سیاسی جماعت کی عوامی مقبولیت کارکردگی سے مشروط ہے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

مفاد پرست سیاستدانوں سے مایوس عوام اور کارکنوں کیلئے پی ٹی آئی میں شمولیت بہترین آپشن بن چکا ہے،پرویز خٹک

منگل اپریل 19:12

سیاسی جماعت کی عوامی مقبولیت کارکردگی سے مشروط ہے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سیاسی جماعت کی عوامی مقبولیت کارکردگی سے مشروط ہے ۔ تحریک انصاف کی مقبولیت میں اضافے کی بنیادی وجہ بھی عوامی خدمات کے اداروں میں بہتری اور شفافیت ہے ماضی کے حکمرانوں نے اداروں میں کرپشن کو فروغ دیا ، خدمات کی انجام دہی میں ناکام رہے اور اپنی ذات کے حصار سے باہر نہیں نکلے اسلئے اُن کی مقبولیت میں کمی ہوئی ۔

پی ٹی آئی نے عوامی حکمرانی کا اسلوب اور اداروںمیں خدمات کی فراہمی کا کلچر متعارف کرایااور روایتی سیاسی پارٹیوں کو سیاست میںغیر متعلق بنا دیا ہے ۔مفاد پرست سیاستدانوں سے مایوس عوام اور کارکنوں کیلئے پی ٹی آئی میں شمولیت بہترین آپشن بن چکا ہے ان خیالات کا اظہار انہوںنے وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں جنوبی اضلاع سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما نواب توحید حیدر علی زئی اور جے یو آئی ایف کے ضلعی اپوزیشن لیڈراور سابق ٹیکنوکریٹ اُمیدوار شیخ محمد یعقوب کی تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر علی امین گنڈا پور ، ایم پی اے احتشام اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ شیخ محمد یعقوب اور نواب توحیدحیدر علی زئی نے اس موقع پر اپنے خاندانوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی میں نئے شامل ہونے والے رہنمائوں کا خیر مقدم کیا اور کہاکہ پی ٹی آئی کی طرف عوام وخواص کا بڑھتا ہوا رجحان مفاد پرست مافیا کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ہم مفاد پرست سیاسی ٹولے کو سیاست سے باہر کرکے چھوڑیں گے ۔

صوبہ بھر سے لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں بالخصوص جنوبی اضلاع میں پی ٹی آئی عوام کی ہر دل عزیز جماعت بن چکی ہے جبکہ اسکے مقابلے میں جے یو آئی کا مکمل صفایا ہونے لگا ہے یہاں تک کہ علماء بھی مولانا کے طرز عمل سے بد ظن ہو کر پی ٹی آئی میں شامل ہونے لگے ہیں عوام و خواص جے یو آئی اور دیگر مفاد پرست سیاسی جماعتوں سے مایوس ہیں اور عمران خان کو امید کی کرن اور نجات دہندہ سمجھتے ہیں پی ٹی آئی میں شمولیت بہترین آپشن بن چکا ہے انہوںنے کہاکہ صوبائی حکومت کی ڈیلیوری کی وجہ سے عوام مطمئن ہیں اور تبدیلی محسوس کررہے ہیں۔

یہی ہماری کامیابی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہمارے مخالفین کے اپنے مقاصد ہیں جس کی وجہ سے وہ عوامی فلاح کے کام بھی پسند نہیں کرتے اور بے جا پروپیگنڈے میں مصروف رہتے ہیں۔ مخالفین کی نااہلی اور مفاد پرستی کی وجہ سے اُن کو لوگوں نے نکال باہر کیا۔ وہ بدحواسی میں عجیب و غریب قسم کے شوشے چھوڑتے ہیںکیونکہ اُنہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ واحد صوبائی حکومت ہے جس نے سیاست زدہ اداروں کو ٹھیک کرکے ڈیلیوری کے قابل بنایا ۔ سماجی خدمات کے شعبوں اور حکمرانی کے اُمور میں مثبت تبدیلی آچکی ہے ۔ لوگوں کی زیادہ تر شکایات تعلیم ، صحت ، پولیس اورپٹوار خانے سے وابستہ تھیں ۔ ہم نے ترجیحی بنیادوں پر ان شعبوں کا قبلہ درست کرنے کیلئے اقدامات کئے ۔ ہم اپنے اہداف میں کہیں 80 فیصد کہیں 70 فیصد اور کہیں 60 فیصد کامیاب ہوئے ہیں۔

کمی بیشی ضرور ہے تاہم ایک عوام دوست نظام کی بنیاد رکھ دی ہے ۔ مکمل اورسو فیصد تبدیلی کیلئے اصلاحات اور ڈیلیوری کا تسلسل ضروری ہے اور یہی عوام کی ضرورت اور اُس کا مدعا ہے ۔ عوام کے شعور کی سطح بلند ہو چکی ہے اب مفاد پرست مافیا عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتا ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر صوبائی حکومت کے اسلامی اقدامات کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ ایم ایم اے نے اس صوبے میں خالصتاً اسلام کے نام پر حکومت بنائی مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے پانچ سالوں میں اپنے ایجنڈے کے تحت اسلام کیلئے ایک کام بھی نہ کرپائے ۔

اس کے برعکس موجودہ صوبائی حکومت نے اسلامی تعلیمات اور اقدار کے احیاء کیلئے بھی عملی اقدامات کئے ۔ سکولوں میں نصاب کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ختم نبوت ؐ نصاب کا حصہ بنایا ۔ پرائمری کی سطح پر ناظرہ قرآن جبکہ چھٹی سے بارہوویں کلاس تک قرآن بمعہ ترجمہ کو لازمی قرار دیا۔ نجی سود اور غیر شرعی جہیز کے خلاف قانون سازی کی تاکہ معاشرے کے غریب طبقات کے استحصال کی حوصلہ شکنی ہو سکے ۔

علماء کے مطالبے پر یکم محرم الحرام کو چھٹی کی منظوری دی ۔ مساجد کی سولرائزیشن کی جارہی ہے ۔ جامع مساجد کے آئمہ اور اقلیتی برادری کے مذہبی پیشوائوں کیلئے ماہانہ اعزازیہ کی منظوری دی ۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو صوبائی حکومت کی اسلام دوستی کا مظہر ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر نظام کی تبدیلی کیلئے نوجوانوں کے کردار کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے کہاکہ نوجوان تحریک انصاف میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ نوجوان ہی ہیں جنہوںنے عوام کی محرومیوں کے ازالے اور شفاف نظام کے قیام کیلئے تحریک انصاف کی قیادت کا ساتھ دیا۔ صوبائی حکومت نے نوجوانوں کی توقعات کے مطابق حکمرانی کا ایک شفاف سسٹم دیا اور اُس سسٹم کو قانونی تحفظ بھی دیا ۔ ہم نے ایسے قوانین بنائے ہیں کہ اب جو بھی کرپشن کرنے کی کوشش کرے گا تو اُس کے ہاتھ جلیں گے ۔

متعلقہ عنوان :