اوچھے ہتھکنڈوں سے مذہبی قیادت کو دبایااورجھکایانہیں جاسکتا،مولاناسمیع الحق

سیکورٹی ادارے فوری طورپر چھاپے کا جوازبتائیںاور بلاجواز چھاپے مارنے پر معافی مانگیںاور ساتھ لے جانے والااسلحہ بھی واپس کریں،سربراہ جے یوآئی (س)

بدھ اپریل 16:30

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولاسمیع الحق،سربراہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان ڈاکٹرصاحبزادہ ابوالخیرمحمدزبیر،جماعة الدعوہ کے امیر حافظ سعید،جے یوآئی کے مرکزی رہنما مولاناحامدالحق، مولاناشاہ عبدالعزیز،مولاناسیدیوسف شاہ اور دیگر سیاسی ومذہبی رہنمائوں نے جے یوآئی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری حافظ احمدعلی کی رہائش گاہ پر حساس ادارے کے چھاپے اور چادروچاردیواری کے تقدس کی پامالی کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اوچھے ہتھکنڈوں سے مذہبی قیادت کو دبایااورجھکایانہیں جاسکتا،حافظ احمدعلی کی رہائش گاہ پر اس طرح چھاپاماراگیاجیسے وہ کوئی دہشتگرد یامفرورملزم ہوں۔

انہوں نے کہاکہ حافظ احمدعلی شہرکراچی ہی نہیں ملک بھرکی جانی پہچانی مذہبی شخصیت ہیں،سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے دورمیں یوسی ناظم رہ چکے ہیں، اپنے حلقے سے تمام الیکشنوں میں حصہ لیتے رہے ہیں، اس کے علاوہ بھی ملک میں چلنے والی تحاریک میں انتہائی متحرک اور فعال کرداراداکرتے رہے ہیں،مذہبی ہم آہنگی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے ان کا کردارکسی سے ڈھکاچھپانہیں ہے۔

(جاری ہے)

مذہبی وسیاسی رہنمائوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہاہے کہ حساس اداروں کی خفیہ سرگرمیاں ناقابل فہم ہیں،رات کی تاریکی میںآٹھ سے دس گاڑیوں میں آنے والے درجنوںسادہ لباس اہلکاروںکا ملک کی ایک اہم شخصیت کے گھرمیں گھسنا،چادراورچاردیواری کا تقدس پامال کرنااور جاتے ہوئے سرکاری گن مینوں کا اسلحہ بھی ساتھ لے جاناسمجھ سے بالاترہے۔انہوں نے کہاکہ سیکورٹی ادارے فوری طورپر حافظ احمدعلی کے گھرپر چھاپے کا جوازبتائیںاور بلاجواز چھاپے مارنے پر معافی مانگیںاور ساتھ لے جانے والااسلحہ بھی واپس کریں۔

انہوں نے کہاکہ ملک کی اہم شخصیات کے ساتھ سیکورٹی اداروں کا یہ سلوک ہے تو عام افرادکے ساتھ کیاہوگا۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی اس واقعے کا نوٹس لینے کی درخواست کی۔