قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس،لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ دی،

غیر ملکی این جی اوز پر پابندی کے حق میں ہوں ،ْشکیل آفریدی کے کردار سے بین الاقوامی این جی اوز کے کردار کو پرکھا جا سکتا ہے،جسٹس (ر) جاوید اقبال

پیر اپریل 22:48

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس،لاپتہ افراد ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کو بتایا ہے کہ کمیشن کے پاس ایم کیو ایم کارکنان کے 29 کیسز زیر التوا ہیں ، جو 1992 سے 1995 تک کے ہیں ،ْغیر ملکی این جی اوز پر پابندی کے حق میں ہوں ،ْشکیل آفریدی کے کردار سے بین الاقوامی این جی اوز کے کردار کو پرکھا جا سکتا ہے۔

پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس زہرہ ودود فاطمی کی زیر صدارت ہوا۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ دی ۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بتایا کہ کمیشن کو لاپتہ افراد کے 4929 کیسز موصول ہوئے، مارچ 2011 سے فروری 2018 تک کمیشن نے 3219 کیسز نمٹا دئیے، اس وقت کمیشن کے پاس لاپتہ افراد کے 1710 کیسز زیر تحقیقات ہیں، گزشتہ دو سال میں کمیشن کو اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے لاپتہ افراد کی جانب سے بھی 368 کیسز موصول ہوئے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق سندھ سے ہے، اگست 2016 میں کراچی سے 68 لاپتہ افراد کا پتہ لگا لیا گیا ، جو یا جیل میں تھے یا واپس گھر لوٹ چکے تھے۔

(جاری ہے)

جسٹس (ر) جاوید اقبال کے مطابق کراچی سے 368 لاپتہ افراد کیسز میں سے 309 نمٹا دئیے گئے، مئی 2017 میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کے جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے خلاف لاپتہ افراد کے 723 کیسز درج ہوئے، ان میں سے اب 505 نمٹا دئیے گئے ہیں تاہم 218 کیسز کمیشن کے پاس زیر التوا ہیں، ان میں 14 افغان شہریوں کے بھی مقدمات ہیں جو 1982 سے 1986 میں پاکستان سے لاپتہ ہوئے۔