چیئرمین میر محمد یوسف بادینی کا کراچی میں تمر کے جنگلات کی کٹائی اور سمندری آلودگی میں خطرناک حد تک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار

جمعرات مئی 21:49

اسلام آباد ۔ 26 مئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔26 مئی۔2016ء) سیینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے چیئرمین سینیٹر میر محمد یوسف بادینی نے کراچی کے ساحلی علاقوں میں، بلاروک ٹوک غیر قانونی زمینی قبضے، تمر کے جنگلات کی بلاروک ٹوک کٹائی اور سمندری آلودگی میں خطرناک حد تک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت کے متعلقہ اداروں کو ان اہم مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنا موٴثر کردار ادا کرنے پرزور دیا ہے۔

جمعرات کو سینیٹ سٹینڈنگ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے دیگر ارکان کے ساتھ کراچی کے ساحلی علاقوں میں آلودگی اور تمر کے جنگلات کی صورتحال کا جائزہ لینے کے منعقد کے گئے دورے کے بعد میر محمد یوسف بادینی نے کہا کہ تمر کے جنگلات کی تباہی کی وجہ سے کراچی کے سمندری علاقے آج عالمی حدت میں اضافہ کے باعث پیدا ہونے والے موسمیاتی خطرات کے منفی اثرت خاص کر سمندری طوفان، سمندری سطح میں مسلسل اضافہ سے دوچار ہے تاہم اس موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے تمر کی جنگلات میں جنگی بنیادوں پر اضافہ کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے سندھ حکومت پر زور دیا کہ وہ ساحلی علاقوں میں غیر قانونی قبضے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی سے گریز نہ کرے۔ میر محمد یوسف بادینی نے مزید کہا کہ اس زمینی قبضہ سے اور صنعتی اور گھریلو فضلے کو سمندر میں بغیر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے گزارنے کے بغیر سمندر میں چھوڑ کرنے سے ساحلی علاقوں میں تمر کے جنگلات کو کافی حد تک نقصان پہنچا ہے جس سے کراچی شہر اور اس میں بسنے والوں کی ندگی کو شدید موسمیاتی خطرات لاحق ہو گئے ہیں اورآلودگی میں گہری حد تک اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سندھ انوائرونمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اور سندھ محکمہ جنگلات کا کردار ناگزیر ہے اور تمر کے جنگلات میں اضافہ اور سمندری آلودگی پر قابو پانے کیلئے وفاق اور سندھ کے درمیان رابطہ اور ہر ممکن مدد اور تعاون فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ سینیٹ کمیٹی کی رکن اور مسلم لیگ نواز کی سینیٹر نزہت صادق نے کہا کہ صنعتی اور گھریلو فضلے کو روکنے کیلئے موجودہ ٹریٹمنٹ پلانٹ کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے علاوہ ان کی تعداد بھی بڑھانا ہوگی۔

سینیٹ کمیٹی کے رکن اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر سلیم ضیاء نے کہ کہ سمندری آلودگی میں صوبائی ادارہ برائے تحفظ ماحولیات کو ماحول دشمنوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کرنے ہوں گے اور سمندری آلودگی کے ذمہ دار عناصروں کو انوائرونمنٹل ٹربیونل کے ذریعے سخت سے سخت سزا دلوا کر دوسروں کیلئے مثال قائم کرنا ہو گی۔ وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے سیکرٹری سیّد ابو احمد عاکف نے کہا کہ کراچی شہر اور اس میں بسنے والے لوگوں اور ان کے ذریعے معاش کو بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات سے بچانے میں تمر کے جنگلات کے رقبے میں اضافہ ناگزیر ہے کیونکہ یہ موسمیاتی خطرات کے خلاف کسی بھی ساحلی شہر کو بچانے کیلئے سستا، پائیدار اور ممکن حل فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی قومی پالیسی، جو صوبوں کے تعاون سے عمل میں لائی جارہی ہے، میں پاکستان کے ساحلی علاقوں کو درپیش موسمیاتی خطرات کا ذکر اور ان سے نمٹنے کیلئے تجاویز دی گئی ہیں۔ تاہم، سندھ اور بلوچستان حکومت ان پالیسی تجاویزات پر عمل کرکے اپنے اپنے ساحلی علاقوں کو درپیش موسمیاتی خطرات، خآص کر سمندری طوفان کے منفی اثرات کو کم سے کم کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی ان صوبوں سے رابطے میں ہے اور ہر ممکن تکنیکی اور مالی مدد فراہم کرنے کیلئے کوششیں کر رہی ہے۔

متعلقہ عنوان :