سعودی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے باعث سینکڑوں پاکستانیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی

پیر اپریل 19:54

سعودی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے باعث سینکڑوں پاکستانیوں پر قیامت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) سعودی عرب میں اوجر کنسٹرکشن کمپنی کے سینکڑوں ملازمین کو تاحال ادائیگیاں نہ ہوسکیں، 1200پاکستانی ملازمین گزشتہ دو سال سے پریشان حال ، گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے، متعدد ملازمین ذ ہنی مریض بن گئے۔ دوسال قبل سعودی عرب میں موجود لبنانی وزیر اعظم سعد حراری کی کمپنی اوجر کے ملازمین کو جبری برخاست کرنے پر سعودی حکومت نے ادائیگیاں کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

اورسیز پاکستانی اور وزارت خارجہ ان ملازمین کی حالت سے بے خبر۔ تفصیلات کے مطابق اوجر کنسٹرکشن جو سعودی عرب میں گزشتہ کئی سالوں سے کام کررہی تھی جبکہ جنوری 2016ء میں کمپنی نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے 2800ملازمین کو تنخواہ دینا بند کردیں ۔ ملازمین کے تقاضوں اور احتجا ج کی وجہ سے سعودی وزارت لیبر نے ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کا وعدہ کرکے ملازمین کو معلقہ ممالک کو روانہ کردیا ۔

(جاری ہے)

آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرین کا کہنا تھا کہ اوجر کنسٹرکشن کمپنی نے ان ملازمین کے تقریبا ایک سال کی تنخواہیں اور بیس سے پچیس سال تک کے واجبات اداکرنا باقی ہیں۔جو گزشتہ تین سال سے ادا نہیں کی گئی۔ متاثرین ملازمین کا کہنا ہے کہ کمپنی کی جانب سے کئی سالوں سے ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے چولہے بجھ گئے ہیں۔بعض عمر رسیدہ ملازمین ذہنی مریض بن گئے ہیں ۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سعودی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں، امید جلد پیش رفت ہوگی