اسلام آباد ، عدالتی حکم پرشہری کی زمین پر فضل الرحمن خلیل کی سربراہی میں درجنوں مسلح افراد کے ہمراہ قبضے کی کوشش کرنے پرملزمان کے خلاف مقدمہ درج

ایس ایچ او تھانہ نون محبوب احمد کی مبینہ پشت پناہی سے کالعدم تنظیم کے سربراہ نے رات کی تاریکی میں شہری کی سینکڑوں کنال اراضی پر اسلح کے زور پر قبضے کی کوشش کی ،درخواست گزار مصور عباسی

بدھ اپریل 22:32

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) وفاقی دارالحکومت میں شہری کی زمین پر سابقہ کالعدم تنظیم کے سربراہ فضل الرحمن خلیل کی سربراہی میں درجنوں مسلح افراد کے ہمراہ قبضے کی کوشش کرنے پر عدالتی حکم پر نون پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ، ایس ایچ او تھانہ نون محبوب احمد کی مبینہ پشت پناہی سے کالعدم تنظیم کے سربراہ نے رات کی تاریکی میں شہری کی سینکڑوں کنال اراضی پر اسلحہ کے زور پر قبضے کی کوشش کی ۔

۔درخواست گزار مصور عباسی نے عدالت میں 22 اے کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ تھانہ نون کی حدود میں 3 اور 4 اپریل کی درمیانی شب مذہبی جماعت انصار الامہ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن خلیل،سید محسن عباس،توقیر شاہ،نور خان اور حاجی گل اسلحہ سے لیس ہو کر اپنے 20 سے 25 ساتھیوں کے ساتھ شہری کی اراضی پر قبضہ کرنے کے لئے پہنچ گئے اور شہری کی سینکڑوں کنال اراضی پر طاقت کے زور سے قبضہ کی کوشش کی تاہم اراضی کے مالک کی جانب سے مزاحمت کے بعد موقع سے اسلحہ و بارود چھوڑ کر فرار ہو گئے ۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کے مطابق اس نے نون پولیس کو مقدمہ کے اندراج کیلئے درخواست دی تاہم تھانہ نون کے ایس ایچ او محبوب احمد کی مبینہ سرپرستی کے باعث دس یوم گزرنے کے بعد بھی متعلقہ پولیس نے کوئی کاروائی نہیں کی تھی ،مایوس ہو کر سائل نے انصاف کے حصول کیلئے عدالت سے رجوع کیا جس پر عدالت نے نون پولیس کو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کیلئے احکامات جاری کئے ہیں ۔

یاد رہے کہ تھانہ نون کے ایس ایچ او پر اس سے قبل بھی زمینوں پر قبضوں کے حوالے سے متعدد الزامات ہیں جس کی انکوائریاں چل رہی ہیں۔ واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمن خلیل اس سے قبل جمیعت الانصار نامی تنظیم کے سربراہ تھے جس کو بین الاقوامی طور پر واچ لسٹ میں شامل کئے جانے کے بعد وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے کالعدم قرار دے کر تمام تر سرگرمیوں سے روک دیا گیا تھا جس کے بعد مولانا فضل الرحمن خلیل نے انصار الامہ کے نام سے تنظیم بنا رکھی ہے۔۔۔۔