ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں رمضان اور ذیابیطس پر سیمینار

منگل اپریل 21:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء)ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی نے کہا ہے کہ رمضان کے با برکت مہینے میں برکتین سمیٹنے کی خواہش رکھنے والے شوگر کے مریضوں کو تین ماہ پہلے سے تیاری کرناچاہیے، خطرات اور احتیاط سے آگاہی حاصل کرنا چاہیے، یہ بات انہوں نے یونیورسٹی کے ذیلی ادارے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ڈایابیٹیس اینڈو کراینا لوجی کے زیرِ اہتمام آگہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی، سیمینار سے انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسرڈاکٹر اختر علی بلوچ، کے علاوہ دیگر ماہرین ڈاکٹر عمر،پروفیسر ڈاکٹر امبرینہ قریشی، ڈاکٹر شاہد، ڈاکٹر احسان، ڈاکٹر زرین کرن اور ڈاکٹر فریدالدین نے بھی خطاب کیا، اس موقع پر شوگر کے مریضوں کے مفت لیباٹری ٹیسٹ، گلوکو میٹر بھی تقسیم کیے گیے۔

(جاری ہے)

پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی نے کہا کہ دنیا میں ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں سے 50ملین روزہ رکھتے ہیں، اور ان میں سے لگ بھگ 10فیصد ذیابطیس کے مریض ہوتے ہیں ، انہوں نے کہاکہ مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ رمضان کے مہینے میں روزہ ضرور رکھے، احتیاط اور خطرات سے آگاہ ہوئے بغیر کسی کو بھی میڈیکل ڈس آرڈر کا سامنا ہوسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ رمضان میں میڈیکل ڈس آرڈر کے واقعات بڑھ جاتے ہیں، پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی نے کہا کہ ہائی رسک شوگر کے مریض کے کسی بھی پیچیدگی کی صورت میں جان بچانے کے لیے دن میں کسی بھی وقت روزہ توڑ کرسکتے ہیں، اس سلسلے علما بھی جان بچانے کی اجازت دیتے ہیں۔

دیگر ماہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خون میں شوگر کی بہت زیادہ کمی یا زیادتی کی صورت میں علماء جان بچانے کی اجازت دی ہے، ماہرین نے رمضان کے روزے کے دوران شوگر کے مریضوں کو درپیش پیچیدگیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہائپو گلاسیمیا کی حد mg/dl 70ہونے اور ہائپر گلاسیمیا 300mg/dlہونے کی صورت میں مریض کو روزہ توڑدینا چاہے، کیونکہ یہ حد جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے، اسکے علاوہ شوگر کے مریض کو جسم میں پانی کی کمی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے، اسلیے شوگر کے مریض دورانِ روزہ سات مرتبہ مختلف اوقات میں شوگر ٹیسٹ کرنا چاہیے، ٹیسٹ کے لیے خون کا نمونہ لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کسی اور پیچیدگی کی صورت میں مذہبی عالم سے رجوع کرنا چاہیے۔

ان ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی رسک مریضوں کو جوشوگر کے علاوہ کسی اور مرض میں بھی مبتلا ہوں ، جیسے گردے کے امراض تو انہیں روزے کی رخصت دی گئی ہے، ایسے مریضوں کو مذہبی علماء کو مشورے سے روزہ نہیں رکھنا چاہے، ماہرین کا کہاہے کہ شوگر کے مریضوں کو رمضان سے پہلے ہی اپنی خوراک کا شیڈول مستند معالج کے مشورے سے بنالینا چاہیے، بہتر یہی ہے کہ وہ روزہ پانی سے کھولیں یا ایک دانہ کھجور استعمال کریں، آلو کے پکوڑے سے سختی سے اجتناب کریں ، البتہ سبزی کے پکوڑے ایک یا دو کھائے جاسکتے ہیں، چینی کے بغیر شربت یعنی سکنجبین بھی لیا جاسکتاہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک شیک کا استعمال نہ کیا جائے، البتہ چاول مٹر کے ساتھ کم مقدار میں کھائے جا سکتے ہیں جبکہ پھلوں کا استعمال بھی تھوڑی مقدار میں کیا جاسکتا ہے۔