لاہور، مجلس احرار اسلام اور تحریک تحفظ ختم نبوت نے ہیومن رائٹس کمیشن کی سالانہ رپورٹ مستر د کر دی

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دیکھنے کا آسان اور اپنا ہی طریقہ ایجاد کرنے والوں کا دوہرا معیار کسی طور پر بھی ’’غیر جانب داری ‘‘ کا عکاس اور مظہر نہیں ہوسکتا،سیکرٹری جنرل مجلس احرار اسلام عبداللطیف خالد چیمہ

بدھ اپریل 23:22

لاہور، مجلس احرار اسلام اور تحریک تحفظ ختم نبوت نے ہیومن رائٹس کمیشن ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) مجلس احرار اسلام پاکستان اور تحریک تحفظ ختم نبوت نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCOP ) کی سالانہ رپورٹ بابت 2017 ء کو مستر د کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دیکھنے کا آسان اور اپنا ہی طریقہ ایجاد کرنے والوں کا دوہرا معیار کسی طور پر بھی ’’غیر جانب داری ‘‘ کا عکاس اور مظہر نہیں ہوسکتا ،مجلس احرار اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مندرجات خصوصاً اقلیتوں کے حوالے سے اِسے یک طرفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ،انہوں نے بی بی سی اردو سمیت تمام نشریاتی اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس حوالے سے دینی جماعتوں کے موقف کو بھی اپنی نشریات میں جگہ دیں ،عبداللطیف خالد چیمہ نے کہا ہے کہ مسنگ پرسن کے حوالے سے سوسائٹی کے تمام طبقات کا ایک ہی موقف ہے کہ بغیر قانونی پراسیس کے اور اندرجات کے مقدمہ کے بغیر کسی کو گرفتار نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی گناہ گار یا بے گناہ افراد کو ماوراء عدالت وقانون لاپتہ کرنے کی کوئی گنجائش ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے یہ کہہ کر کہ ’’ مشرف دور میں چار ہزار پاکستانیوں کو ڈالر لے کر غیر ملکیوں کو حوالے کیا گیا اور مشرف اور شیر پائو کے اقدامات کے خلاف پارلیمنٹ میں آواز نہیں اٹھائی گئی ‘‘ حقیقت حال واضح کردی ہے ،اب پرویز مشرف کو باحفاظت ملک سے باہر بھجوانے اور واپس نہ بلوانے والی قوتیں جواب دیں کہ یہ کونسے قانون کی بالادستی قائم کی جارہی ہے ، انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ ختم نبوت کی قدیم جماعتیں آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی پُر امن جدوجہد کو منظم کرنے کا پورا حق رکھتی ہیں ،اور ہم اس حق کو استعمال بھی کررہے ہیں ،نہ مساعد حالات اور منفی پروپگنڈے کے باوجود تحریک ختم نبوت ملکی وبین الاقوامی سطح پر آگے بڑھ رہی ہے ،جن قوتوں نے قادیانیوں کو شیلٹر دیا ،اُن کی اسلام اور وطن دشمنی میں کو ئی شک ہمیں تو نہیں ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ تحریک ختم نبوت نہ ہائی جیک ہوسکتی ہے اور نہ ہی سبوتاژ ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ تحریک ختم نبوت کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے ، اس سے اس مقدس کاز اور مشن پر حرف آئے گا،جو ہمیں کسی طور بھی گوارا نہیں ۔