ملک میں دہشت گردی کی صورتحال پر قابو پانے کے لئے موجودہ حکومت کے اقدامات سے دہشت گردی کے حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں قابل ذکر کمی آئی، سال 2017ء کے دوران وفاقی اور صوبائی سطح پر بین الاقوامی کنونشنز کے تحت اقدامات کرتے ہوئے پارلیمنٹ نے 34 قوانین اور دو ایکٹس کی منظوری دی ، صوبائی سطح پر بھی 44 قوانین منظور کئے گئے، ملک میں پہلی بار قومی مردم شماری کے دوران مخنثوں کے کوائف جمع کئے گئے اور حکومت نے انہیں پاسپورٹ جاری کیا

ایچ آر سی پی کے ترجمان آئی اے رحمن کا کمیشن کی سالانہ رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب

پیر اپریل 16:40

اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) ملک میں دہشت گردی کی صورتحال پر قابو پانے میں موجودہ حکومت کی کامیابی سے ملک میں دہشت گردی کے حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں قابل ذکر کمی آئی۔ سال 2017ء کے دوران وفاقی اور صوبائی سطح پر بین الاقوامی کنونشنز کے تحت اقدامات کرتے ہوئے پارلیمنٹ نے 34 قوانین اور دو ایکٹس کی منظوری دی جبکہ صوبائی سطح پر 44 قوانین منظور کئے گئے۔

ملک میں پہلی بار قومی مردم شماری کے دوران مخنثوں کے کوائف جمع کئے گئے اور حکومت نے انہیں پاسپورٹ جاری کیا۔ پیر کو ملک میں 2017ء کے دوران انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی سالانہ رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کے ترجمان اور انسانی حقوق کے لئے سرگرم کارکن آئی اے رحمن نے بتایا کہ پاکستان نے انٹرنیشنل کنونشنز کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے ادائیگی کے سلسلے میں وفاقی سطح پر دو قوانین منظور کئے ان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا ایکٹ اور نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چلڈرن ایکٹ۔

(جاری ہے)

صوبائی قوانین شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتوں میں سال کے پہلے دس ماہ کے دوران چاروں صوبوں میں خواتین کے خلاف تین لاکھ 33 ہزار 103 کیسز زیر التواء ہیں جبکہ پانچ ہزار 660 رپورٹ کئے گئے۔ نومبر 2017ء تک کے اعداد و شمار کے مطابق 82 ہزار 591 قیدی جیلوں میں ہیں جو کہ 2016ء کے 84 ہزار 315 کے مقابلہ میں کم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تمام بچوں کی پرائمری تعلیم تک رسائی 2030 تک جو کہ پائیدار ترقی کے اہداف میں طے کیا گیا ہے، ممکن ہونا مشکل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشہ سالوں میں صحت کے شعبہ میں سرمایہ کاری ہوئی ہے لیکن دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں اس شعبہ میں بہتری کی شرح کم رہی ہے اور عوام کو غذائی کمی کے مسئلہ کا سامنا ہے۔ ایچ آئی وی اور ایڈز اور تھیلیسیمیا کے امراض میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں بڑی عمر کے 35.5 ملین افراد ذیابیطس کے مرض کا شکار ہیں اور ہیپاٹائٹس بھی بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کلائیمٹ چینج ایکٹ 2017ء موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کے اثرات سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز کے تحت منظور کیا گیا ہے۔ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے شدید خطرات سے دوچارممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان پانی کے استعمال کے حوالے سے چوتھے نمبر پر ہے اور پاکستان کونسل برائے تحقیق آبی وسائل نے خبردار کیا ہے کہ 2025 تک پاکستان میں انی کا بحران شدید ہو جائے گا۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق صرف 36 پاکستانی آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل ہے اس میں 41 فیصد شہری اور 32 فیصد دیہی آبادی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سرکاری اندازوں کے مطابق 25 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین ہیں جن میں 14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین شامل ہیں جبکہ کم از کم دس لاکھ ایسے افغان شہری ہیں جو ملک میں کسی دستاویز کے بغیر رہتے ہیں۔