صوبائی اسمبلی اجلاس، اپوزیشن کے سوالات موخرکرنے پر حزب اختلاف کی جماعتوں کا احتجاج

یہاں مشاعرہ کیلئے وقت دیا جاتاہے لیکن مسائل کیلئے نہیں، ڈپٹی سپیکرحکومت کی وکالت بندکریں، سردار بابک اپوزیشن احتجاج پر ہے، وزراء غیرحاضر ہیں قوم کے لاکھوں روپے ضائع ہورہے ہیں، صوبائی حکومت سنجیدگی دکھائے،مفتی جانان چاردفعہ سوال کو موخرکیاگیا،سوالات کوڈیفرکرناایوان کے مینڈیت کی توہین ہے،وزراء سامناکرنے سے بھاگتے ہیں،فخراعظم

منگل فروری 22:23

صوبائی اسمبلی اجلاس، اپوزیشن کے سوالات موخرکرنے پر حزب اختلاف کی جماعتوں ..
پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) خیبرپختونخوااسمبلی میں اپوزیشن کے سوالات کو ڈیفرکرنے اورڈپٹی سپیکرکی جانب سے حکومتی اراکین کو زیادہ موقع دینے پر حزب اختلاف کی جماعتیں سراپااحتجاج بن گئیں، صوبائی اسمبلی اجلاس کے دوران پی پی کے فخر اعظم کے سوال کو چوتھی دفعہ ڈیفرکرنے پرتمام اپوزیشن جماعتوں نے شدیداحتجاج کیا، اے این پی کے سردارحسین بابک نے کہاکہ ایوان کی کارروائی دیکھی جائے تو لگتاہے کہ ڈپٹی سپیکرصاحبہ حکومت کی وکالت کررہی ہیں، اپوزیشن کے سوالات کے ایجنڈے میں پیچھے رکھاجارہاہے، سپیکرکی جانب سے جس طرح عمل ہوتاہے ایوان اس کا ردعمل دیتاہے، اپوزیشن کو ساڑھے چار سالوں سے فنڈنہیں دیاجارہاہے، اگرکوئی ممبراپنے علاقے کے مسائل کیلئے آوازاٹھاتاہے تب بھی نہیں سنی جاتی اگربات نہ مانی گئی تو ہماراحق ہے کہ اپوزیشن اپنااجلاس طلب کرے یہاں پر مشاعرہ سننے کیلئے ٹائم دیاجاتاہے مسائل کیلئے نہیں سپیکرصاحبہ مہربانی کرکے اپنی کرسی سے انصاف کریں ،پی پی کے محمدعلی شاہ باچہ نے کہاکہ سوالات کو موخر کرنا حل نہیں بعدمیں آنے والے سوالات کی افادیت ختم ہوجاتی ہے، وزراء کوپابند کیاجائے وزیرکی ذمہ داری ہے کہ وہ ہائوس میں آکر جوابات دیں،جے یوآئی کے مفتی سیدجانان نے کہاکہ اپوزیشن احتجاج پر ہے وزراء غیرحاضر ہیں قوم کے لاکھوں روپے ضائع ہورہے ہیں چاہئے تویہ کہ ہروزیروقت نکالے اور حاضر ہوکر سوالات کے جوابات دیں یہ وزراء کی کمزوریاں اورعوام کے ساتھ ظلم ہے ایوان میں حکومت کی طرف سے سنجیدگی کامظاہرہ نہیں ہورہاہے ،قبل ازیں پی پی کے فخراعظم ایک گھنٹہ تک اپنی باری کے انتظارمیں سپیکرکی توجہ مبذول کراتے رہے تاہم انہیں آخرتک سوال پیش کرنے کا موقع نہیں ملا۔

(جاری ہے)

ان کاکہناتھاکہ سوالات موخر کرنا ایوان کے مینڈیٹ کی توہین ہے، چاربار ان کاسوال موخر ہوا، متعلقہ وزیر کی غیرحاضری پر آئین کہتاہے کہ دوسراوزیر اسکاجواب دے، وزراء ہمارا سامنانہیں کرسکتے اوربھاگ رہے ہیں۔ ڈپٹی سپیکرمہرتاج روغانی نے اس موقع پرکہاکہ متعلقہ وزیر بیرون ملک ہے اس لئے آپ کا سوال ڈیفرکیا جارہاہے ،پی ٹی آئی کے عارف یوسف نے بھی یقین دہانی کرائی کہ متعلقہ وزیرکے ساتھ بات کرکے فخراعظم کوتسلی بخش جواب دیاجائے گا۔