار کیا اور دوکان پر پہنچ کر ہر بلے کو ہاتھ میں لے کر اچھی طرح دیکھتا اور زمین پر ٹک ٹک کرکے بیٹ کی مضبوطی کا اندازہ لگاتا۔

جب احسن نے کئی بیٹ دیکھ لئے تو دکاندار نے کہا ”کچھ خریدنا بھی ہے یا․․․․․ وہ اصل میں انکل میں بیٹ کی مضبوطی کا اندازہ لگا رہا تھا کیوں کہ کئی بیٹ میں نے خریدے مگر سب ہی ٹوٹ گئے۔ احسن نے دکاندار سے کہا اور پھر دوبارہ مختلف بلوں کی مضبوطی کا اندازہ کرنے لگا۔ احسن کے پاپااس کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھ کر دل ہی دل میں مسکرارہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ واقعی ”دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے“۔
تاریخ اشاعت: 2018-01-18

Your Thoughts and Comments