کٹھوعہ میں بچی کی بے حرمتی اور قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرے جا ری

کارگل میں آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کے خلاف ہزاروں افراد کی احتجاجی ریلی

منگل اپریل 16:40

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیرمیںکٹھوعہ کی 8سالہ بچی کی بے حرمتی اور قتل کے خلاف لداخ، جموں اور وادی کشمیرمیں مسلسل احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے پولیس کی طرف سے اس بہیمانہ واقعے کی چارج شیٹ سے منظر عام پر آنیوالی تفصیلات کی اشاعت کے بعد سے وکلاء ،طلباء،تاجروں ،صحافیوں اورسول سوسائٹی کے اراکین سمیت تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرف سے احتجاجی مظاہروں ، جلوس اور مارچ نکالے جارہے ہیں۔

لداخ ریجن کے شہر کارگل میں آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی ریلی نکالی ۔ریلی کا اہتمام اما م خمینی ٹرسٹ نے کیاتھا۔ریلی جامع مسجد کارگل سے شروع ہو ئی اور لال چوک پہنچ کر ختم ہوئی ۔

(جاری ہے)

وادی چناب میں گورنمنٹ ڈگری کالج ڈوڈہ اور بھدروہ کے علاوہ وادی کشمیر کے مختلف کالجو ں کے طلباء سمیت مختلف تعلیمی اداروں کے سینکڑوںطلباء نے ننھی بچی کی عصمت دری اور قتل میں ملوث مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کیلئے احتجاجی مظاہرے کئے ۔

طلباء نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر آصفہ کو انصاف کی فراہمی کے حق میں مطالبات درج تھے ۔ آل لداخ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کشمیر کے زیر اہتمام بھی طلباء و طالبات ریذ یڈنسی روڑسرینگر پر احتجاجی مظاہر ہ کیا اور پریس کالونی میں دھرنادیکر شمعیں روشن کیں۔ایک طالبہ نے اس موقع پر کہاکہ مندر جیسی مقدس مقامات پر بھی اب خواتین محفوظ نہیں ہیں۔

کشمیر یونیورسٹی ، کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ، سینٹرل یونیورسٹی کے نوگام کیمپس ،سی ڈی ہسپتال، فیکلٹی آف ویٹنری سائنسز اینڈ اینیمل ہسبنڈری اور لاکالج سرینگر میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج اسلام آباد ، ہائیر سکینڈر ی سکول پلہالن ، ڈانگر پورہ ہائیرسکینڈری سکول سوپوراور گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج بیروہ بڈگام میں بھی طلباء نے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ۔

پریس انکلیو میں لالچوک کے تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے مجرموں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا۔ تاجروں نے تاریخی گھنٹہ گھر سے پریس کالونی تک مارچ کیا۔ سرینگر میں کشمیر بار ایسو سی ایشن کی طرف سے معصوم بچی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے مارچ کیا گیا۔ وکلاء نے مجرموں کوبچانے میں جموں بار ایسو سی ایشن کی مذمت کی۔ اس موقعہ پر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم نے کھٹوعہ عصمت دری اور قتل کیس میں مجرموں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کھٹوعہ میں کیس کی سماعت کیلئے ماحول سازگار نہیں ہے اور اس مقدمے کو ہائی کورٹ جموں بینچ میں منتقل کیاجائے ۔

بار ایسوسی ایشن اسلام آباد اور بار ایسوسی ایشن گاندربل نے بھی اس گھنائونے جرم کے خلاف مظاہرے کئے ۔ وکلا ء نے اپنے ساتھی وکیل طالب حسین پر حملے کی شدید مذمت کی ۔طالب ہی نے سب سے پہلے متاثرہ بچی کے حق میں مہم چلائی تھی۔ انہوںنے متاثرہ بچی کے وکلاء کے ساتھ ہرقسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ ٹریڈرز ایسو سی ایشن سے وابستہ تاجروں نے بھی سرینگر میں احتجاجی مظاہر ہ کیا۔ پریس کالونی میں صحافیوں نے بھی متاثرہ بچی کے ساتھ یکجہتی کیلئے دھرنا دیااورشمعیںروشن کیں۔

متعلقہ عنوان :