حکومتی اور آزاد اراکین نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے مطالبے پر مبنی قرارداد اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی

حکومت نیت دکھائے تو مدت پوری ہونے سے قبل قرارداد کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے‘ حکومتی رکن اسمبلی مخددم ہاشم جواں بخت پاکستان کی بقاء اور وفاق کو مضبوط بنانے کی جدوجہد کا آغاز کیا ہے ،پنجاب کے بارے میں غلط فہمیاں دور ہوں گی ‘ نصرا للہ دریشک

پیر اپریل 14:46

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) حکمران جماعت کے رکن اسمبلی مخدوم ہاشم جواں بخت اور آزاد رکن اسمبلی سردار نصرا اللہ خان دریشک نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے مطالبے پر مبنی قرارداد پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی ۔ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مخدوم ہاشم جواں بخت نے کہا کہ اگر حکومت اس قرارداد کو عملی جامہ پہنانا چاہے تو اس کیلئے 45روز بھی زیادہ ہیں۔

لسانی بنیادوںپر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پرصوبہ مانگ رہے ہیں اور ہم تمام جماعتوںاور حکومت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کو مضبوط بنانے کی اس جدوجہد میں ساتھ دیں ۔ انہوںنے کہا کہ اگر نیت صاف ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ جنوبی پنجاب کو موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے سے قبل نیا صوبہ نہ بنایا جا سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر نیت سے آواز اٹھائی جائے تو ایوانوں کے باہر سے اٹھائی جانے والی آواز بھی اندر بیٹھے ہوئے لوگوں تک پہنچتی ہے ۔

سردار نصراللہ دریشک نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی بقاء اور وفاق کو مضبوط بنانے کی جدوجہد کا آغاز کیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں کہ ایک صوبے کی آبادی باقی تمام یونٹس سے زیادہ ہو ۔ اس سے پنجاب کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور اس کے بڑے بھائی کی حیثیت سے اٹھائے جانے الے اقدامات کو بھی اس نظر سے نہیں دیکھا جاتا جیسے دیکھا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ایک کام کیلئے 900کلو میٹر دو لاہور آنا پڑتا ہے اور یہاں آکر بھی ان کی افسران سے ملاقات ہی نہیں ہو پاتی ۔

متعلقہ عنوان :