سیکرٹری اطلاعات آزاد کشمیر، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات سے ایڈیٹرز کونسل کے اراکین اور اخبارات کے مالکان کی ملاقات

ریاستی اخبارات کو پیش آنے والے اشتہارات کے مسائل ،اے جے کے پیپرا رولزکے نفاذ سمیت دیگرمسائل پر تفصیلی گفتگو ریاستی اخبارات اور مالکان کے مسائل حل کروانے کے لئے محکمہ اطلاعات بھرپور کوششیں کررہاہے ،ْاظہر اقبال خان

پیر اپریل 16:35

میرپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء)آزادکشمیر کی سیکرٹری اطلاعات ، سیاحت و آئی ٹی محترمہ مدحت شہزاداور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات راجہ اظہر اقبال سے ایڈیٹرز کونسل کے اراکین اور اخبارات کے مالکان کی ملاقات ہوئی ،ملاقات میں ریاستی اخبارات کو پیش آنے والے اشتہارات کے مسائل ،اے جے کے پیپرا رولزکے نفاذ، اشتہارات کی مساوی تقسیم سمیت دیگرمسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر محمد جاوید ملک ،ریاستی اخبارات کی ایڈیٹرز محمد ظفیر بابا ، خالدچوہدری ،راجہ سہراب خان،شیربار منیر چوہدری،خالد محمود انجم ،پرویز شہزاد،فیصل گلزاراور نعیم بلوچ موجود تھے ۔سیکرٹری اطلاعات وسیاحت محترمہ مدحت شہزاد نے رساستی اخبارات مالکان اور ایڈیٹرز کے جملہ مسائل غور سے سنے اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ ان کے مسائل کے حل کے ناظم اعلیٰ اطلاعات نے ایک جامع رپورٹ تیار کی ہوئی جو حکومت کو پیش کی جائیگی جس میں اشتہارات کے متعلق اور بلات کی ادائیگیوں جیسے دیگر مسائل ومعاملات بھی شامل ہیں ۔

(جاری ہے)

ڈائریکٹر جنرل اطلاعات راجہ اظہراقبال خان نے اس موقع پر کہاکہ ریاستی اخبارات اور مالکان کے مسائل حل کروانے کے لئے محکمہ اطلاعات بھرپور کوششیں کررہاہے۔اے جے کے پیپرا رولز کے نفاذ کے بعد 20 لاکھ روپے کی مالیت کے پراجیکٹ اخباری تشہیر سے مبرا ہوگے ہیں جس کے باعث اشتہارات میں کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ قواعد وضوابط کو فالو کررہاہے اس سلسلہ میں ایسے اخبارات جن کی اشاعت برائے نام تھی انہیں میڈیا لیسٹ سے خارج کردیا گیاہے جعلی اور فرضی ایڈورٹائزنگ نمبر لگا کر بلات کی وصولی کا اب کوئی رواج نہیں ہے ۔

محکمہ اطلاعات اسی اشتہار کی ادائیگی کا پابند ہے جس کا ریلیز آرڈر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کیاجاتاہے، بوگس اور فرضی نمبر کے کسی اشتہار کی محکمہ ادائیگی نہیں کررہا ۔حکومت نے بھی تمام سرکاری نیم سرکاری اداروں،ترقیاتی اداروں ،کارپوریشن ہا، میونسپل کمیٹیوں ،یونیورسٹیوں اور کالجوں سمیت تمام اداروں کو ہدایات دی ہوئی ہیں کہ وہ اشتہار پالیسی کو فالو کرتے ہوئے جملہ اشتہارات کی اشاعت محکمہ اطلاعات کے توسط سے کریں اگر کوئی محکمہ اشتہارات پالیسی کی پابندی نہیں کرتا تو اس کی طرف سے براہ راست شائع ہونے والے اشتہارات کے بلات کی تصدیق بھی محکمہ اطلاعات نہیں کرتااور آڈٹ کا بھی سیریس اعتراض ہے ۔

اخبارات مالکان بھی محکمہ اطلاعات کی اشتہار پالیسی پر عملدرآمد کریں تاکہ انہیں بلات کی ادائیگیاں بھی تحت ضابطہ کی جاسکیں ،اگر محکمہ اطلاعات کو ترقیاتی میزانیہ کے خلاف 2 فیصد بجٹ مل جائے تو بیشتر مسائل حل ہوجائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جو ریاستی اخبارات اے بی سی نہیں تھے اور ان کی سرکولیشن بھی معقول تھی حکومت آزاد کشمیر کی ہدایت پر ایسے اخبارات کی کٹیگری بنا کر ان کے ریٹ میں ایک حد تک آضافہ کیا گیا ہے ۔ریاستی اخبارات کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ہرممکن کوشش کی جارہی ہے تا کہ ریاستی اخباری صنعت پر کوئی منفی اثرات مرتب نہ ہوں ۔