اسلام آباد ہائیکورٹ نے ماتحت عدلیہ کے ججز کی رہائش گاہیں واپس لینے کا وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا

منگل اپریل 21:34

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملک بھر کی ماتحت عدلیہ کے ججز کی رہائش گاہیں واپس لینے کا وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کا 28 مارچ کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا ہے۔ منگل کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل بینچ نے ماتحت عدلیہ کے 33 ججز کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے وفاقی وزیر ہائوسنگ، سیکرٹری ہاؤسنگ اور اسٹیٹ افسر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔

(جاری ہے)

عدالت نے حکم دیا کہ وزارت ہائوسنگ کا ججز کی رہائش گاہیں واپس لینے کا نوٹیفکیشن بدنیتی پر مبنی ہے، اسلام آباد ضلعی کچہری کے ججز کمرشل ایریا میں عدالتیں لگائے ہوئے ہیں، ججز قانون کے تحت سرکاری رہائشیں رکھنے کے اہل ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ضلعی عدالتوں، اسپیشل کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججز کو ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے بے گھر کیا جا رہا ہے، سرکاری رہائش گاہیں قانون کے مطابق ملی ہیں، کرایہ بھی ادا کر رہے ہیں۔

عدالت نے اسٹیٹ آفیسر کو آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر طلب کر لیا ہے۔عدالت نے وفاقی حکومت، سیکرٹری ہاؤسنگ، سیکشن آفیسر اور اسٹیٹ آفیسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے ۔