پاکستانی عوام فوجی آمریت سے پاکستان کو آزاد کرانے کیلئے میرا ساتھ دیں، اگلی عید پاکستان میں مناؤں گا ،نواز شریف،آمرپاکستان کو دوسرے ملکوں کی غلامی میں دینے کیلئے تیار ہیں،مسلم لیگ بہت سے امتحانات کے باوجود قائم ودائم ہے، فوجی آمروں کے ہر غیر آئینی اقدام کے پیچھے لبیک کہنے والی جماعت پاکستان کی تباہی کے سب سے بڑی مجرم ہے حالات 1971ء سے زیادہ خراب ہو چکے ہیں،مسلم لیگ کی صد سالہ تقریب کے موقع پر اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے ٹیلیفونک خطاب

ہفتہ دسمبر 19:32

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔30دسمبر۔2006ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام فوجی آمریت سے پاکستان کو آزاد کرانے کیلئے میرا ساتھ دیں، اگلی عید پاکستان میں مناؤں گا ،آمرپاکستان کو دوسرے ملکوں کی غلامی میں دینے کیلئے تیار ہیں اپنی حکمرانی کو طول دینے کیلئے پاکستان کی عزت کا سودا کیا جارہاہے،مسلم لیگ پر بہت سے امتحانات آئے اس کے باوجود بھی یہ قائم ودائم ہے اور کندن بن چکی ہے فوجی آمروں کے ہر غیر آئینی اقدام کے پیچھے لبیک کہنے والی جماعت پاکستان کی تباہی کے سب سے بڑی مجرم ہے پاکستان میں 1971ء سے حالات زیادہ خراب ہو چکے ہیں ہفتہ کو مسلم لیگ کی صد سالہ تقریب کے موقع پر اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی بنیاد ڈھاکہ میں 1906ء میں رکھی گئی بہت سے نشیب وفراز آئے مشکلات کے باوجود مسلم لیگ آج بھی قائم وادائم ہے اور کندن بن چکی ہے مسلم لیگ کے خلاف سازشیں ہوئیں لیکن ہم آج بھی اپنے قدموں پر قائم کھڑے ہیں پاکستان کی عوام جانتی ہے کہ اصل مسلم لیگ کون سی ہے انہوں نے کہا کہ سرکاری مسلم لیگ کے کردار سے قائد اعظم کی روح تڑپ رہی ہوگی جس نے ڈکٹیٹر اور باوردی صدر کو خوش آمدید کہا ان آمروں نے ملک تباہ وبرباد کر دیا ہے سرکاری مسلم لیگ کہتی ہے کہ ہم اس کو سو مرتبہ باوردی صدر منتخب کریں گے یہ آمرپاکستان کو دوسرے ملکوں کی غلامی میں دینے کیلئے تیار ہیں اپنی حکمرانی کو طول دینے کیلئے پاکستان کی عزت کا سودا کیا جارہاہے اور کچھ پیسوں کے عوض اپنے لوگوں کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دیا اور مسلم لیگ ق اس عمل کے پیچھے لبیک کہتی ہے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پتہ نہیں یہ جماعت کون سے لوگوں کا مجموعہ ہے یہ وہ لوگ ہیں اور ڈکٹیٹر کو خوش کرنے کیلئے 45،45دن کیلئے وزیر اعظم بننے کیلئے تیار ہیں پاکستان میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا سماں ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تباہی کی ذمہ داری جتنی جر نیلوں پر ہے اتنی ہی سپریم کورٹ کے ان ججوں پربھی ہے جنہوں نے مشرف کو بااختیار بنایا اور آج گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ ق لیگ سب سے بڑی مجرم ہے جس نے ان کے ہر عمل کی تائید کی انہوں نے کہا کہ یہ سب لوگ احتساب کی زد میںآ ئیں گے اور جب بھی وقت آیا دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا مشرف جس طرف پاکستان کو لے کر جا رہے ہیں اس سے 1971ء سے زیادہ حالات خراب ہو چکے ہیں بنگلہ دیش آمر فوجیوں کی وجہ سے بنا جنرل نیازی نے آمریت کی وجہ سے پستول رکھ دیا اگر ملک میں جمہوریت ہوتی تو ایسا کبھی نہ ہوتا ان جرنیلوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کی دھمکی پر ان کے تمام احکامات کو ماننے کیلئے تیار ہوگئے انہوں نے کہا کہ جب میں اس ملک کا منتخب وزیر اعظم تھا تو اس وقت کے صدر کلنٹن نے مجھے پانچ مرتبہ فون کئے لیکن میں نے ایک نہیں مانی ، انہوں نے سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران بزدل جبکہ آپ لوگ بہادر ہیں نواز شریف نے کہا کہ تمام پراپرٹی پر ان لوگوں کا قبضہ ہے ساڑھے سات لاکھ کا پلاٹ لیکر پانچ کروڑ میں بیچے گئے اور راتوں رات ارب پتی بن گئے جب کہ پاکستان کے ایک عام شہری کے پاس تین مرلے زمین بھی نہیں ہے بجلی کا بل ادا کرنے کیلئے پیسے نہیں ، نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیکر بیروزگار پھر رہے ہیں لوگوں کے گھروں کے چولہے بجھ گئے ہیں اور لوگ خودکشیاں کرنے پر تیار ہیں ، مشرف اپنے لئے ڈیڑھ سو کروڑ کی گاڑیاں منگواتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہوں اور فوجی آمریت سے پاکستان کو آزاد کرانے کیلئے عوام میرا ساتھ دیں ، انہوں نے کہاکہ اگلی عید پاکستان میں مناؤں گا ، اس موقع پر مسلم لیگ ن کے چیئر مین راجہ ظفر الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نظریہ پاکستان اسلام کا مقام اور اس کا مستقبل کے مضمون پر 2007ء کے پورے سال میں تقریبات جاری رہیں گی جس میں قائدین ورکر سیاستدان اوربین الاقوامی لوگوں کو مدعو کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں نے امریکہ کے کہنے پر تعلیم کا نصاب تعلیم کر دیا ہے چھوٹی جماعتوں میں اسلام کے بارے میں معلومات کو ختم کیا جارہا ہے تاکہ آئندہ نسل کو پتہ نہ ہو کہ اس ملک کو بنانے کا مقصد کیا تھا ،بیرونی ممالک سے ہدایت آتی ہے کہ پیسے ہم دیتے ہیں کتابیں آپ چھپوائیں اس وقت کی وزیر تعلیم کو صدر بش نے دوتین مرتبہ ٹیلیفون پر نصاب تبدیل کرنے پر مبارکباد دی جبکہ یہاں کے حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ موجودہ وزیر تعلیم کو یہ بھی پتہ نہیں کہ قرآن پاک کے کتنے پارے ہیں پتہ نہیں کس طرح کے لوگ پاکستان پر مسلط ہوگئے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے ایجنڈے اور قوم کے ایجنڈے نے بہت زیادہ فرق ہے ان کا کعبہ واشنگٹن اور ہمارا کعبہ مکہ شریف ہے پاکستان کو سات سال میں ہر لحاظ سے نقصان پہنچایا گیا ہے سردیوں میں لوڈ شیڈنگ شروع کر دی گئی عوام کو مکے اور طاقت دکھانے کے علاوہ ایک میگا واٹ بجلی بھی پیدا نہیں کی سٹاک ایکسچینج اور سٹیل مل جیسے سکینڈل پیدا کئے سپریم کورٹ کے بھی نشانات ان کے گھروں کی طرف جاتے ہیں عزت نفس ختم ہو کر رہ گئی ہیں بے شمار لوگوں کو خفیہ ایجنسیوں نے اٹھا لیا ہے سپریم کورٹ کے پوچھنے پر بھی کوئی جواب نہیں دیتا انہوں نے کہا کہ اس عمل سے بیرونی ممالک کو کیا تاثر ملتاہوگا توہین رسالت جیسے معاملے پر مسلمان باہر نکلتے ہیں تو ان پر تشدد کیا جاتا ہے بلوچستان کی صورتحال ابتر ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے جلسے میں کہا تھا کہ پنجاب بلوچستان کے اندر طاقت کے استعمال کے خلاف ہے اس ایکشن کی وجہ سے وہاں پر موجود پنجابیوں کو گولیاں ماری گئیں بلوچیوں کا کہنا ہے کہ پنجا ب کی طرف سے کبھی کوئی موثر آواز نہیں اٹھی انہوں نے کہا کہ قائد نواز شریف نے بلوچستان کی صورتحال پر بلوچ عوام سے اظہار ہمدری کا اظہار کیا اور اس عمل کی شدید مخالف کی آج بھی بلوچستان میں گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال ہو رہے ہیں باجوڑ میں د س بارہ سال کے بچوں کو اساتذہ سمیت امریکیوں نے بمباری کر کے ہلاک کر دیا جس کی ذمہ داری انہوں نے اپنے اوپر لے لی امن وامان کی صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ دارلحکومت میں بھی روز ان گنت واقعات ہوتے ہیں حکمرانوں نے ریاست کے انتظامات اپنی حفاظت پر لگائے ہوئے ہیں ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے درمیان میاں نواز شریف ایک ایسے لیڈر موجود ہیں جس کی نظر بیت اللہ اور مدینہ منورہ پر ہے ۔

اس موقع پر مسلم لیگ ن کے سیکرٹری احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ کی تاریخ محمد بن قاسم سے شروع ہوتی ہے مسلم لیگ ایک نظریے کا نام ہے انہوں نے کہا کہ قیادت اس وقت تک کچھ نہیں کرسکتی جب تک قائد کے پاس کوئی پلیٹ فارم نہ ہو قائد ہو اور جماعت اور قوم کی تائید نہ ہو تو کچھ نہیں کرسکتی انہوں نے کہا کہ نواز شریف اپنے اصولوں پر ڈٹے ہوئے ہیں اور مسلم لیگ کی صفوں میں جتنے مفاد پرست تھے ان کو مشرف نے اپنی گود میں لے لیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف بہت جلد وطن واپس آئیں گے آمروں کو تاریخ درگزر تو کرتی ہے لیکن معاف نہیں کرتی ،مرکزی صدر سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ آج ایک طرف وہ مسلم لیگ ہے جس کی قیادت نواز شریف کررہے ہیں دوسری طرف باوردی شخص ہے پاکستان کو جرنیل کی وردی نے تباہ کر دیا ہے ہم جنرل مشرف کو باور کرواتے رہے ہیں کہ وردی ملک کو لے ڈوبی ہے صدام حسین کو امریکیوں نے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا اور اس کے بعد اس کا جو حشر ہوا ہے اس سے مشرف کو سبق سیکھنا چاہیے ،انہوں نے کہا کہ امریکہ کے سر پر سارے خطے کی صورتحال کو دو چار کر دیا خار دار تاریں اور بارودی سرنگیں امریکہ کی شہہ پر بچھائی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے صدام کے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور وہاں روزانہ تین سو سے چار سو لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں اب نہ وہ صدام رہا اور نہ وہ وردی رہی انہوں نے کہا کہ ہم مسلم لیگ کہہ رہی ہے کہ اس وردی میں رہ کر دوبارہ وردی کی صدارت اور آمرانہ نظام قائم کرنے کی ضد صدر مشرف چھوڑ دیں ، پاکستان کے شہریوں کے خون میں جمہوریت رچی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف انتخابات سے قبل وطن واپس نہ آئے تو آپ کو انتخابات نہیں کروانے دیئے جائیں گے تقریب سے فیڈریل کیپیٹل شعبہ خواتین کی نائب صدر ، شاہدہ کریم ، سینئر نائب صدر انجم عقیل خان ، شوکت جنجوعہ صدر ڈاکٹر چوہدری ، چوہدری تنویر اور دیگر مقررین نے خطاب کیا ۔