چمن پولیس فائرنگ سے چارتاجروں کی ہلاکت کی خلاف مکمل ہڑتال ، احتجاجی مظاہرہ

جمعرات جنوری 19:38

چمن(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین01جنوری2009 ) کراچی پولیس کے ہاتھوں سرحدی شہر چمن کے 4 تاجروں کے جاں بحق ہونے کیخلاف مکمل شٹر ڈاون ہڑتال، احتجاجی مظاہرہ اور جلسہ عام منعقد ہوا۔ جاں بحق ہونے والے تاجروں کو ہزاروں افراد کی موجودگی میں سپر د خاک کردیا گیا نماز جنازہ شیخ الحدیث الحاج مولانا عبدالغنی نے پڑھائی۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز کراچی میں پولیس کے ہاتھوں سرحدی شہر چمن کے 4 نوجوان تاجروں کے کے ہلاکت کیخلاف یہاں چمن میں پشوں نخواں ملی عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی انجمن تاجران اور دیگر سیاسی اور سماجی تنظیموں کے اپیل پر مکمل شٹر ڈاون ہڑتال رہی اور تمام کاروباری مراکز بند رہے اورمعمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی اور چمن پشتونخوا میں کے ضلعی سیکرٹریٹ سے سیاسی پارٹیوں اور انجمن تاجران چمن کا ایک مشترکہ احتجاجی مظاہرہ شروع ہوا اورشہر کے اہم شاہراہوں سے گزرتا ہوا ضلعی سیکرٹریٹ کے سامنے ایک عظیم الشان تاریخی جلسہ عام کی شکل اختیار کیا مظاہرے میں شریک ہزاروں افراد نے سندھ حکومت اورپولیس کیخلاف زبردست نعرے بازی کی۔

(جاری ہے)

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شیر محمد اچکزئی، جیلانی عروزئی، صحبت خان اچکزئی داروخان اچکزئی، داد شاہ پژواک ، قاری عطاء اللہ مسلم مولوی وزیر محمد ، احمد کان اورحافظ عبدالقیوم نے خطاب کیا اس تاریخی غمناک احتجاجی جلسے سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ کراچی پولیس اور وہاں موجود ایک پشتون دشمن فاسٹ تنظیم نے ظلم اور بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں اورکراچی میں پشتونوں کی قتل عام پرحکومت کی خاموشی ایک نارواعمل ہے۔

اوربدترین دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے مقررین نے مزید کہا کہ کراچی میں پولیس کے ہاتھوں چمن کے 4 نوجوان تاجروں کی شہادت ریاستی دہشت گردی کی ایک بدترین مثال ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے مقررین اور جلسے میں موجود ہزاروں افراد نے پر زور احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس ناروا واقعہ میں ملوث اہلکاروں کا گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے اورکراچی میں خون و ہراس پھیلانے والے ایک لسانی تنظیم کے دہشت گردوں کیخلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔

متعلقہ عنوان :