وسطی ایشیائی ممالک پاکستان کے لیے اہم منڈی ثابت ہو سکتے ہیں، پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں، ٹیکسٹائل، لیدر، فارماسیئوٹیکل ، سروسز، بنکنگ ، سیاحت، حلال فوڈ اور زراعت کے شعبے میں دو طرفہ تجارت میں اضافہ ممکن ہے

وزیر مملکت رانا محمد افضل کا پاک ازبک نیٹ ورکنگ سیمینار سے خطاب

بدھ اپریل 21:54

راولپنڈی ۔18 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں، ٹیکسٹائل، لیدر، فارماسیئوٹیکل ، سروسز، بنکنگ ، سیاحت، حلال فوڈ اور زراعت کے شعبے میں دو طرفہ تجارت میں اضافہ ممکن ہے، وسطی ایشیائی ممالک پاکستان کے لیے اہم منڈی ثابت ہو سکتے ہیں ،،سی پیک کے باعث تجارتی راہداری میں اضافہ ہو گیا ہے اور کئی ممالک اس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں ۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام پاک ازبک نیٹ ورکنگ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے باعث ریل اور روڈ نیٹ ورک میں اضافہ ہوا ہے ۔وسطی ایشیائی ملکوں ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان کے ساتھ طویل مدتی منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے ازبکستان سے آئے ہوئے تجارتی وفد کو بتایا کہ پاکستان میں بجلی کے منصوبے لگنے سے بجلی کی قلت دور ہو گئی ہے اور ہر سال بجلی کی قیمت میں فی یونٹ ایک روپیہ کمی لائی جا رہی ہے۔

ہائیڈرل ڈیمز کے بننے سے دو روپے یونٹ بجلی میسر آئے گی، آئندہ برسوں میں بجلی وافر اور سستی ہو گی ۔ وزیر مملکت نے راولپنڈی چیمبر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ چیمبر آف کامرس تجارتی روابط بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ چیمبر نے حال ہی میں گوادر میں کانفرنس منعقد کروائی ہے جس میں چالیس سے زائد چیمبرز کے صدور نے شرکت کی اور ہمیں پاکستان میں تجارتی وسعت اور بڑھوتری سے آگاہی ملی ۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیمبر تجارتی سرگرمیوںکے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، ازبکستان کے وزیر تجارت خودیف جمشید جو دس رکنی وفد کے ہمراہ پاکستان آئے ہیں، نے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ازبکستان پاکستان کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کا خواہاں ہے، دو طرفہ تجارتی حجم بہت کم ہے اسے بڑھانے کی ضرورت ہے، ہماری آبادی تین کروڑ سے زائد اور جی ڈی پی دوسو بیس ارب ڈالر سے زیادہ ہے، پاکستان تجارتی مواقعوں سے فائدہ اٹھائے، زرعی مشینری اور ادویات میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔

اس سے پہلے صدر چیمبر زاہد لطیف خان نے راولپنڈی چیمبر کی سرگرمیوں پر مختصر بریفنگ دی اور کہا کہ وسطی ایشیائی ملکوں کی منڈیوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، علاقائی تجارت کو فروغ دے کر ہی پاکستان اپنی معاشی سمت متعین کر سکتا ہے، ابھی حال ہی میں مارگن اسٹنلے نے پاکستان کو فرنٹریئر مارکیٹ سے اٹھا کر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں شمار کیا ہے، پاکستان سٹاک ایکسچینج بھی تیزی کے ساتھ ترقی کر رہی ہے گروپ لیڈر سہیل الطاف نے کہا کہ سیاسی تعلقات کو اقتصادی تعلقات میں بدلنے کی ضرورت ہے حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ازبکستان کے لیے پی آئی اے کی براہ راست پروازیں شروع کرے اور بجٹ میں مراعات دے۔

اس موقع پر ازبکستان چیمبر آف کامرس کے ساتھ ایم او یو پر دستخط بھی کیے گئے ازبکستان کے سفیر فرقت صدیقوف، تاجکستان کے سفیر جنوو شیر علی،، نیپال کی سفیر سیوا لمسل ادیکاری، آذر بایجان کے سفیر علی علیزادے سمیت ازبک وزارت تجارت کے نمائندے بھی موجود تھے۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر خالد فاروق قاضی، گروپ لیڈر سہیل الطاف، ایس ایم نسیم، سابق صدور، مجلس عاملہ کے اراکین و مختلف کمپنیوں کے نمائندوں سمیت چیمبر ممبران بھی شریک تھے ۔