2کروڑ26لاکھ بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے این سی ایچ ڈی کی داخلہ مہم ملک بھر میںجاری ہے، رزینہ عالم خان

حکومتی اقدامات کی وجہ تعلیم کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، چیئرپرسن این سی ایچ ڈی

منگل اپریل 15:35

2کروڑ26لاکھ بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے این سی ایچ ڈی کی داخلہ مہم ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) این سی ایچ ڈی کی چیئرپرسن و سابق سینیٹر رزینہ عالم خان نے کہا ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس سال بھی این سی ایچ ڈی ملک بھر میںیکم اپریل2018ء سے پورے پاکستان میں داخلہ مہم کا آغازکر دیاہے تاکہ جو 2کروڑ26لاکھ سکولوں سے باہر رہنے والے بچوں زیادہ سے زیادہ سکولوں میں لایا جا سکے،یہ ہر شہری کا اوّلین فرض ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو جہالت ،غربت،دہشت گردی، سماجی نا انصافیوں اور صنفی تفاوت سے بچانے کے لیے اس نیک کام میں بھر پور حصہ لیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے این سی ایچ ڈی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رزینہ عالم خان نے کہا کہ حالیہ حکومت نے تعلیم کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ایسے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں جو تعلیم کی بہتری اور اس کی بنیادوں کی مضبوطی کے لئے ضروری تھے۔

(جاری ہے)

انہی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے کہ تعلیم کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور سکولوں سے باہر رہ جانے والے بچوں کی تعداد می25 کروڑ سے کم ہو کر دو کروڑ چھبیس لاکھ ہوگئی ہے۔

اسی طرح نیشنل ایجوکیشن مینجمنٹ سسٹم کی 2015-16 کے مطابق شرح ادخال میں 1فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سکولوں میں داخل ہونے والے لڑکوں کی تعداد 6,155,847 جبکہ لڑکیوں کی تعداد 4,932,915تھی ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اور یہ ہر انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ داخلہ مہم میں بھرپور حصہ لے اور اپنا کردار ادا کرے،یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں۔

رزینہ عالم خان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ44 فیصد بچے جن کی عمریں 5سے 16سال ہیں ، اُن کا سکولوں سے باہر ہونا ایک لمحہ فکریہ ہے اور جو دو کروڑ چھبیس لاکھ سکولوںکو جاتے ہیںان میں سے بھی صرف 32 فیصدہی میٹرک کی سطح تک پہنچ پاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر ادخال 77 فیصداور ان میں سے 32 فیصد تارکین سکول ہیں۔ لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کی زیادہ تعدادسکولوں سے باہر ہے ۔

انہوں نے کہا کہ تمام شراکت داروں کو مل کر ان عوامل کے سدِباب کی کوشش کرنا ہو گی اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو 100فیصد داخلہ کے حصول میں معاون ثابت ہوں۔این سی ایچ ڈی کی داخلہ مہم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح ہر ضلع میں ضلعی تعلیمی انتظامیہ کو این سی ایچ ڈی کی طرف سے اُٹھائے جانے والی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور اُن کے تعاون سے مہم کو تیز اور بہتر بنایا جا گا تا کہ 5سے 9سال کے ہر بچے تک رسائی کو ممکن بناتے ہوئے شرح ادخال کو بڑھایا جا سکے۔

این سی ایچ ڈی کے پروگراموں کے بارے میںبات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد میں 20غیر رسمی سکولوں کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد 10سے 14 سال کے ان بچوں کو تعلیم دینا ہے جو کہ پرائمری تعلیم سے محروم رہ گئے ہیں اور مستقل نظر انداز ہو رہے ہیں۔اس عمر کے بچوں کی تعداد64لاکھ ہے۔انہوں نے کہا کہ این سی ایچ ڈی نی3 سال کا پروجیکٹ بنایا ہے جس کے تحت 3000غیر رسمی سکول بنائے جائیں گے اور اس عمر کے بچوں کو تعلیم دی جائے گی۔

اس سلسلے میں ان بچوں کے لئے خصوصی نصاب بھی تدوین کیا جائے گا جو کہ 3سال کے عرصے میں پرائمری تعلیم کے اہداف کو پورا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں این سی ایچ ڈی کے 5,949فیڈر سکول موجود ہیں، اس کے علاوہ فاٹا ، گلگت بلتستان، آزاد وجموں کشمیر اور اسلام آباد میں 100 مدارس سکول چل رہے ہیں جن کا مقصد بچوں کو پرائمری تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

تعلیمی سال کے ابتدا ہی میں بہت سے بچے داخل ہونے کے بعد سکول چھوڑ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ این سی ایچ ڈی نے سکولوں سے بچوں کے تارکین کے تدارک کے لئے 6اقدامات پر مشتمل ایک طریقہ کاروضع کر رکھا ہے جس پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے ۔ علاوہ ازیں داخلہ مہم کامیاب اور موثر بنانے کے لئے نگرانی کے عمل اور سرگرمیوں کا جائزہ اور جانچ پڑتال کے عمل کو بھی تیز تر کر دیا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوان :