وفاقی پولیس کا2لڑکیوں کی اطلاع دینے پر 1کروڑ انعام کا اعلان

اتوار فروری 22:30

وفاقی پولیس کا2لڑکیوں کی اطلاع دینے پر 1کروڑ انعام کا اعلان
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 18 فروری2018ء) تھانہ کھنہ کی حدود سے ایک سال قبل لاپتہ ہونے والی 2لڑکیوں کی اطلاع دینے والے افراد کے لئے وفاقی پولیس نے 1کروڑ روپے انعام کا اعلان کر دیا ، تھانوں میں درج مقدمات میں مدعی سے رقم لے کر تفتیش مکمل کرنے والی مثالی پولیس کی جانب سے ایک کروڑ روپے انعام کی رقم دینا سوالیہ نشان ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دونوں لڑکیوں کو بازیاب کرا کر عدالت میں پیش کر نے کا حکم دے رکھا ہے ، وفاقی پولیس نے خانہ پری کے لئے شہریوں کو انعام کا جھانسہ دے کر عدالت کو مطمئن کرنے کا طریقہ بھی ڈھونڈ لیا۔ چوری اور ڈکیتی کے مقدمات میں 30سی40ہزار روپے کا خرچہ اور قتل کے مقدمات میں 70سے 80ہزار روپے کا خرچہ مدعی کی جیب سے نکلوایا جا تا ہے تاہم مدعی سے لی جانے والی رقم کا زیادہ حصہ متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کی جیب میں ہی جاتا ہے جبکہ پولیس حکام نے جرائم پر قابو پانے میں ناکامی کی وجہ ہمیشہ فنڈز اور سہولیات کی کمی بتائی ہے ایسی صورت میں ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ تھانہ کھنہ کے علاقے ضیا ء مسجد سے ایک سال قبل 2لڑکیاں لاپتہ ہوئی تھیں جن کے لواحقین نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو لڑکیوں کی بازیابی کا حکم دیا تھا۔ قبل ازیں فروری 2015میں پمز ہسپتال میں ڈاکٹر شاہد نواز کو نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے ہسپتال کے اندر قتل کیا تھا جن کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی تھی ، پولیس کی جانب سے 2017میں ملزمان کی اطلاع دینے والے شہریوں کے لئے انعام کا اعلان کیا گیا تھا تاہم 3سال گزرنے کے باوجود پولیس اس قتل کے ملزمان کو گرفتار نہ کر سکی۔۔۔

متعلقہ عنوان :