بے شک عمران خان کا بنی گالہ گھر گرا دیا جائے، چیف جسٹس کا خصوصی بیان جاری

پیر اپریل 20:11

بے شک عمران خان کا بنی گالہ گھر گرا دیا جائے، چیف جسٹس کا خصوصی بیان ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) چیف جسٹس ثاقب میاں نثار نے کہا ہے کہ میں نے نہیں کہا کہ عمران خان کا گھرریگولرائزکردیں،حکومت کی مرضی ہے چاہے وہ سب کچھ گرا دے،یہ تاثر نہ دیا جائے کہ عدالت نے تعمیرات کو ریگولائز کرنے کا کہا ہے،جس پر وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہم بنی گالہ میں ریگولرائزیشن کررہے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ راول ڈیم کے قریب بنائے گئے شادی ہالز غیر قانونی ہیں،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ دو کلومیٹر کے دائرے میں ہوٹل بن سکتے ہیں تومارکی کیوں نہیں۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سوموار کو عدالت میں غیرقانونی شادی ہال کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی،سی ڈی اے سے نیشنل پارک کا پلان اوراٹارنی جنرل کو 6چھ بجے طلبکرلیا۔

عدالت نے سی ڈی اے افسران کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ میں نے نہیں کہا کہ عمران خان کا گھرریگولرائزکردیں۔جس پر و زیر مملکت کیڈ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہم بنی گالہ میں ریگولرائزیشن کررہے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایاکہ راول ڈیم کے قریب 11 شادی ہالز زون 1میں ہیں ، شادی ہالز کونوٹس دئیے گئے ہیں۔12 شادی ہالز ایسے ہیں جنہیں گرا نہیں سکتے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ نیشنل پارک کی حدود میں شادی ہالزکی گنجائش نہیں۔ممبر سی ڈی اے نے کہا کہ راول شادی ہال نیشنل پارک کی حدود میں ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے والے بھی ملے ہوئے ہیں،سی ڈی اے پارک کا نقشہ دکھا دے ، اگرشادی ہال پارک میں ہوا تورات 12بجے تک مارکی کو ختم کر دیا جائے گا،2 کلومیٹر کے دائرے میں ہوٹل بن سکتے ہیں تو مارکی کیوں نہیں۔

ہوٹل کی سرگرمیاں بھی کمرشل ہوتی ہیں، ہوٹلزاورموٹلزکوکس قانون کے تحت استثنیٰ دیاگیا ، سی ڈی اے حکام ہمیں سمجھا نہیں پارہے، لگتاہے سی ڈی اے حکام خود کنفیوزڈ ہیں۔مارکی کے وکیل نے کہاکہ دوکلومیٹر کے دائرے میں کئی شادی ہالز ہیں ۔ بنی گالہ میں عمران خان کے گھرسمیت تعمیرات غیرقانونی ہیں ۔ عدالت نے بنی گالہ میں تعمیرات ریگولرکرنے کاحکم دیا،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا،ریگولر کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ حکومت کا ہے،حکومت کی مرضی ہے چاہے توسب کچھ گرادے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ایک مرتبہ قانون کی حکمرانی قائم ہوگئی توسب ٹھیک ہوجائے گا،نہ میں کسی کی سرزنش کرتا ہوں نہ غصہ،میڈیا میرے طرف سے بلا وجہ الفاظ چلا کر میری بدنامی کرتا ہی۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments