گندم کی خریداری مہم کے دوران کسی قسم کی کرپشن کو برداشت نہیں کیا جائے گا، کمشنر فیصل آباد ڈویژن

جمعرات اپریل 14:22

فیصل آباد۔19 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) حکومت نے گندم کے کاشتکاروں، کسانوں،زمینداروں سی1300 روپے فی 40 کلوگرام کے حساب سے گندم کی خرید کیلئے تمام ممکن اقدامات کئے ہیں اور تمام خریداری مراکز پر بھر پور طریقے سے گندم کی خریداری کی جائے گی جبکہ اس مہم کے دوران مڈل مین یا اس قسم کے دیگر عناصر کو کاشتکاروں کا استحصال کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی اور اگرکسی جگہ پر کسی قسم کی غفلت‘ کوتاہی ‘ لاپرواہی یا کرپشن اور انتظامی بے قاعدگی کی اطلاع ملی تو ذمہ داران کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

کمشنر فیصل آباد ڈویژن مومن آغا نے ایک ملاقات کے دوران کہا کہ وہ اچانک مختلف خریداری مراکز کے دورے کر یں گے اور موقع پر موجود کسانوں سے باردانہ اور گندم کی خرید کے بارے میں معلومات حاصل کی جا ئیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ محکمہ مال اور محکمہ خوراک کے متعلقہ حکام پر بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ ان کی جانب سے گندم کی خریداری کے دوران کسی لاپراوہی ‘ غفلت یابے قاعدگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوںنے کہاکہ حکومت ہر سطح پر گندم کی خریداری مہم کے دوران کاشتکاروں سے مکمل رابطہ میں رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اور محکمہ خوراک کی جانب سے گندم کی خرید کیلئے مقررکیاگیا ہدف ہر حال میں پورا کیاجائیگا اور تما م عمل شفاف رکھتے ہوئے حقیقی کسانوں کو تمام ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ کاشتکاروں سے موبائل پر رابطہ بھی یقینی بنایاجائیگا۔

انہوںنے کہاکہ ہر کاشتکار کو 100کلوگرام بوری کیلئے 9 روپے ڈلیوری چارجز بھی ادا کئے جائیں گے۔ انہوںنے بتایاکہ فیصل آباد ضلع میں قائم کئے گئے خریداری مراکز سمیت ڈویژن بھر میں قائم کئے گئے تمام ویٹ پروکیورمنٹ سنٹرز کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی اور کسی کوتاہی یا بے قاعدگی کو برداشت نہیں کیاجائیگا۔ انہوںنے کہاکہ محکمہ خوراک کے حکام کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ باردانہ کے حصول ، واپسی ، گندم کی فروخت ، رقوم کی ادائیگی کے بارے میں معلوماتی بینرز نمایاں مقامات پر آویزاں کئے جائیں اور خریداری سنٹرز پر پارکنگ،سایہ دار جگہ،کرسیوں اور پینے کے پانی کا بندوبست کرنے کے علاوہ لیبر کی تعداد کا ریکارڈ مرتب رکھا جائے۔

کمشنر نے کہا کہ وہ گندم خریداری مہم کے دوران ڈویژن بھر کے خریداری سنٹرز کا اچانک دورہ کریں گے اور اگر کسی سنٹرپر انتظامات میں کمی سامنے آئی تو محکمہ خوراک کے افسران جوابدہ ہوں گے۔انہوں نے خریداری مراکز پر آگ بجھانے کے آلات کی موجودگی کو یقینی بنانے اور لیبر کی اجرت بھی بروقت ادا کرنے کی ہدایت کی ۔

متعلقہ عنوان :